ڈاکٹر مبشر حسن سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر 1971ء میں ڈاکٹر مبشر حسن وفاقی وزیر خزانہ بنے تو مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی عرف ٹائیگر کو ہتھیار ڈالے اور پاک بھارت جنگ ختم ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا۔ ہوائی حملے کی صورت میں پناہ کے لئے سرکاری اعلان کے مطابق گھر کے صحن میں کھودا گیا مورچہ ابھی تک موجود تھا۔ مشرقی پاکستان میں جنگی قیدی بننے والے فوجیوں میں ہمارے ایک عزیز بھی تھے جن کے بارے افرادِ خانہ فکر مند تھے۔ ریڈیو پاکستان پر سامعین کا لہو گرماتے ترانوں اور دشمن کے دانت کھٹا کرنے کی خبروں کی جگہ سیاسی تبصروں نے لے لی تھی۔ گھر کے بڑوں نے ہدایت کر رکھی تھی کہ ریڈیو آکاش وانی نہ لگا یا جائے، مبادا کوئی کے شکایت کر دے۔ البتہ بی بی سی لندن باقاعدگی سے سنا جاتا تھا۔

ضلع ملتان کی تحصیل خانیوال کامضافاتی ماحول تھا۔ راقم پانچویں جماعت کاطالب علم۔ گرد و پیش کے حالات سے دل چسپی پیدا ہونا فطری بات تھی۔ ریڈیو کے بعد معلومات کا ذریعہ کبھی کبھار اخبار اور گھر میں آنے والے رسائل تھے۔ الماری میں 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے سرکاری بیانیے کو آگے بڑھاتی ایک کتاب ”رن کچھ سے چونڈا تک“ موجود تھی جو بہن بھائیوں میں بحث کا حوالہ بنتی۔

چند ماہ بعد ہائی اسکول کی پڑھائی شروع ہوئی تو مشرقی پاکستان کا جغرافیہ، صنعتیں وغیرہ تو ایک سال تک نصاب میں شامل تھیں۔ واقفیت عامہ کے مضمون میں نئی حکومت، کابینہ کے وزرا وغیرہ کے نام بھی یاد کیے تو معلومات کا سلسلہ آگے بڑھا۔ اسکول کے زمانے میں طلبا کو کارڈ جاری کیے گئے تو بسوں اور ریل میں سفر کو سستا ہو گیا۔ ہمیں حکومت کی یہ بات اچھی لگی لیکن 1975ء میں نویں جماعت تک آتے اسلامیات لازمی مضمون بن گیا جو ہمیں خاصا مشکل لگا۔ 1976ء میں بھٹو صاحب جلسے کے لئے میاں چنوں شہر آئے تو ان کا استقبال کرنے والے اسکول بینڈ میں راقم بھی شامل تھا۔ یوں بھٹو صاحب کو پچاس، ساٹھ فٹ کے فاصلے سے سننے اور دیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے پیش تر ان کی تقاریر ریڈیو پر سنی تھیں۔

ٹیلی وژن پر 1977ء کے زمانے کی بھٹو صاحب کی وہ تقریر بھی ذہن پر نقش ہے جس میں انہوں نے کرسی کی ٹیک پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ ”ذوالفقار علی بھٹو کم زور ہو سکتا ہے مگر یہ کرسی مضبوط ہے“۔ اس تقریر کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کو معزول کر کے مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ جب بھی کوئی مقتدر اس طر ح کی بات کرتا ہے تو بھٹو صاحب کی تقریر کے الفاظ اور ان کا انجام یاد آ جاتا ہے۔

بڑے بھائی خورشید جیکب ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان اور ان کی جماعت تحریک استقلال کے حامی تھے۔ اصغر خان اپوزیشن کے ان راہنماؤں میں شامل تھے جو بھٹو صاحب کی زیادتیوں کا شکار ہوئے۔ لہذا بھٹو حکومت کے تاریک گوشے اور ان پر ہونے والی تنقید بھی ہمارے سامنے آتی۔ شاید اسی وجہ سے راقم کی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہم دردی اور ان کی قیادت کے ماڈل میں دل چسپی تب ہوئی جب انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اقتدار کے کھیل کی سمجھ بوجھ اور سیاسی معاملات کے بارے میں اپنی رائے قائم ہونا بعد میں ممکن ہوا۔

ڈاکٹر مبشر حسن نے وزیر خزانہ کے طور پر تقریباً تین سال (1971۔ 1974) کام کیا۔ اس دور میں تربیلا ڈیم پر کچھ کام ہو رہا تھا۔ سولِ انجینئر اور پاکستان کے اس شعبے میں پہلے پی ایچ ڈی اسکالر تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے میں کچھ تبدیلیاں کیں جن سے مقامی وسائل کو استعمال کر کے لاگت کم ہوئی۔ ممکن ہے کچھ حلقوں کو ان کی ایسی باتیں پسند نہ آئی ہوں۔ وہ ایک اور واقعہ کا ذکر کیا کرتے تھے، جب انہوں نے وزیر اعظم بھٹو کے زیر استعمال فون سے وہ خفیہ آلہ بر آمد کر کے بھٹو صاحب کو دکھایا جس سے ان کی باتیں سنی اور ریکارڈ کی جاسکتی تھیں۔ ان کے بقول بھٹو صاحب نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا، ”یہ میرے ساتھ بھی ایسا کرتے ہیں“۔

وزارتِ خزانہ (1974۔ 1971) سے سبک دوش ہونے کے بعدڈاکٹر صاحب کو پاکستان پیپلز پارٹی کا جنرل سیکرٹری اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ کا انچارج بنا دیا گیا۔ پیپلزپارٹی شہید بھٹو گروپ پنجاب کے سیکرٹری معظم اقبال کی بات میں وزن ہے کہ بھٹو صاحب ڈاکٹر مبشر حسن پر بے حد اعتماد کرتے تھے۔ اسی لیے بھٹو صاحب نے اپوزیشن (پی این اے) کے احتجاج کے بعد ہونے مذاکرات میں ڈاکٹر صاحب کو شامل کیا تھا۔ لیکن اچانک اپریل 1977ء میں ڈاکٹر صاحب نے پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

وقت نازک تھا اور کچھ مہینوں کے بعد مارشل لا نافذ ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کو قید و بند کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ان کی وفاداری بھی رہی لیکن پیپلز پارٹی کے مرکزی دھارے میں واپس نہ آ سکے۔ جس سے پاکستان کی سیاست کو بے حد نقصان ہوا۔ سماجی تحرک اس اجتماعی نقصان کا بدل تو نہیں ہو سکتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب نے سماجی فعالیت کے میدان میں کچھ بامعنی تجربے کیے ۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کا کو ئی دھڑا تشکیل نہیں دیا۔ ناہی کسی نگران حکومت کا حصہ بننے کی غلطی کی۔ ( شہید بھٹو گروپ میں انہوں نے باقاعدہ شمولیت مرتضے بھٹو کے قتل کے بعد اختیار کی)۔

شخصی خوبیوں اور دیانت دار ی کے ساتھ سیاسی راہنما کے طور پر ان کی ذات کچھ نادر خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ علمی گہرائی اور فراست، وہ اعلی پائے کے منتظم تھے۔ موقف پر ڈٹ کر بات کرنا، عوام کی فلاح و ترقی، جمہوری اقدار ان کی اولین ترجیح تھے۔ ان کا زمینی عوامی طرز زندگی ان کے آدرش کا آئینہ دار تھا۔

1984ء میں جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے کئی پلیٹ فارم تشکیل دیے۔ آزاد پاکستان کے نام سے تحقیق و تدوین کا کام شروع ہوا۔ جس میں آئی اے رحمان، شاہد کاردار، حسین نقی، محمود مرزا جیسے نابغہ روزگار شامل ہوئے۔ آزاد پاکستان میں تحقیقی مقالے لکھے جاتے، اسٹڈی سیشن ہوتے تھے۔ پھر دوست پبلیکیشنز کے نام سے اشاعتی کام شروع ہوا تو کئی مقالے خود تحریر کیے ۔ 1985ء سے 1995ء کے دوران میں راقم کا لاہور آنا جانا ہوتا، تو کسیِ نا کسی فورم پر ان سے ملاقات ہو جاتی اور ان کی فکر و تدبیر سے خوشہ چینی کا موقع مل جاتا۔

1988ء میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بنیادپڑی تو اس کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ اس وقت پاکستان بھر کے کارکنوں اور دانشوروں نے اس حقیقت کو بھانپ لیا تھا کہ اگر پیسے والوں کے تسلط اور سرکاری بالا دستی کے باعث سیاسی جماعتوں میں کام مشکل ہو گیا تو پھر سماجی تبدیلی کے لئے عوامی اور رضا کار تنظیموں کے امکان کو آزمایا جائے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے ماڈل میں البتہ سیاسی عمل سے مکمل علاحدگی یا دوری کبھی نہیں دیکھی گئی۔

اسی اور نوے کی دہایوں میں جب پجارو اور لینڈکروزر کی نمود و نمائش سیاسی کلچر کا حصہ بن چکی تھی، لاہور کی سڑکوں پر پرانے ماڈل کی فوکسی کار (Volkswagen) خود چلاتے مبشر حسن عوامی مفاد کے کاموں میں سرگرم نظر آتے تو پاکستان کے اس سابق وزیرِ خزانہ کا قول و فعل منفرد دکھائی دیتا۔ ڈاکٹر صاحب خوش حال مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا سادہ طرز ِ زندگی اپنے نظریات سے وفاداری اور ورکنگ کلاس سے یک جہتی کا عملی اظہار تھا۔ (پاک انڈیا فورم کے سیکرٹری کامران اسلام بتاتے ہیں کہ رحلت سے کوئی دو سال پہلے یہ گاڑی مرمت کے لئے کسی مکینک کو دی مگر وہ مکینک کا نام پتا بھول گئے تھے)۔

ان کی سیاسی فکر اور ترجیحات میں اقتدار کی عوام تک منتقلی کو مرکزیت حاصل تھی۔ وہ نو آبادیاتی دور سے قائم انتظامی ڈھانچے کو عوام کے تابع کرنا چاہتے تھے۔ بقول معظم اقبال مشرف دور میں متعارف کروائے گئے لوکل گورنمنٹ سے خوش نہیں تھے۔ ان کا خیا ل تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کو مقامی نمایندوں کے ماتحت کیے بغیر یہ نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں آنے والی منتخب حکومتوں کو اقتدار کی اس جتنی منتقلی بھی گوارا نہیں ہوئی، جتنی اس نظام میں لائی گئی۔

ڈاکٹر صاحب کے اسلوبِ زندگی میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ ٹیلی فون خود سنتے یا ان کی اہلیہ ڈاکٹر زینت۔ ملاقات کا وقت دیتے تو نوٹ کر لیتے۔ مہمانوں کا استقبال خود کرتے۔ ڈرائنگ روم سادہ جس میں ان کی بنائی ہوئی پرندوں کی تصاویر تھیں۔ چائے پانی سے تواضع کرتے اور انداز گفتگو دوستانہ ہوتا۔ انہوں نے سیاست میں مروج جاگیردارانہ مزاج کی کسی چیز کو اپنے معمولات کا حصہ نہیں بننے دیا۔

گھر پر کھلے پائنچوں والا پاجامہ اور کرتا پہنتے اور مجلسوں میں سفاری یا کوٹ پینٹ۔ گھر پر ملاقات کرنے والوں کے لئے کسی خاص پروٹوکول کی ضرورت نہ تھی، حتی کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کی جائے پیدائش کہلانے والی ان کی سکونت گاہ واقع گلبرگ میں سیکورٹی کے پیش نظرپولیس نے خیمہ چوکی قائم کر رکھی تھی۔ دوست احباب کو آنے جانے میں کسی دِقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ٹمپل روڈ والی کوٹھی مستقل عوامی سرگرمیوں کے لئے دے رکھی تھی۔ جو آزاد پاکستان، دوست پبلیکشنز اور پھر پاک انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیمو کریسی کا دفتر رہی۔

1994ء میں جب ڈاکٹر صاحب، آئی اے رحمان اور عاصمہ جہانگیر، کرامت علی کے ایما پر پاک انڈیا فورم کے مشترک کنوینشن کا آغاز ہوا تو راقم اس کا ممبر بنا۔ لاہور، دہلی، کولکتہ اور کراچی کے کنوینشنز میں شرکت سے ڈاکٹر صاحب کی حکمت عملی اور سماجی فعالیت کے انداز کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے مسلسل کوشش کے ساتھ اس فورم کی سر گرمیوں کا انعقاد مقامی وسائل کے ساتھ ممکن بنایا۔ بھارت، پاکستان یا کسی اورجگہ سے، شرکت کرنے والہ ہر ممبر اپنا کرایہ جیب سے ادا کرتا، جب کہ کنوینشن میں قیام  کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے حکومتی اور کاروباری حلقوں کو کہا جاتا۔

اگرچہ حکومتی تعاون کی مثالیں کم تھیں مگر سوال یہ تھا کہ دونوں ملکوں کے عوام کی دوستی اتنی مشکل نہیں جتنی رکاوٹ حکومتوں کی طرف سے ہے تو عوامی مکالمے (People to People Dialogue) کی اونر شپ میں اگر میزبان ملک کی حکومت بھی شامل ہو جائے تو ملکوں کے درمیان دوستی کی منزل قریب تر ہو جائے گی۔

ڈاکٹر صاحب کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ سماجی تبدیلی کے کام میں مقامی وسائل پر انحصار کرنا ضروری ہے۔ یہاں یہ اقرار ضروری ہے کہ اپنے سیاق کے پیش نظر راقم اس خیال کا حامی ہے کہ انسانی حقوق کے فروغ کے لئے بین الاقوامی اداروں کا تعاون حاصل کرنا، نا صرف ایک ضرور ت بلکہ بین الاقوامیت کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے لازمی ہے۔ البتہ ڈاکٹر صاحب کے ماڈل سے ہم نے یہ اخذ کیا کہ اگر مقاصد اور ذرائع قانون کے دائرے اور وسائل کا استعمال درست ہو تو بین الاقوامی امداد شجرِ ممنوع نہیں۔ اسے چاہے عملیت پسندی کہیے لیکن یہ اپروچ خود انحصاری کے مقصد سے متصادم نہیں۔ بین الاقوامی فنڈنگ کے ساتھ کا م میں خود انحصاری کے کام یاب تجربات کی مثالیں موجود ہیں۔ ڈاکڑ مبشر حسن اس مو قف کو بھی سمجھتے تھے۔

1999ء میں راقم پنجاب میں کھیت مزدورں کے حالت کار پر ایک تحقیق کے سلسلہ میں ڈاکٹر مبشر سے راہ نمائی حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس گیا تو بہت حوصلہ افزائی کی۔ ان دنوں وہ لاہور میں کچی آبادیوں میں مکینوں کے مالکانہ حقوق پر کام کر رہے تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ جنرل جاوید اشرف قاضی ریلوے کے وزیر بنے تو ریلوے کی زمینوں پر آباد کاروں کی بے دخلی کا کام شروع ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے کچی آبادیوں کے مکینوں کو آرگنائز کر کے بے دخلیوں کی مزاحمت شروع کر رکھی تھی۔ شہری کچی آبادیوں کی حیثیت الگ لیکن 1987ء میں ایک کچی آبادی ایکٹ پاس ہو چکا تھا جس کے تحت انتظامیہ دیہات کی خالی زمین (شاملات) میں ہر بے زمین خاندان کو سکونت کے لئے ساڑھے تین مرلہ زمین الاٹ ہو سکتی تھی۔

ڈاکٹرصاحب کی رائے تھی کہ اس ایکٹ پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کی جائے۔ یقینا اس تجویز سے محروم طبقہ کے حقوق کی ایک تحریک بن سکتی تھی لیکن سر دست اس پر کام مشکل لگا کیوں کہ راقم ان دنوں مخلوط انتخابات کی بحالی کی مہم میں ایک بڑی ذمہ داری لے چکا تھا۔ گزشتہ 25 سالوں میں پاکستان میں سیاسی سماجی ماحول مسلسل حقوق کی تحریکوں کے لئے ناساز گار تر ہو گیا اور ریاستی مشینری کی عدم برداشت میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ ماننا پڑے گا کہ مزدورخود اپنے لئے ایسے مسائل پیدا کر چکے تھے جو ان کی مدد کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ پنجاب میں بھٹہ مزدوروں اور سندھ میں جبری ہاریوں کی تحریک کے حوالہ سے مشکلات کا ادراک بھی تھا۔ شکیل پٹھان کو گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ بعد ازاں انجمن مزارعین پنجاب کو جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اس سے یوں لگا کہ خدشات بے جواز نہیں تھے۔

واقفانِ احوال ڈاکٹر صاحب کی تنظیم سازی اور انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے کئی نئے پلیٹ فارم تشکیل دیے اور انہیں کامیابی سے چلایا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی پنجاب خصوصاً لاہور میں کامیابی کے پیچھے ڈاکٹر مبشر حسن کی تنظیم سازی کی صلاحیتوں کا عمل دخل تھا۔

2001ء میں ڈیموکریٹک کمشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے فورم سے پاکستان کا ایک انسانی حقوق کا چارٹر بنانے کا کام شروع ہوا جس پاکستان میں انسانی حقوق کے تمام شعبوں اور صوبوں سے نمائیدگی موجود تھی۔ عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان، فخر الدین جی ابراہیم، خالد احمد، اقبال حیدر، افراسیاب خٹک، پی کے شاہانی، طاہر احمد خان، شاہ محمد مری اور حنا جیلانی جیسے تمام بڑے شامل تھے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے حقِ نجی جائیداد کے سوال پر یہ موقف اختیار کیا کہ ریاست کو نجی ملکیت کے حق میں مداخلت کا حق ہونا چایے۔ یہ موقف درحقیقت اشتراکی نظام کی چھاپ تھی جو ان کے افکار پر قائم رہی لیکن انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون میں اس حق کے تسلیم شدہ ہونے کے ناتے سے اکثر اکابرین ان کے اس نکتے پر ڈاکٹر صاحب سے اتفاق نہ کر پائے۔

وجاہت مسعود کی رائے میں بحیثیت ایک ذمہ داری شہری اور فعال دانشور، ڈاکٹر صاحب کا کنڑیبیوشن اقدار کا ایسا نمونہ پیش کرتا ہے جو کسی معاشرے کا اعلی ترین معیار کہلاتا ہے۔ وہ حقیقت اور عمل پسند ہونے کے ساتھ انقلابی سوچ کے حامل اور مثالیت پسند رحجان کے مالک تھے۔

مشرف دور میں کرپشن کے سیاسی مقدمات کو واپس لینے کے قانون کو نیشنل ریکنسلی ایشن آرڈیننس (این۔ آر۔ او) کا نام دیا گیا۔ بے شک اس بہتی گنگا میں ہزاروں کاروباری لوگوں اور سرکاری افسروں نے بھی ہاتھ دھو رکھے تھے لیکن بالخصوص پیپلز پارٹی کی قیادت کی وطن واپسی این۔ آر۔ او۔ کے بعد ممکن ہوئی تھی۔ آصف زرداری بغیر جرم ثابت ہوئے گیارہ برس جیل کاٹ چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو کا قتل ہو چکا تھا اور آصف زرداری صدرِ پاکستان بھی بن چکے تھے۔

ڈاکٹر صاحب نے این۔ آر۔ او کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو اس عدالتی مہم کو جو بے شک نیک نیتی پر مبنی تھی درست فیصلہ خیال نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ اقتدار کا کھیل میں استعمال کرنے والوں نے ریاستی اداروں کو من مرضی کے فیصلے کرنے پر لگا رکھا تھا۔ سپریم کورٹ میں درخواست کا فیصلہ اور نتیجہ سیاسی قوتوں کے حق میں نہیں نکلا۔ اس تجربے سے یہ سیکھا جاسکتا ہے کہ انصاف کے مقاصد یک طرفہ جواب دہی سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ اور اگر اس بات کا خطرہ ہو کہ کڑے احتساب کا نتیجہ سیاسی عمل کے کنٹرول کی طرف جائے گا تو اس سے پر ہیز بہتر۔

مبشر حسن کا نام پانے والی زندگی جس نے 1922ء میں پانی پت (ہریانہ) میں آنکھ کھولی اور 2020ء میں لاہور آسودہ خاک ہوئی اس نے کئی سماجی تجربے، مداحوں اور یادوں کے ساتھ کئی قابلِ تقلید روایات چھوڑی ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد 2003ء میں جب دونوں ملکوں میں کشیدگی انتہا پرتھی۔ پاک انڈیا فورم کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کشیدگی کو کم کرنے اور حکومتوں کو بات چیت پر آمادہ کرنے کے لیے واہگہ بارڈر کے دونوں طرف شمعیں روشن کی جائیں گی۔ ادھردونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے پر بندوقیں تانے بیٹھی تھیں۔ بارڈر سے متصل علاقے سرشام بند کر دیے جاتے تھے۔ لہذا اکثر شرکا کو روک دیا گیا۔

عاصمہ جہانگیر، تنویر جہاں اور ڈاکڑ مبشر حسن کی قیادت میں ایک مختصر قافلہ واہگہ بارڈر کی طرف مارچ کر تا پہنچ گیا۔ یہ بات کمانڈر کو پسند نہیں آئی۔ عاصمہ جہانگیر کہ نڈر تھیں آگے بڑھیں تو گالیوں سے استقبال کیا گیا لیکن ڈاکٹر صاحب کو مگر احتراماً کمانڈر نے اونچی آواز میں صرف یہ کہا ”سر آگے مت بڑھیں ورنہ مجھے گولی چلانے کا آرڈر دینا پڑے گا“۔ افسر کو کیا پتا تھا کہ جواب میں وہ جملہ ادا ہو گا جو تاریخ کا سنہری سبق ہے۔

ڈاکٹر مبشر نے کہا ”دیکھ تو لیا گولیاں چلا کے۔ کوئی مسئلہ حل ہوا؟ اب ہمیں دماغ استعمال کرنے دو“۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کی عورتوں اور مردوں نے قیام امن کے لیے مہم چلائی۔ ایک ماہ بعد جنگ کے بادل چھٹ گئے۔ سیز فائر معاہدہ ہو گیا۔ فوجیں (جہاں ممکن تھا ) بارکوں میں واپس چلی گئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “ڈاکٹر مبشر حسن سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟

Leave a Reply