خیرات کرنے والے کو ”لوٹنے والوں“ کی ویڈیو کا ڈراپ سین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈی آئی جی آپریشن لاہور رائے بابر سعید نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو ڈالی ہے جس میں ایک صاحب یہ کہہ رہے ہیں : ”میں نے نو اپریل کو ویڈیو ڈالی تھی جس میں بتایا تھا کہ کچھ افراد میرے پیچھے لگے تھے انہوں نے میرا کافی لمبے راستے تعاقب کیا تھا۔ پھر ایک جگہ مجھے لگا کہ جیسے انہوں نے مجھے گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ اور پھر مجھے ان کو بھگانا پڑا ایک فائر کر کے۔ “

”یہ ویڈیو بہت ساری جگہوں پر گئی ہو گی۔ اس پر میرے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا کہ اس پر لاہور پولیس نے کام کیا اور چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ان لوگوں کو ٹریس کیا، ان کو پکڑا اور ان سے تفتیش کی۔ تفتیش کی تو ان لوگوں کا موقف یہ تھا کہ جی ہم تو مزدور ہیں، اور ہمیں یہ لگا تھا کہ یہ صاحب کچھ خیرات کریں گے، ہمیں کچھ دیں گے پیسے وغیرہ تو اس لیے ہم اتنی دور تک ان کے پیچھے آئے۔ “

”یہ ان کا موقف ہے لیکن مجھے یہ لگا تھا کہ وہ مجھے لوٹنے کے لیے آ رہے ہیں۔ اس لیے میں نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ اپنی حفاظت کریں۔ جو چیز مجھے معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت نے لوگوں کو جگہ جگہ چیرٹی کرنے سے منع کیا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ آپ نے کچھ راہ خدا میں دینا ہے تو آپ اپنے علاقے کے تھانے سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کو سکیورٹی بھی دیں اور جگہ بھی بتائیں جہاں آپ نے خیرات کرنی ہے اور جو بھی لوگوں میں بانٹنا ہے۔ “

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رائے بابر سعید نے کہا ہے کہ ”لاہور پولیس نے اس شخص کو شناخت کر لیا ہے جس نے یہ ویڈیو بنائی تھی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ چند موٹرسائیکل سواروں نے اس کا گارڈن ٹاؤن سے اللہ ہو چوک تک لوٹ مار کرنے کی نیت سے تعاقب کیا تھا۔ پولیس نے وہ ویڈیو تلاش کر لی ہے جو بتاتی ہے کہ یہ واقعہ کس طرح پیش آیا تھا اور اس نے جارحانہ انداز اختیار کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ “

”ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ غیر مسلح بیروزگار مزدور تھے جو راشن تلاش کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کار میں موجود شخص انہیں راشن کے پیکیج دے گا کیوں کہ اس نے ان سے مڑیاں سٹاپ پر بات کی تھی۔ “

”دوسری طرف ویڈیو میں موجود شخص (جو کار میں سوار تھا) یہ سمجھا کہ وہ لوگ اس کا بری نیت سے تعاقب کر رہے ہیں۔ اس نے درحقیقت ان موٹرسائیکل سواروں پر فائر کیا تھا اور یہ محض ان کی اچھی قسمت تھی کہ کوئی زخمی نہیں ہوا۔ یہ معاملہ کار سوار کے اوسان گنوا بیٹھنے اور پریشانی اور فریقین میں بات کے غلط نتائج نکالنے کا شاخشانہ لگتا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج سے بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *