زید حامد صاحب پاکستان پر باہر سے حملہ مانگتے ہیں



بیمار ہونے کے جو بہت سے نقصانات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر ملنے والا آپ کو کوئی نہ کوئی مجرب نسخہ بتانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اسی طرح جب کسی ملک کے حالات خراب ہوں تو ہر شخص طبیب حاذق کا روپ دھار لیتا ہے اور بغیر کسی فیس کے ان حالات کو درست کرنے کا تیر بہدف نسخہ قوم کو ضرور بتاتا ہے۔ اور بستر پر لیٹی ہوئی بیچاری قوم یہ نسخے سننے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

دو ماہ قبل جب پاکستان سمیت پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی تیاری کر رہی تھی تو ایک ویڈیو سامنے آئی۔ یہ ویڈیو ایک طویل انٹرویو تھا۔ یہ انٹرویو لینے والے پاکستان کے سابق سفارتکار عبد الباسط صاحب تھے۔ یہ صاحب بھارت اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ اور حالات حاضرہ کے بہت سے ٹی وی پروگراموں میں اپنی آراء کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جو دوران ملازمت کچھ نہ بھی کر سکیں تو ریٹائر منٹ کے بعد تہلکہ خیز انکشافات ضرور کرتے ہیں۔

اور انٹرویو دینے والے زید حامد صاحب تھے۔ زید حامد صاحب بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں اور پاکستان میں اپنی تنظیم چلا رہے ہیں۔ زید حامد صاحب کے نظریات اور ان کے سابقہ بیانات بھی بہت سی بحثوں کو جنم دے چکے ہیں۔ بلکہ بعض انٹرویو تو انہوں نے اس طرح بھی دیے ہیں کہ پیچھے ایک بندوق دیوار سے ٹیک لگا کر حکم کی منتظر کھڑی تھی تا کہ دنیا کو پتہ چلے کہ موصوف کسی جنگجو گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔

ہر انٹرویو کا ایک بنیادی خیال ہوتا ہے۔ اور عبد الباسط صاحب نے ایک قسط کے آغاز میں ہی علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ کر اس بنیادی نظریے کو واضح کر دیا۔

تیرے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے


اور زید حامد صاحب نے بھی اس انٹرویو میں بار بار زور دے کر یہ نکتہ بیان کیا کہ پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں غیرت نہیں ہے۔ ہمارے میں مرد غیور اور مرد آزاد موجود نہیں ہیں۔ ہم بالکل بے غیرت ہو چکے ہیں۔ اور فرمایا کہ ہم تو اس بات کی طاقت رکھتے ہیں کہ نہ صرف بھارت کو سیدھا کر دیں بلکہ امریکہ اور چین کا بھی ٹینٹوا دبا سکتے ہیں۔ ہم تو دنیا کو شہ رگ سے پکڑ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے جنرل ضیا صاحب کی تعریف کی کہ انہوں نے چین کے مظلوم مسلمانوں کو سہولیات دی تھیں۔ اب ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟

بہر حال اس انٹرویو میں ملک کے تمام سیاسی نظام کا مفصل جائزہ لیا گیا۔ ایک ایک سیاسی پارٹی کا نام لے کر اسے دشمن کا آلہ کار قرار دیا گیا۔ نواز شریف بھی دھوکہ دے چکے ہیں، زرداری بھی دھوکہ دے چکے ہیں۔ اور رہی ایم کیو ایم تو وہ تو ہے ہی بھارت کی آلہ کار۔

رہے عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی تو ان سے شکوہ یہ تھا کہ جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیث ختم کی تو انہوں نے اس کا فائدہ اُٹھا کر فوری طور پر مقبوضہ کشمیر پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ اتنا اچھا موقع تھا جنگ کرنے کا۔ البتہ فی الحال افغان طالبان کو فوری طور پر تسلیم کر لینا چاہیے کیونکہ افغان طالبان بہت سمجھدار لوگ ہیں۔

بہر حال مسئلہ یہ تھا کہ اب کیا کرنا ہے؟ اس پر ان دونوں حاذق طبیبوں کا نسخہ یہی تھا کہ پارلیمانی نظام تو ناکام ہو چکا بلکہ گل سڑ بھی گیا۔ اب عمران خان صاحب کے پاس یہی راستہ ہے کہ وہ فوج اور عدلیہ کو اعتماد میں لے کر ملک میں ریفرنڈم کرائیں اور ملک میں صدارتی نظام نافذ کیا جا سکے۔ یہ ذکر کرنا وہ بھول گئے کہ جب پہلی مرتبہ دس سال ملک میں صدارتی نظام رہا تو ملک ٹوٹ گیا اور دوسری مرتبہ ضیاء صاحب کے زمانے میں صدارتی نظام نافذ رہا۔ یہ دور کیسا تھا؟ وہ سب جانتے ہیں۔

یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی رو سے وزیرا عظم اگر کسی مسئلہ پر ریفرنڈم کی ضرورت محسوس کرے تو اس معاملہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں بھجواتا ہے۔ اگر یہ اجلاس اس کی اجازت دے تو پارلیمنٹ ہی اس کا طریقہ طے کرتی ہے۔ آئین میں عدلیہ یا فوج سے مشورہ کر کے زبردستی ریفرنڈم کرانے کا ذکر ہی کوئی نہیں ہے۔ ویسے تو اس انٹرویو میں ہر ایک کو کمال فراخدلی سے غدار قرار دیا جا رہا تھا لیکن پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سنگین غداری ہے کیا؟

آئین کی شق 6 کی رو سے جو شخص طاقت یا کسی اور غیر آئینی ذریعہ سے دستور کو منسوخ کرے یا اس کی کوشش کرے یا اس کوشش میں مدد کرے وہ سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ اس رو سے اگر کوئی غداری کا مرتکب ہو رہا ہے تو پھر یہ دونوں صاحبان ہو رہے ہیں جو غیر آئینی طریق سے دستور کو ختم کر نے کا اعلان کر رہے تھے۔ اس کا اعلاج بھی ان کے پاس تھا۔ زید حامد صاحب نے کہا کہ ہمیں آئین کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آئین تو ہوتا ہی غلاموں کے لئے ہے۔

ہمیں آئین کے بغیر ہی کام کرنا چاہیے۔ یعنی امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک نے، اسی طرح ایشیا کے مختلف ممالک نے جو اپنے ممالک کے آئین بنائے وہ اس لئے بنائے تھے تاکہ اپنے آپ کو غلام رکھ سکیں۔ اس سوچ پیچھے تو جنرل ضیاء صاحب کی ذہنیت جھلک رہی ہے کہ آئین ایک کتاب ہی تو ہے جسے میں جب چاہوں پھاڑ کے پھینک سکتا ہوں۔ بہر حال اگر کسی کے خیال میں اب بھی یہ اعلانات غداری نہیں ہیں تو وہ تجویز کردہ علاج کی مزید تفصیلات سنیں۔

زید حامد صاحب نے فرمایا کہ اب سیاسی جماعتیں تو دشمن کی آلہ کار ہیں۔ فوج اور عدلیہ بھی Status Quoکو بدلنے پر آمادہ نہیں لگ رہیں۔ اس حالت میں عوام انتشار تو پیدا کر سکتے ہیں تبدیلی نہیں لا سکتے۔ پھر ایک ہی راستہ بچ جاتا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان پر کوئی باہر سے حملہ کرے۔ جس طرح عراق پر ہوا، لیبیا پر ہوا یا شام پر ہوا۔ واضح رہے ان ممالک پر بڑی طاقتوں کی فوجوں نے حملہ کیا تھا اور زید حامد صاحب کے نزدیک پاکستان میں تو غیرت نام کو نہیں رہی۔ ان کو غیرت مند بنانے کا ایک یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ کوئی فوج پاکستان پر حملہ کر کے ان کو غیرت کے ٹیکے لگائے۔ اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ ان فوج کشیوں کے بعد عراق، شام اور لیبیا پر کیا قیامت گزر رہی ہے۔ یہ تینوں ممالک تباہ ہو چکے ہیں۔ اور یہی تجربہ زید حامد صاحب پاکستان پر کرنا چاہتے ہیں تاکہ قوم غیرت مند بنے۔

ویسے تو یہاں اختلاف رائے کو غیر ذمہ دارانہ صحافت قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر زید حامد صاحب کے یہ اعلانات پاکستان سے غداری نہیں ہیں تو کوئی ہم جیسے کم علموں کو سمجھائے کہ کیا غداری کے سینگ ہوتے ہیں؟ اس کے ساتھ زید حامد صاحب بار بار یہ دعوے بھی کرتے رہے کہ انہوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹیں خود دیکھی ہیں۔ اور باسط صاحب نے جو بھارت میں سفیر کی حیثیت سے وزیر اعظم کو خفیہ یاداشتیں بھجوائی تھیں وہ بھی دیکھی ہیں۔ اور باسط صاحب اس وقت سر ہلا کر اور ’بالکل بالکل‘ کہہ کر ان کی تصدیق کر رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اس بات کا علان کر رہا ہے کہ پاکستان پر باہر سے حملہ ہونا چاہیے اور پاکستان کا آئین ختم کردینا چاہیے۔ اسے خفیہ رپورٹوں تک رسائی کس طرح حاصل ہوئی؟

Facebook Comments HS