جمعہ کے اجتماعات اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ



سندھ ہائی کورٹ نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بیچ نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی کے خلاف ارشد ریاض مغل ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ فاضل عدالت نے درخواست میں موقف کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے، اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت سندھ نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد نہیں کی ہے، حکومت نے اجتماع میں افراد میں کمی کی ہدایت کی ہے، پوری دنیا میں کرونا سے علاج سماجی دوری ہے، حکومت نے لوگوں کی زندگی بچانے کے لئے اقدامات کیے ہیں، تین سے پانچ افراد تک مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع کی اجازت ہے، لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے پیش نظر گھرں میں نماز کی ادائیگی کی ہدایت کی، اس موقع پر محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے علما سے مشاورت اور نماز جمعہ کے فتوے عدالت میں پیش کیے گئے۔

اب بحیثیت وکیل میرے ذہن میں جو سوال اٹھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں یہ پیٹیشن میرے فاضل وکیل دوست نے آئین میں درج بنیادی حقوق میں سے مذہبی ازادی یا پیروی کو روکنے یا سلب ہونے کے خلاف درج کیا ہوگا۔ لیکن کیا یہ ارٹیکل صرف حقوق دیتا ہے یا اسی ارٹیکل میں بشرطیکہ کے لفظ کے اندراج کی صورت میں کچھ تدارک بھی لگائے گئے ہیں۔

پاکستان کا دستور 1973 شہریوں کے بنیادی حقوق کا ضامن ہے۔ یہ آرٹیکلز 8 سے 28 تک درج ہیں۔ آرٹیکل 15 کے مطابق ماسوائے مفاد عامہ کے لگائی گئی کسی پابندی کے ہر شہری کو ملک میں نقل و حرکت کرنے اور ملک کے کسی حصے میں آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل 20 کے مطابق ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی، تبلیغ اور ادارے قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح ارٹیکل 9 کے تحت ہر شخص کو زندگی یا جینے کا حق بھی دیا گیا ہے۔

اب اگر ایک ریاست یا پھر حکومت کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ آجائے جس میں انسانی جانوں یا شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہو تو ان تینوں آرٹیکلز میں سے کس آرٹیکل پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ آرٹیکل 15 نقل و حرکت کی ازادی دیتا ہے اگر وہ مفاد عامہ کے خلاف نہ ہو، آرٹیکل 20 مذہبی کی پیروی کا حق دیتا ہے، بشرطیکہ وہ بھی مفاد عامہ سے تصادم میں نہ ہو۔ اور آٹیکل 9 ہر شخص کو زندگی اور جینے کا حق دیتا ہے۔ ظاہر ہے اس ہی آرٹیکل کو نافذ کیا جائے گا جو مفاد عامہ کے حق میں ہوگا، شہریوں کی فلاح، زندگی اور نجات کے لئے ہو، کیونکہ نماز سے پیشتر اذان میں جو حی الصلوة اور حی اللفلاح کی صدا بلند ہوتی ہے فلاح کا لفظ بعد میں آنے کا غرض غائیت ہی یہ ہے کہ فلاح کا براہ راست تعلق زندگی سے ہے اور ساتھ ساتھ یہ حکم بھی موجود ہو کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ آپ باہر نہیں نکل سکتے تو گھر میں نماز ادا کرسکتے ہیں، تو یقیناً فلاح، نجات اور زندگی اسی میں ہیں کہ نماز گھر میں ہی پڑھی جائے۔

Facebook Comments HS