میر شکیل الرحمن کے لئے بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی ازہر منیر کرونا وائرس میں مبتلا؟


ازہر منیر

لاہور پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ”صحافی“ ازھر منیر کے لاہور پریس کلب کی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ قریباً 60 سالہ ازھر منیر لاہور پریس کلب کے لائف ممبر ہیں اور ”جنگ / جیو“ کے مالک میر شکیل الرحمن کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف گزشتہ ہفتہ بھر سے شملہ پہاڑی پر واقع لاہور پریس کلب کے مرکزی داخلی گیٹ کے بالمقابل فٹ پاتھ پر مبینہ بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہیں۔

ایک روز قبل جب وہ کسی حاجت کے تحت سڑک پار کر کے لاہور پریس کلب میں داخل ہونے لگے تو انہیں خلاف معمول اندر آنے سے روک دیا گیا کیونکہ باڈی ٹمپریچر چیک کرنے والا آلہ ان کا ٹمپریچر 101 بتارہا تھا، اس کے علاوہ انہیں معمول سے کچھ زیادہ کھانسی کرتے پایا گیا تھا۔ اطلاع ملنے پر پریس کلب کی انتظامیہ نے سٹاف کو سختی سے ہدایت کی کہ انہیں کسی صورت کلب کے احاطے میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ۔

اس سلسلے میں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا کہنا ہے ”ہم نے اس حالت میں انہیں داخل ہونے کی اجازت دے کر پورا کلب بند نہیں کروانا، جب ان کا باڈی ٹمپریچر نارمل ہو جائے گا تو وہ اندر آ سکتے ہیں“ جبکہ ہڑتالی صحافی نے الزام لگایا ہے کہ صدر پریس کلب ادارہ ”جنگ جیو“ کے ورکر ہونے کے باوجود چونکہ خود کلب میں میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی کیمپ تک لگوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے لہٰذا اب انہیں اس ”جرم“ کی سزا دے رہے ہیں۔ ۔

ازھر منیر گہمن کا مزید کہنا ہے چونکہ وہ باقاعدگی سے سگریٹ پیتے ہیں اس لئے یہ کھانسی ایک معمول کا عمل ہے۔

واضح رہے وہ عموماً دن 11 بجے سے غروب آفتاب کے کچھ دیر بعد تک اپنے ”بھوک ہڑتالی اڈے“ پر بیٹھتے یا لیٹتے ہیں جس کے دوران وہ صرف 2 بار کلب کے اندر جا کر کنٹین سے کھانا کھاتے اور لگ بھگ 5 مرتبہ چائے پیتے تھے، اس کے علاوہ کوئی 7 بار وہ واش روم استعمال کرنے کے لئے پریس کلب کے اندر جاتے تھے۔ ۔

ابتدائی دنوں میں معروف اینکر سہیل وڑائچ سمیت ”جنگ جیو“ سے وابستہ بعض صحافیوں نے ان سے ان کے ہڑتالی کیمپ پر آ کر ملاقات کی، ازھر منیر کا کہنا تھا کہ سہیل وڑائچ انہیں ”بھوک ہڑتال“ ختم کرنے کی درخواست کرنے آئے تھے اور یہ کہ انہیں ”جنگ جیو“ گروپ کے مالکان میر شکیل الرحمن اور میر ابراہیم نے اس مقصد کے لئے بھیجا تھا۔ ہڑتالی صحافی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مختلف خفیہ اداروں کے لوگ بھی ان کے پاس آکر بھوک ہڑتال ختم کرنے پر اصرار کر رہے ہیں کہ ان کے اس عمل سے ان کے بقول حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ۔

دریں اثناء چند روز قبل ان کی مبینہ بھوک ہڑتال کی خبر کی ایک نقل ”دی نیوز“ کے دفتر سے ”جنگ“ کے نیوز روم میں بھیجی گئی تھی جس کے شائع ہونے کے اگلے روز انہوں نے ملاقات کرنے والے ”جنگ“ نیوُز روم کے ایک کارکن سے پتہ کیا کہ ”جنگ“ نیوُز ڈیسک پر خبر کے اوریجنل انگریزی مسودے کا ترجمہ کس نے کیا تھا، ہڑتالی صحافی نے اس امر پر شدید اعتراض کیا کہ ان کے تعارف میں اوریجنل خبر میں شامل ”veteran journalist“ کا ترجمہ ”بزرگ صحافی“ کر دیا گیا

غیر جانبدار صحافتی حلقوں نے ان کے اعتراض کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے غالباً انہیں ”بزرگ“ اور ”صحافی“ دونوں ہی الفاظ پر اعتراض ہوگا کیونکہ نہ تو وہ ایسے بزرگ دکھتے ہیں اور نہ ہی صحافی ہیں، ان کا ٹوٹل صحافتی کیریئر 5 ماہ کا ہے جب وہ غالباً 1991 میں روزنامہ جنگ لاہور کے میگزین سیکشن میں کام کرتے رہے، بعد ازاں انہوں نے روزنامہ پاکستان کے میگزین میں ملازمت حاصل کی لیکن 1 دن جانے کے بعد کبھی نہیں گئے۔ وہ کسی بھی ادارے میں نوکری کے لئے درخواست دینے یا CV جمع کروانے کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے جنہوں نے مجھے ملازم رکھنا ہے وہ خود مجھ سے رابطہ کریں۔

اس دوران انہوں نے چند کتابیں لکھیں جو پڑھنے والوں کی توجہ حاصل نہیں کر پائیں۔ وہ سرائے عالمگیر کے پروفیسر اکبر منیر کے چھوٹے صاحبزادے ہیں جو ملتان کے تاریخی ایمرسن کالج میں فارسی کے استاد تھے جو اب ”گورنمنٹ کالج، بوسن روڈ“ کہلاتا ہے، مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان جیسے بعض جید سیاست دان ان کے شاگردوں میں شامل ہیں

پروفیسر اکبر منیر، غلام رسول مہر کی طرح علامہ اقبال کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔

ان کے بچوں میں ازھر منیر اگرچہ بطور صحافی یا رائٹر تو اپنی کوئی شناخت نہیں رکھتے البتہ وہ نہایت منفرد اور دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں اور ان کا لائف سٹائل ان کی اصل شناخت ہے۔ انہوں نے شادی نہیں کی، اپنی پوری جوانی ایک پرائیویٹ ہاسٹل کے کمرے میں گزار دی، وہ برس ہا برس سے باقاعدگی کے ساتھ مزنگ اڈے سے شملہ پہاڑی پیدل پریس کلب آتے اور واپس ہاسٹل جاتے ہیں، سردیوں میں قینچی چپل اور گرمیوں میں جاگرز پہنتے ہیں، رات کے کھانے میں 2 سالم مولیاں اور چھری ایک ساتھ 2 کپ چائے کے ساتھ ان کی خصوصی ڈش کے طور پر مہیا کی جاتی ہیں کیونکہ وہ مولی کاٹ کر چائے میں ڈبو کر کھاتے ہیں۔ ان دنوں علی الصبح ساڑھے 4 بجے پریس کلب آنا ان کا معمول تھا۔

Facebook Comments HS