کامریڈ احفاظ الرحمن کو سرخ سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج رات کے تیسرے پہر ہی صبح صادق سے پہلے ہماری آنکھ قدرتی طور پر کھل گئی۔ اپنے کمرے سے نکل کر ہم نیچے لاونج میں گئے تو ہماری چھوٹی بہن نے نم ناک آنکھوں سے اطلاع دی کہ ممانی کا فون آیا تھا ماموں اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ خبر تو غم ناک تھی ہی لیکن ساتھ ہی یادوں کی ایک پٹاری کھول گئی۔

احفاظ الرحمن نہ صرف ہمارے ہر دل عزیز ماموں تھے بلکہ میرے والد نسیم شاد مرحوم کے ہم نوالہ ہم پیالہ بہترین دوست بھی تھے۔ اپنے بچپن ہی سے ہم نے ان کو زندگی بھر جہد مسلسل کرتے دیکھا ہے۔ اپنے والد کی زبانی ان کی نہ ختم ہونے والی جدوجہد کے قصے سن رکھے تھے۔

وہ 4 اپریل 1942ء کو بھارت کہ شہر جبل پور میں پیدا ہوئے۔ اور تقسیم ہند کہ بعد اپنے اجداد کہ ساتھ پاکستان ہجرت فرمائی۔ انھوں نے زمانہ طالب علمی میں غیر طبقاتی اور مساوات پر مبنی معاشرے کا جو خواب دیکھا، اس کی تکمیل کے لیے تمام عمر عملی جدوجہد کرتے رہے۔

وہ بائیں بازو کی سوچ اور ترقی پسند خیالات رکھنے والی ایک نظریاتی شخصیت تھے۔ جو آمریت و سرمایہ دارانہ نظام سے نہ صرف نفرت کرتے تھے۔ بلکہ اس کے خلاف زندگی بھر علم بغاوت بلند رکھا۔ ظلم و نا انصافیوں کے خلاف اور شخصی آزادی کہ حصول کی اپنی سب سے پہلی لڑائی انھوں نے بحثیت طالب علم این ایس ایف کہ پلیٹ فارم سے کامریڈ معراج محمد خان کی قیادت میں اس وقت لڑی، جب ایوب خان کہ آمرانہ دور حکومت میں طلبا سیاست پر پابندی عائد کردی گئی اور معراج محمد خان سمیت بائیں بازو کی طلبا تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

آزادی صحافت و اظہار رائے کی سب سے بڑی اور کام یاب تحریک 1977 / 78 کے دور آمریت میں چلی۔ جہاں منہاج برنا اور احفاظ الرحمن کی قیادت میں نثار عثمانی، حسین نقی، خاور نعیم صدیقی، اقبال جعفری، ناصر زیدی، جیسے حریت پسند صحافیوں نے تمام تر نا مناسب حالات کے باوجود آزادی کی اس لڑائی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

پرنٹ میڈیا کا یہ وہ دور تھا جب سچ بولنے اور لکھنے والوں پر زمین تنگ کردی جاتی تھی۔ تحریک آزادی صحافت کے مجاہدین پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے ان کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا۔ ناصر زیدی، خاور نعیم اور اقبال جعفری جیسے حریت پسندوں کو کوڑے مارے گئے۔ احفاظ الرحمن کو پنجاب بدر کر دیا گیا۔ ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔

اپنے اسیر ساتھیوں کی گرفتاری اور کوڑوں کی سزا پر وہ شدید کرب کا شکار تھے اور خود بھی گرفتاری دینا چاہتے تھے، مگر اس وقت پی ایف یو جے کی حکمت عملی تھی کہ کچھ ساتھیوں کو گرفتاری سے بچنا چاہیے تا کہ تحریک کا کام جاری رہے۔ اس حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ زیرِ زمین چلے گئے اور مفروری میں بھی تحریکی امور انجام دیتے رہے۔ رات کہ آخری پہر کئی بار پولیس ان کے گھر پر چھاپے مارتی رہی اور ان کی اہلیہ اور بچوں کو پریشان کرتی رہی۔ مگر ان سب کہ باوجود وہ اپنی جدوجہد سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ اور اپنی تحریکی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔

ضیا کی جنونیت نے جب حق پرستی کا پرچار کرنے والے اخبارات و جرائد کو بند کر دیا گیا اور باقی تمام اخبارات پر سنسر شپ عائد کر دی گئی اور حکم جاری کیا گیا کہ تحریک آزادی صحافت میں حصہ لینے والے کسی اخبار نویس اور لکھاری کو نوکری نہ دی جائے۔ مگر ان سب منفی ہتھ کنڈوں کے باوجود احفاظ الرحمن سمیت ان حریت پسند صحافیوں نے اپنے صحافتی پیشے کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دیا۔ اور جنرل ضیا کی بیعت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ جس کی پاداش میں ان کو کئی کئی مہینوں کی روپوشی کاٹنی پڑی۔ ان پر روزگار کے دروازے بند کردیے گئے۔

یہ وہ وقت تھا جب صحافی کرائے کہ گھروں میں رہتے تھے اور بسوں یا موٹر سائیکلوں پر سفر کرتے تھے۔ ایسے میں احفاظ الرحمن بھی النور سوسائٹی فیڈرل بی ایریا میں ایک کرائے ک مکان میں قیام پذیر تھے۔ اسی دوران میں جنرل ضیا کے آمرانہ اقدام کہ تحت روزنامہ مساوات کراچی کو بند کرانے کہ احکامات جاری کر دیے گئے اور مساوات میں کام کرنے والے احفاظ الرحمن سمیت سیکڑوں ملازمین بے روزگار ہو گئے۔ اس صدمے میں مساوات کے ایڈیٹر جناب ابراہیم جلیس صاحب چل بسے۔

مساوات کی بندش کہ بعد جنرل ضیا نے تمام اخبارات و جرائد کو فرمان جاری کرتے ہوئے تاکید کی کہ آزادی صحافت کی تحریک میں شامل کسی بھی فرد کو اپنے ادارے ملازمت نہ دی جائے۔ جس کی وجہ سے کوئی ادارہ ان کو ملازمت دینے پر تیار نہیں ہوتا۔ ایسے میں ان حریت پسند صحافیوں کہ ساتھ وہ بھی سخت مالی بحران کا شکار ہو گئے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی اسکول فیس، سب بہت دشوار ہو گیا۔ نوبت فاقوں تک آ گئی مگر ان تمام مصائب کہ باوجود انھوں نے اپنے اصولوں پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔

اس کہ بعد وہ مجبورا چین جلا وطن ہو گئے اور وہاں اردو کے فروغ کے لئے اپنی خدمات انجام دیں۔ طویل عرصے کی جلا وطنی کاٹ کر وہ واپس آئے تو پہلے روزنامہ جنگ اور پھر ایکسپریس میں ایک عرصے تک میگزین ایڈیٹر کے منصب پر فائز رہے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب مشرف نے پریس کو ایک بار پھر زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی تو وہ ایک بار پھر میدان میں نکل آئے۔ جس کی پاداش میں انھیں پولیس کی لاٹھیوں اور گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

انھوں نے اپنی زندگی آزدی صحافت، شخصی آزادی اور عام آدمی کے حقوق کی جنگ لڑتے گزاری۔ وہ زندگی بھر سامراج اور اس کہ قد آوور دیوتاوں سے تصادم میں رہے۔ ان کی صحافتی زندگی میں کوئی ایک لمحہ ایسا نہیں جسے ان کہ ذاتی مفاد سے تعبیر کیا جا سکے۔ وہ کئی کتابوں کہ مصنف اور مترجم بھی تھے اور صاحب طرز ادیب و شاعر بھی تھے۔ ان کی نظم ”تیسرے درجے کا شہری“ معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں کی عکاسی کرتی یے۔

تیسرے درجے کاشہری
زندگی کے تیسرے درجے میں کرتا ہے سفر
ٹوٹٰی پھوٹی چپلیں، میلا کچیلا پیرہن
تیسرے درجے کی روٹی
تیسرے درجے کا پیٹ
آنسو پیتے، کانٹے کھاتے زرد رُو بچوں کا ساتھ
تیسرے درجے کا جیون، تیسرے درجے کی موت
اُجلے چہروں، اونچے محلوں، اونچی دیواروں کے بیچ
قہقہوں کی جگمگاتی محترم دنیا کے بیچ
جگمگاتے ساز و ساماں سے سجے
خوش رنگ بازاروں کے بیچ
تیسرے درجے کا شہری
زندگی کے تیسرے درجے میں کرتا ہے سفر
تیسرے درجے کا جیون، تیسرے درجے کی موت

احفاظ الرحمن بہت بڑے اور بہادر انسان تھے۔ جن کی ساری زندگی سامراج کی تیسری دنیا کی ریشہ روانیوں اور کچلے ہوئے مظلوم طبقات کہ حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے گزری۔ کوئی سرمایہ دار یا آمر ان کی قلم کی نوک کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ وہ اپنے قلم کی نوک سے بڑے بڑے آمروں کو للکارتے رہے۔ اور اپنی زندگی انھی اصولوں پر گزارتے رہے۔

وہ چاہتے تو آج کے بڑے بڑے میڈیا اینکرز کی طرح کسی نیوز چینل سے منسلک ہو کر تخت سلطانی پر بیٹھ سکتے تھے۔ جس کی ان کو آفرز بھی تھیں۔ مگر انھیں اپنے قلم سے محبت تھی۔ اس کی حرمت کا پاس تھا۔ اس لیے انھوں نے ہر اس آفر کو شکریے کہ ساتھ لوٹا دیا۔

جہاں ان کی ساری زندگی آمروں سے لڑتے لڑتے گزری، وہیں انھوں نے اپنی زندگی کے کئی سال کینسر سے لڑتے لڑتے گزار دیے۔ حلق کہ کینسر کی وجہ سے ان کی آواز چلی گئی اور وہ بولنے سے معذور ہو گئے۔ مگر وہ اس کی پروا کیے بغیر اپنے قلم سے اپنے محاز پر آخری وقت تک ڈٹے رہے۔ اور ساتھ اہنی بیماری سے بھی لڑتے رہے۔

بے شک و شبہ دنیا آنی جانی ہے، جو بھی یہاں آیا ہے اسے مالک کی جانب سے عطا کردہ مدت حیات پوری کرکے دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرنا ہے۔ یہی نظام کائنات ہے اور اسی نظام کے تحت لاکھوں برس سے آباد انسانی دنیا میں آمد و رفت کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور قیامت تک خالق کائنات کا بنایا ہوا یہ نظام، اسی طرح جاری رہے گا۔ مگر ”احفاظ“ مرا نہیں ”احفاظ“ مرا نہیں کرتے۔ جسم کہ مٹ جانے سے کبھی موت نہیں ہوا کرتی۔ جسم مٹ جاتا ہے مگر اس کے نظریات اس کے افکار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply