لاک ڈاؤن حل نہیں تھا تو حل ہے کیا؟



ایک نجی ٹی وی چینل پر عمران خان صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں کہی جانے والی بات کو دہراتے ہوئے فرمایا کہ ”لاک ڈاؤن سے ملکی معیشت کو بہت نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ایک دم فیصلے ہوئے اور ایک صوبہ مکمل لاک ڈاؤن کی طرف چلاگیا جس سے میں متفق نہیں تھا کیوں کہ 22 کروڑ افراد کو لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش ناممکن چیز ہے۔ جیسے جیسے کورونا کاڈیٹا آتا رہتا اس کے مطابق چلتے رہتے لیکن ایک دم لاک ڈاؤن سے ملک میں غربت اوربے روزگاری میں اضافہ ہوگیا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار تنگ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حالات اور بھی بگڑیں گے جس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، بہتر حکمت عملی سے کورونا کی صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں“۔ یہ وہ باتیں ہیں جو وہ اس وقت سے کر رہے ہیں جب سے کورونا کی وبا ملک میں پھیلنی شروع ہوئی ہے۔

بظاہر وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اور ایک تسلسل کے ساتھ کہتے آ رہے ہیں وہ بہر لحاظ درست ہی نظر آتی ہے لیکن انھوں نے کبھی اس پر روشنی نہیں ڈالی کہ ایک دم لاک ڈاؤن بلکہ کرفیو جیسی صورت حال پیدا کرنے کے علاوہ کیا کوئی اور بھی حل تھا؟

پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی اس وبا نے سر اٹھایا وہاں وہاں کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا ہی نہیں گیا۔ چین اس میدان میں ایک روشن مثال ہے کہ اس نے ایک بہت بڑی آبادی والے شہر میں ایسا مکمل لاک ڈاؤن کیا جس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں مل سکے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وبا چین کے اس شہر کے علاوہ کسی اور قصبے، شہر یا گاؤں میں نہ پھیل سکی۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ چین سمیت دنیا کا کوئی ملک نہ تو اب تک اس کے علاج کی کوئی دوا اور نہ مستقبل میں اس کے تدارک کے سلسلے میں کوئی ویکسین ایجاد کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ صرف سخت ترین لاک ڈاؤن کی بدولت چین اپنے ملک میں نہ صرف کورونا کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گیا بلکہ وہی شہر جس کا ایک ایک فرد کورونا کی بیماری کے خطرے سے باہر آ چکا ہے، اب رات دن سڑکوں پر جشن مناتا پھر رہا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا ابھی تک کوئی ایک ملک بھی اپنے لاک ڈاؤن کے اعلان پر مکمل عمل درآمد کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے صورت حال دنیا کے تقریباً سارے ممالک کے ہاتھوں سے باہر نکل چکی ہے۔

اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کی سوچ اور نیت کی تعریف کرنے اور ایک غریب انسان کی مشکلوں کا احساس کا خیال رکھنے کی بات کو سراہنے کے باوجود بھی ان سے نہایت احترام کے ساتھ یہ سوال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ کیا مکمل لاک ڈاؤن کے علاوہ بھی ان کے پاس کوئی اور حل موجود تھا اور ہے؟

ان کے بقول ایک تدریج کے ساتھ لاک ڈاؤن کے فیصلے کو آگے بڑھانا چاہیے تھا تو عرض کیا جاسکتا ہے کہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں تو اس وقت لاک ڈاؤن اختیار کیا گیا جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا۔ سندھ میں بھی بظاہر لاک ڈاؤن کا اعلان تو ہوا لیکن سندھ آج بھی اپنے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرانے میں سخت ناکام ہے۔ دوسرے صوبوں کی تساہلی اور سندھ کی عمل درآمد کرانے میں بری طرح ناکامی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے سبب پورا ملک اس وبا کی لپیٹ میں بری طرح گھرتا چلا جا رہا ہے۔

وفاقی سطح پر بھی غیر دانشمندانہ اقدامات پورے ملک میں کورونا کو پھیلانے کا سبب بنے جس میں ہر قسم کے زمینی اور فضائی راستوں کو کھلا رکھنا، ملکی اور غیر ملکی پروازوں کو جاری رکھنا اور سرحدوں کو سر بمہر نہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پورے پاکستان اور ڈبلیو ایچ او کی یہی رپورٹ ہے کہ پاکستان میں کورونا سرحدوں کو سیل نہ کرنے کی وجہ سے داخل ہوا جس میں چین اور ایران کا نام سرِ فہرست ہے۔ ایران سے آنے والے زائرین اور تبلیغی جماعت کے مبلغین اس بیماری کو پورے پاکستان میں عام کرنے کے مجرم ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومت میں شامل ان مجرموں کے خلاف، جن کی غفلت کی وجہ سے زائرین اور مبلغین پر کوئی پابندی عائد نہ کی جا سکی، کوئی کارروائی ابھی تک عمل میں نہیں آ سکی۔

عمران خاں صاحب کی یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار مزدور سخت مشکلات کا شکار ہے لیکن سیلاب آجائے یا آسمان سے خشت باری کی صورت میں کیا اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ پانی میں کود پڑا جائے یا باہر نکل کر آسمان سے برسنے والے پتھر کھا کھا کر موت کا شکار بنا جائے؟ کورونا بھی اسی قسم کا سیلاب اور پتھروں کی بارش ہی کی طرح ہے۔ لہٰذا جان بچانے کے لئے گھر سے محفوظ اور کوئی جگہ نہیں اس لئے خان صاحب سے گزارش ہے کہ قوم کو کنفیوژن میں مبتلا کرنے کی بجائے اپنی واضح پالیسی دیں کہ کاروبار کھول دینے چاہئیں یا نہیں۔ جو بھی فیصلہ ہو وہ نہایت سوچ سمجھ کر کیا جائے تاکہ قوم کسی مخمصے کا شکار ہونے سے بچ رہے۔

Facebook Comments HS