ریاست ہو گی ماں کے جیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھلے دنوں کی بات ہے کہ اعتزاز احسن صاحب عدلیہ آزادی تحریک میں مزاحمت کا استعارہ بن کر سامنے آئے اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے وہ اپنی پارٹی کے موقف سے بھی باغی ہو کر افتخار چوہدری صاحب کی گاڑی چلاتے نظر آتے تھے۔ انہی دنوں میں انہوں نے ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا ”ریاست ہو گی ماں کے جیسی“ جسے عوام میں خوب پذیرائی ملی۔ اس نظم سے جہاں تحریک کو ایک نیا جذبہ ملا وہیں عام لوگوں میں یہ شعور بھی بڑھا کہ ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں۔

تحریک آزادی عدلیہ تو کامیاب ہو گئی لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ خیر یہ وقت ماضی کے واقعات کو دہرانے کا نہیں ہے کیونکہ پاکستان اس وقت ایک موذی وبا کی زد میں ہے اور اس سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اب تک پاکستان میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگ کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور چھیاسی افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ ابتدائی ایام میں اس وائرس کا پھیلاؤ کم تھا لیکن اب روزانہ درجنوں مریض سامنے آ رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کی شرح پھیلاؤ میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔

آپ کہیں گے کہ کرونا وائرس اور ”ریاست ہوگی ماں کے جیسی“ سلوگن کا اس وقت کیا تعلق بنتا ہے؟ بظاہر یہ بات ٹھیک ہے کہ کرونا کو قدرتی آفت ہے اور حکومت وقت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ اس وبا کو شکست دی جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست جو عوام کے حقوق کی محافظ ہے، وہ اپنے اس فرض کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو رہی ہے؟ کسی بھی ریاست کا اولین اور اہم ترین فرض لوگوں کی جان کی حفاظت کرنا ہوتا ہے باقی ساری باتیں ثانوی اہمیت کی حامل ہیں۔

لہذا ریاست کو اس وبا کے دوران یہ فیصلہ (جوخاصا مشکل ہے ) کرنا ہو گا کہ انسانی جان اہم ہے یا معیشت؟ بہت سے ممالک نے اپنی تمام تر معاشی سرگرمیاں وقتی طور پر اس لئے معطل کر دی ہیں کہ ان کے نزدیک لاک ڈاون وہ واحد راستہ ہے جس سے عوام کو سماجی رابطے سے روک کر یا سماجی دوری اختیار کر کے کرونا وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے بھی کچھ حد تک اس طرح کے مشکل فیصلے کیے ہیں جن میں صوبہ سندھ اور خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومتیں بڑی واضح حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتری ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی شروع دن سے تذبذب کا شکار نظر آئی شاید اس کی بڑی وجہ ملک کی معاشی حالت ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے مطابق اگر وہ لاک ڈاون کر دیتے تو غریب عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور کرونا وائرس سے زیادہ تباہی غربت کی وجہ سے پھیلتی۔ لیکن وزیراعظم کے اس بیان کے ایک دن بعد ہی وفاق میں لاک ڈاون کرنا پڑا۔ وفاق نے احساس پروگرام کے تحت ایک کڑور سے زیادہ مستحق لوگوں میں تین ہزار ماہانہ کے حساب سے چار ماہ کی اقساط یکمشت بارہ ہزار تقسیم کیے جو ایک احسن قدم ہے لیکن اس کی تقسیم کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جاسکتا تھا۔

حکومت کو یہ یقینی بناناچاہیے تھا کہ تقسیم کا طریقہ کار کچھ اس طرز کا ہو کہ کم سے کم لوگ ایک جگہ جمع ہوں اور ایک دوسرے سے ضروری فاصلہ قائم رکھیں۔ اکثر علاقوں میں رقم تقسیم کرتے وقت کی بدنظمی کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایک بے ہنگم اور بے قابو ہجوم کو جس طرح سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی وہ انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس طرح کے ہجوم سے کرونا کو روکنے کی کوشش کے عملی اقدامات کو دھچکا لگے گا۔

ریاست کی مبہم اور متذبذب حکمت عملی نے عام لوگوں میں کئی طرح کے شکوک اور سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا واقعی کرونا اتنا خطرناک ہے؟ اگر یہ واقعی اتنا مہلک ہے تو حکومت کس لئے اتنی تعداد میں عوام کو ایک جگہ اکٹھا کر رہی ہے؟ کیا رقم کی تقسیم کا کوئی متبادل طریقہ نہیں ہو سکتا؟ اور لاک ڈاون پر سختی سے عملدرآمد کرنا ضروری ہے بھی یا نہیں؟ ریاست کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ جو بھی حکمت عملی بنائے اس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔

ہمارے ہاں تو وفاق کے دل میں ایک مسجد میں پابندی کے باوجود جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے اور ریاست خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے۔ اگر اسی کو مثال بنا کر ملک کے باقی حصوں میں بھی عوام نے حکومتی پابندی کو پس پشت ڈال کر بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرنا شروع کردیے تو اس سے جو تباہی آئے گی اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ ان حالات میں ریاست کو کچھ مشکل فیصلے کر کے ان پر عمل درآمد کرانا ہو گا۔ ریاست کو اپنی ذمہ داری ادا کر کے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ”ریاست ماں کے جیسی ہے“ دوسری صورت میں تباہی کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments