قرنطینہ کے دنوں کا موثر استعمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے شکسپیر جب طاعون کے باعث قرنطینہ میں گئے تو وہ وہاں سے اپنے شہرہ آفاق ڈرامے ”کنگ لیر“ کے ساتھ نکلے۔ ٹائم مشین کے مصنف ایچ۔ جی۔ ویلز کو بھی مصنف بننے کا خیال ان دنوں آیا جب وہ ٹانگ تڑوا کے بستر پر پڑے تھے۔ انسان دراصل زندگی کی گاڑی کھینچنے میں اس حد تک مصروف ہوتا ہے کہ اسے اپنی پسند کا کام کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ انسان کی بہت سی صلاحیتیں اس وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں کہ اسے اپنے فن کو نکھارنے اور استعمال میں لانے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

ایسے میں فرصت کے لمحات کو تحفہ خداوندی سمجھا جانا چاہیے۔ ہر شر سے خیر کا پہلو برآمد ہوتا ہے۔ جہاں قرنطینہ یا سماجی دوری سے ہمارے لئے کئی مشکلات آئی ہیں وہاں اس نے ہمیں وقت دیا ہے کہ ہم رک کر اپنی مصروف زندگی میں سانس لے سکیں۔ اپنی ان ادھوری خواہشات کی تکمیل کر سکیں جن کے لیے ہمیں کبھی وقت نہیں ملا۔ ہمیں چاہیے کہ فرصت کے لمحات کو بہترین طریقے سے تصرف میں لائیں۔ اس ضمن میں ہم چند تجاویز درج کر رہے ہیں جو کہ آپ دوستوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہیں۔

کتب بینی:

بہت سے لوگوں کو کتب بینی کا شوق ہوتا ہے مگر کبھی اتنا وافر وقت نہیں ملتا کہ اس پیاس کو بجھا سکیں۔ ان افراد کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ اس شوق کی تکمیل سکیں۔ تاریخ اور حالات حاضرہ پر اپنے مزاج کے مطابق پڑھا جاسکتا ہے۔ مذہب کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ کھیلوں کی دنیا کے بارے میں پڑھا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں، طالب علم کسی امتحان کی تیاری کے لئے اس وقت کو بہترین طریقے سے صرف کر سکتے ہیں۔ جہاں تک معاملہ کتب کی دستیابی کا ہے تو سب کو معلوم ہے کہ اکیسویں صدی انٹرنیٹ کی صدی ہے۔ لاکھوں کتب پی ڈی ایف میں بالکل مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔

بچوں کے ساتھ تعلق:

کام کرنے والے والدین کے لئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کر سکیں۔ ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کو وہ چیزیں سکھائیں جو سکول یا استاد نہیں سکھا سکتے۔ گھرداری میں ان کی تربیت کریں۔ ان کے مسائل کو سمجھیں۔ یہ وقت تمام عمر کے لئے یاد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

صحت اور جسمانی نشونما:

یاد رکھیں یہ وقت کھانے، سونے اور پھر سے اسی معمول کو دھرانے کا نہیں۔ اس طرح تو قرنطینہ کے ختم ہونے تک آپ کو آپ کے ملبوسات تک تنگ ہوجائیں گے۔ اس وقت کو اپنی جسمانی و ذہنی نشونما کے لئے استعمال کریں۔ ایک ڈائٹ چارٹ بناییں اور پھر اس پر عمل کریں۔ گھریلو ورزش کو لے کر یوٹیوب پر درجنوں ویڈیوز موجود ہیں۔ ان کو دیکھ کر اپنی جسمانی ورزش کا لائحہ عمل مرتب کریں۔

گھر کے کام:

کچھ عرصے پہلے انڈین پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کی ایک ویڈیو کا سوشل میڈیا پر چرچا رہا ہے۔ اس میں وہ اپنے انداز میں ایک محلے کی عورتوں کو تلقین کر رہا ہے کہ اپنے مردوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیں بلکہ گھر میں رکھ کر ان کو گھر کے کاموں میں شامل کریں۔ تاکہ کل کو آپ کو باہر جانا پڑے تو پیچھے سے گھر کے کاموں کا مسئلہ نہ ہو۔ گو کہ اس بات کو مزاح میں لیا گیا، لیکن اس میں ایک اہم سبق ہے۔ یعنی ہمیں اس وقت کو گھر کے کام سیکھنے کے لیے صرف کرنا چاہیے اس میں جنس کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔

باغبانی:

موسم بہار اپنے عروج پر ہے۔ بارشیں متواتر ہورہی ہیں۔ اس طرح گھریلو باغبانی میں وقت کھپایا جاسکتا ہے۔ یہ نہ صرف بذات خود ایک خوبصورت مشغلہ ہے بلکہ آپ کے گھر کو بھی خوبصورت بنا سکتا ہے۔

اوپر دی گئی تجاویز مکمل نہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے کام ہیں جو کیے جا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دنوں کو بہترین طریقے سے استعمال میں لایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply