محمد سلیم الرحمٰن خاموشی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(ادیب شہیر محمد سلیم الرحمٰن کی سال گرہ پہ عقیدت مندانہ تحفہ)

پہچان و شہرت روزِ ازل سے ہی انسانی فطرت کی کمزوری رہے ہیں۔ شعر، ادب اور آرٹ میں اپنے جواہر دکھانے کے پیچھے بھی انسان کا یہی شوق پنہاں ہوتا ہے۔ جب کہ علم و ادب کے گلشن میں چند ایسے پھول بھی کھلے ہیں کہ جن کا کام محض خوشبو بکھیرنا ہوتا ہے۔ وہ کائنات کے نظام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں اور امر ہوجاتے ہیں۔

عہدِ حاضر میں اردو ادب کی چند نابغہء روزگار شخصیات میں محمد سلیم الرحمٰن کا شمار اُن لکھاریوں میں ہوتا ہے جو گزشتہ ساڑھے چھ دہائیوں سے مسلسل ادب کی مختلف اصناف میں خدمات انجام دے رہے ہیں مگر شہرت کی خواہش تو دور صلے کی تمنا بھی نہیں ہے۔ ترجمہ ہو یا تخلیق، شاعری ہو یا افسانہ تحقیق کا میدان ہو یا ادارت، ادبی نثر ہو یا ادبی کالم نگاری الغرض ادب کا کوئی ایسا میدان نہیں جس میں آپ نے اپنے فن کو نہ منوایا ہو۔

12 اپریل 1934 کو سہارنپور کے علم پرور گھرانے میں آنکھ کھولنے والے محمد سلیم الرحمٰن بچپن ہی میں والدین کے ساتھ علی گڑھ منتقل ہو گئے۔ اس طرح جہاں اُن کی ادب دوستی میں علی گڑھ کا خاص حصہ ہے اس کے ساتھ ساتھ بچپن ہی سے کتب بینی کی عادت نے آپ کی شخصیت سازی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

محمد سلیم الرحمٰن کا ذکر ہو اور ریاض احمد کا تذکرہ نہ کیا جائے یہ ہو نہیں سکتا ہے۔ (ریاض احمد کے سنائے گئے واقعات سے سلیم صاحب کی باوقار شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ یہاں قارئین کو محمد سلیم الرحمٰن جیسی ادب دوست شخصیت سے معمولی سی آگاہی دینا مقصد ہے) ادبی دنیا میں ان دونوں اصحاب کا اس قدر طویل ساتھ رہا ہے کہ ان کا ایک ساتھ تذکرہ لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جب راقمہ نے محمد سلیم الرحمٰن صاحب سے اُن کے حلقہ احباب کے بارے دریافت کیا تو سب سے پہلا نام جو اُن کی زبان سے نکلا وہ ریاض احمد ہی تھا۔

ریاض احمد نے محمد سلیم الرحمٰن سے دوستی کے حوالے سے ایک مصاحبے میں بتایا کہ یہ 1956 یا 57 کی بات ہے کہ ان کے چچا حنیف رامے رسالہ ”سویرا“ کے مدیر تھے۔ حنیف رامے کے دوست شیخ صلاح الدین بھی وہیں ہوا کرتے تھے۔ ریاض احمد اُن دنوں پریس میں تھے۔ وہ شام کو پریس بند کر کے رسالہ ”سویرا“ اور ”نیا ادارہ“ کے دفتر آ جایا کرتے۔ ایک دن شام کو جب معمول کے مطابق آئے تو وہاں ایک مسودہ ”نکولیت اور اوکاسن“ پڑا ہوا تھا۔ مسودے کی ایک تو لکھائی بہت خوب صورت تھی اور دوسرا اس کے رموزِ اوقاف بہت درست لگے ہوئے تھے۔ شیخ صلاح الدین سے دریافت کرنے پہ اُنہوں نے محمد سلیم الرحمٰن سے ملوانے کا وعدہ کیا۔ شیخ صاحب نے ریاض احمد کو بتایا کہ محمد سلیم الرحمٰن ہفتے میں صرف ایک دن داروغہ والا سے لاہور آتے ہیں۔ اس حوالے سے ریاض احمد کا کہنا تھا :

”سلیم آیا تو میں غالباً پریس میں تھا۔ میرے والد نے آدمی بھجوایا کہ تم آ جاؤ۔ میں آیا، سلیم سے ملا اور بڑی تعریف کی کہ تم بہت پڑھے لکھے آدمی ہو، تمہاری ہینڈ رائیٹنگ بہت اچھی ہے۔ ورنہ ادھر ادیبوں کے مسودے درست کر کر کے پاگل ہو جاتے ہیں۔ انھیں لکھنا ہی نہیں آتا۔ پھر سلیم نے کہا کہ اب میں پیر کے روز تمہیں ملنے آیا کروں گا۔ تو یہ ہماری دوستی کا آغاز تھا۔ سلیم آجاتا، ہماری ادب کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہتی۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہمارے دل مل گئے تھے۔ میں نے سلیم سے کہا کہ دیکھو تمہیں پتہ ہے کہ یہ پارٹیشن میں نے کروائی ہے۔ اس لیے کہ تم ادھر میرے پاس آو اور ہماری دوستی ہو جائے“

اس وقت پاکستان میں جتنے بھی صاحبِ علم حضرات ہیں وہ محمد سلیم الرحمٰن کی انگریزی دانی کے معترف ہیں۔ جہاں تک عالمی ادب کا تعلق اس پر جیسی نظر سلیم صاحب کی ہے ہمارے ہاں ویسا کوئی دوسرا نہیں۔

فارسی پر تو دسترس بچپن ہی میں ہو گئی تھی، نوجوانی میں کسی حد تک ہسپانوی بھی سیکھی۔ اس کے علاوہ جتنی خوب صورت اور شُستہ اردو محمد سلیم الرحمٰن کے ہاں ملتی ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں۔ محمد سلیم الرحمٰن ہوس پرست، شہرت اور دولت کے بھوکے سماج کے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو عالمانہ آن اور قلندرانہ شان رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو ادبی جلسوں میں شرکت کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے لیے کسی قسم کی تقریب کی بخوشی اجازت دیتے ہیں۔ 2016 میں جب آپ کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اُن کا کام ادب کی خدمت کرنا ہے نا کہ ایوارڈ وصول کرنا۔ وہ خود کہتے ہیں :

”مشہور ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ جو مشہور ہیں ان کو حاسدانہ نظر سے نہیں دیکھتا۔ میرے نزدیک اہمیت اس بات کی ہے کہ جتنی صلاحیت مجھ میں ہے، اس سے پوری طرح کام لے رہا ہوں یا نہیں“

آپ نے ادب کی خدمت کرتے ہوئے اتنا لکھا کہ اس تحریر کردہ مواد کی ضخامت کو نظر گھیر نہیں سکتی۔ اور اگر ضخامت کے ساتھ معیار پہ بھی نظر دوڑائیں تو قدرت کی بے حساب ودیعت پہ یقین آجائے۔ لیکن اس کے بعد جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ سلیم صاحب فونٹین پن سے بھی لکھیں تو اس میں روشنائی بھر کر لکھنے کی بجائے اسے روشنائی کی دوات میں ڈبو ڈبو کر لکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔

آج کے تیز رفتار دور میں جب ہر شخص مشینوں کی طرح کام کرتے ہوئے شہر کا رُخ کر رہا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن آج بھی شہر سے دور داروغہ والا میں سکونت پذیر ہیں۔ ہفتے میں دو مرتبہ سوموار اور جمعرات کو شہر کا رُخ کرتے ہیں۔ اپنی تمام تر ادبی مصروفیات انھی دو دنوں میں نمٹاتے ہیں اور واپس جا کر پھراپنی کتابوں کی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں۔ میاں چیمبرز ٹیمپل روڈ اور سہیل احمد خاں صاحب کے پاس گورنمنٹ کالج سے آغاز ہونے والی یہ ادبی نشستیں آج کل ادارہ ریڈنگز کے شوروم میں واقع ہوتی ہیں۔

اپنے ملنے والوں کے لیے محبت رکھنے والے اور دوسروں کے حقیقی طور پہ کام آنے والے سلیم صاحب ایسی منکسر المزاج شخصیت کے حامل ہیں جو شہرت سے میلوں دور بھاگتے ہیں۔ آپ نہایت خاموش طبع ہیں۔ آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے تمام پہلووں پہ تحریر کرنے سے راقمہ کا قلم قاصر ہے۔ نوجوان شاعر شاہد بلال ایک نظم میں محمد سلیم الرحمٰن کو کچھ یوں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں :

”محمد سلیم الرحمٰن خاموشی ہے
مگر وہ جانتا ہے کہ کتنی آوازوں کے دل اس کے سینے میں دھڑکتے ہیں ”
(دیوتاوں کے محل سے آگ چرانے والا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *