عارفہ شہزاد کا ناول: میں تمثال ہوں

مشرقی معاشرے کے ٹیبوز کو توڑنا اور عورت کے قلم سے ایسی کہانی لکھے جانا۔ شاید بہت سے لوگوں کو ہضم ہی نہ ہو پائے۔ مگر کیا کیا جائے اب تو لکھنے والی نے لکھ دیا۔ میرے سامنے اس وقت ”میں تمثال ہوں“ کے عنوان سے عارفہ شہزاد کا تحریر کردہ ناول ہے جو اپنی نوعیت، تکنیک اور موضوع کے اعتبار سے قدرے منفرد ناول ہے۔ عارفہ شہزاد اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اردو کی استاد ہیں۔ فکشن کی دنیا

Read more

محمد سلیم الرحمٰن خاموشی ہے

(ادیب شہیر محمد سلیم الرحمٰن کی سال گرہ پہ عقیدت مندانہ تحفہ) پہچان و شہرت روزِ ازل سے ہی انسانی فطرت کی کمزوری رہے ہیں۔ شعر، ادب اور آرٹ میں اپنے جواہر دکھانے کے پیچھے بھی انسان کا یہی شوق پنہاں ہوتا ہے۔ جب کہ علم و ادب کے گلشن میں چند ایسے پھول بھی کھلے ہیں کہ جن کا کام محض خوشبو بکھیرنا ہوتا ہے۔ وہ کائنات کے نظام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے حصے کا کام کرتے

Read more

سندھ کی ”اُنیس عورتیں“ اور تاریخ کا مسخ شدہ چہرہ

سندھ پر اہلِ عرب کے حملوں کی تاریخ کا ایک رُخ جو عام قاری کو دکھایا جاتا ہے وہ دیبل کے بحری قذاقوں کا عربوں کا جہاز لُوٹنے اور عربی خواتین کو قید کر کے یر غمال بنانے سے منسلک رہا ہے۔ اس پر کئی لکھاریوں نے لکھا اور سترہ سالہ محمد بن قاسم کے ساتھ ساتھ بنو امیہ کے سفاک حکمران حجاج بن یُوسف کو بھی ہیرو کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔ ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے

Read more