کب ڈنڈا بردار ریوڑ ریاست کو ہانکنا بند کرے گا؟


مجھے کبھی کبار یہ سوچ گھیر لیتی ہے اور یہ سوال میرے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے کہ ہم کب ترقی کریں گے؟ کب عدلیہ آزاد ہوگی، کب بڑے مکوڑے دھر لیے جائیں گے، کب ڈنڈا بردار ریوڑ ریاست کو ہانکنا بند کرے گا؟ یا یہ محض ایک خواب خرگوش ہے۔ ہم جس سے ٹوٹے ”انڈیا“ وہ بھی سدھر گیا جو ہم سے ٹوٹا ”بنگلادیش“ وہ بھی کافی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ آخر ان کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے، سب کچھ بشمول دنیا کی عظیم قوم تو ہمارے پاس ہے۔

حیرت ہے کہ بنگالی ان پانچھ دہائیوں میں شہہ رگ کے سوا بھی جی رہے ہیں، ان کی دیواریں بیت المقدس کے لئے جہاد کی صدا بلند نہیں کر رہیں، نا یہ خادمین حرمین شریفین ہیں، نا یہ شاہ ایران کے کلمہ گو بنے اور نا ان کو قبلہ اول کی قید کا کوئی درد ابھرتا ہے۔ جب پاکستان سے الگ ہوئے تو انہیں کوئی اور وراثت ملی یا نا ملی، کم از کم شہہ رگ کا ٹکڑا ہی دے دیتے۔ اور یہ کافی تگڑے بندے ہیں انہوں نے کہاں دینا تھا کم از کم بنگالیوں کا دھرنہ تو بنتا تھا۔

ہر ملک میں سزا جزا کے قانون پر کہیں نا کہیں عمل ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی پھانسیاں ہوتی ہیں۔ کچھ پھانسیاں مشہور ہوئیں۔ جیسے بھٹو کی، بھٹو سے آپ کتنا ہی اختلاف رکھیں لیکن بھٹو کی پھانسی عدالتی قتل کہلاتی ہے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد وہ فیصلہ کسی عدالت میں بطور کیس لا ممنوع ہے۔ چلتے چلتے سلمان تاثیر کیس کا مجرم ممتاز قادری بھی جھول گیا۔ ان دو پھانسیوں میں آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ قاتل کو شہید کہنا ہے کہ مقتول کو۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد ایک معمولی مزاحمت ہوئی۔ جتنا بھٹو کا قد تھا اتنا جنازہ تک نا ہوا۔ جنازہ تو دور کی بات ہے یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ شہید ضیاء الحق ہے یا ذوالفقارعلی بھٹو۔ ویسے ہی شہید انسانیت کا لقب سلمان تاثیر کو مل رہا ہے تو شہید اسلام کا لقب ممتاز قادری کو۔ ریاست نے امت مسلمہ کو ایک شہید عنایت تو کیا لیکن 29 فروری کو پھانسی دے کر اس کا عرس مبارک ناممکن بنا دیا۔ البتہ پانچ سال بعد 29 فروری کو آپ میگا عرس منا سکتے ہیں۔

ادھر بنگلادیشی وزیراعظم جب بھی اقتدار میں آتی ہے بنگلادیش کی راہ میں رکاوٹ اور اپنے والد شیخ مجیب کے قتل میں ملوث افراد کو چن چن کر پھانسیاں دینے میں قانونی راہ ہموار کرتی ہے۔ وہیں شیخ حسینہ واجد پر مخالفین کو ٹارگیٹ کرنے کے الزامات بھی گردش کرتے رہے ہیں۔ 2017 میں جنگی جرائم کے ٹربیونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماؤں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے مذہبی سیاسی جماعت جماعتِ اسلامی کے چھ ارکان کو 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگِ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے لیے موت کی سزا سنائی ہے۔

ان میں ایک سابق رکن پارلیمان بھی تھے۔ جماعت اسلامی کے ابو صالح محمد عبدالعزیز بھی اس میں شامل تھے۔ ان ملزمان کے خلاف تین الزامات تھے جن میں لوٹ مار کرنا، ضلع گائے بندھا کے موجامالی گاؤں میں ایک ہندو کے قتل، چھاتر لیگ (عوامی لیگ کی طلبہ جماعت) کے رہنما کے قتل، اور پانچ یونینوں کے چیئرمین اور اراکین سمیت 13 افراد کا قتل شامل ہے۔

اس سے قبل 2016 میں بھی جماعت اسلامی کے امیر 72 سالہ مطیع الرحمان نظامی کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر پھانسی دے دی گئی تھی۔ ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے سربراہ کو جنگی جرائم کے خصوصی ٹریبونل نے 2015 میں نسل کشی، قتل، تشدد اور ریپ کے 16 الزامات کے تحت سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

مطیع الرحمان نظامی 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے اور ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ’البدر‘ نامی ملیشیا کے کمانڈر کے حیثیت سے آزادی پسند بنگالی کارکنوں کی نشاندہی کرنے اور انھیں ہلاک کرنے میں پاکستانی فوج کی اعانت کی تھی۔

سنہ 2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماؤں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے عبدالقادر ملّا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختہ دار پر لٹکایا بھی جا چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کے بعد گزشتہ برس بنگلا دیش کی عدالت نے جماعت اسلامی کے 4 رہنماؤں اور ایک اپوزیشن رہنما کو قتل، اغوا، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور زیادتی کے الزامات میں سزائے موت سنادی تھی۔ یوں کل ملا کر درجنوں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیاں دی جا چکی ہیں۔ جن پر آئے دن جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے اور صف ماتم بچھا کر قل خوانی بھی کی جا چکی ہے۔ لیکن بنگلادیش کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پتا نہیں کس مٹی کی بنی ہے حسینہ واجد۔ ابھی گزشتہ دنوں 25 سال سے مفرور شیخ مجیب کے ایک اور قاتل کیپٹن عبدالمجید کو بھی دھر لیا گیا اور جلد ہی اسے بھی تختہ دار نصیب ہوا۔

یہاں ایک ڈنڈا بردار ریوڑ جب چاہے ریاست کو ہانکنا شروع کر دیتا ہے۔ جس طرف سے ڈنڈا دکھائیں ریاست اس بات سے اس خوفزدہ بھیڑ کی طرح دستبردار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ کب اس ریوڑ کو اچھی بھلی چیز میں یہودی سازش دکھ جائے، اچھے بھلے بندے کو قادیانی کا لیبل لگ جانے کے بعد صفائیاں دینی پڑتی ہیں۔ یہ ریوڑ لب مشتعل ہوکر نکل پڑے اور کچھ بھی لر گزرے کسی کی مجال تک نہیں کہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھے۔ سرتن سے جدا کی صدائیں بلند ہوتی سنائی دیتی ہیں۔

یونانی فلسفی ایناکارسس نے کہا تھا کہ قانون مکڑی کا جالا ہے، جو چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں کو جکڑ لیتا ہے جبکہ بڑے بڑے کیڑے مکوڑے اسے توڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ جہاں قانون بڑے مکوڑوں کو بھی جکڑ لے وہی قومیں ترقی کے منازل طے کرتی ہیں۔ دو ٹکے والا محاورہ اور اس کا پس منظر کچھ بھی ہو لیکن واقعی ان کے دو ٹکے دیکھتے ہی دیکھتے چار روپے تک پہنچ گئے اس میں ان پھانسیوں کا ضرور کچھ کردار ہے۔

Facebook Comments HS