لاک ڈاؤن کے چند مثبت پہلو

کرونا کی ہی بات ہوتی ہے
اس لیے ہم صبح اور شام کے فرق میں پڑے بغیر ( کووڈ 19 ) کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کے چند مثبت پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔
اچھی بات یہ ہے لاک ڈاؤن کی بدولت شور، ہوا، لائیٹ یا انرجی کی آلودگی میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی اور مٹی کی آلودگی میں کمی بھی قابلِ غور ہے لاہور اور کراچی میں ائیر کوالٹی انڈکس خطرناک حد سے معتدل حد تک ہوگیا ہے پچھلے پندرہ دنوں سے AQI 60 سے 90 کے درمیان ہے، ہوا کے معیار میں فرق کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اب صبح و شام کے علاوہ دن کے کسی بھی پہر پرندوں کی چہچاہٹ نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ فضا میں ہلکا پن اور تازگی ہے۔
ملکی اور غیر ملکی سطح پر ہونے والے جرائم کی شرح میں کمی بھی قابلِ ذکر ہے۔
”دی سب آرڈینیٹ سپر پاور“ امریکہ میں بھی جرائم کی رفتار میں پندرہ سے تیس فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں محکمہء پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پندرہ مارچ سے بچوں کے اغواء میں % 42 جبکہ خواتین کے ساتھ جبر وزیادتی میں % 50 کمی آئی ہے۔ بھتہ خوری کے جرائم میں 77 فیصد کمی بھی قابلِ ذکر ہے۔
اسی طرح کرونا وائرس کے بچھائے گئے جال یعنی لاک ڈاؤن کے باعث قومی سطح پر بھی کرائم رپورٹس میں کمی بتائی جاتی ہے۔
سندھ انتظامیہ کے مطابق چوری اور ڈکیتی کے کیسز میں 60 % کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ تو تھے وہ اعداد و شمار جو مختلف ذرائع سے سامنے آئے۔ تاہم ان تمام بیرونی اور اندرونی رپورٹس میں کتنے فیصد صداقت ہے اس کے بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کرونا نے سب کی توجہ اپنی جانب کچھ اس طرح سے مبذول کرائی ہے کہ بہت سے اہم معاملات پسِ پشت جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
البتہ کووڈ 19 نے ہماری زندگیوں پر کیسے مثبت اثرات مرتب ہیں یا کرسکتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں
۔
1۔ پودوں سے دوستی کریں
یہ عادت آپ کو کم خرچ بالا نشین کے اصول پر کاربند رکھتی ہے کسی کے گھر میں پہلے سے ایک باغیچہ موجود ہے یا کسی کے پاس ذرا سے قطعے پر خالی مٹی کا ڈھیر ہے آپ جس طرح چاہیں اور جو چاہیں پھل، پھول یا سبزی اگا سکتے ہیں بس اس کے لیے آپ کو ذمہ دار ہونا ہے، یعنی جتنا خیال آپ خود اپنا رکھتے ہیں، اسی طرح سے ننھی کونپلوں کی دیکھ بھال کریں کیونکہ پودوں کی بہترین نشونما کے لیے صرف بیجوں کو مٹی میں دبا کر پانی دینا ہی اہم کام نہیں۔ گوڈی اور پودوں کی خوبصورتی برقراد رکھنے کے لیے بڑھتی ہوئی شاخوں کی کتر بیونت بھی برابر اہمیت کی حامل ہے۔
اس بہار کے موسم سے خوب فائدہ اٹھائیں۔ اوروں سے امیدیں لگانے کی بجائے اپنی توانائی اور وقت ان بے زبان جانداروں پر صرف کریں۔ آپ کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ پودوں سے دوستی آپ کو فطرت کے ایک اور حسین ترین پہلو سے روشناس کروائے گی۔
2۔ بوسیدہ تعلقات بحال کریں
سوشل ڈسٹنسنگ یا آئسولیشن کو اپنے ارد گرد کے رشتوں میں دراڑ نہ بننے دیں۔ سماجی رابطے کے ذرائع اور جدید ٹینکلوجی سے مستفید ہوں اور جہاں کہیں بھی آپ کے رشتہ دار جو عرصے سے خاموش ہیں یا آپ سے ناراض ہیں ان سے بات کریں۔ وہ لوگ جو آپ کے بہت قریب رہتے ہیں مگر ان سے تفصیلاً بات چیت کیے بھی آپ کو عرصہ گزرگیا ہے یہ وقت ہے کہ پھر سے اپنے تعلقات اور ہم آہنگی کو بڑھائیں۔ اپنے دل کی بات کہیں، ان کی رائے کی عزت کریں اور اپنا نظریہ ان پر نہ تھوپیں۔ سماجی رابطے کے ذرائع کو اپنے گلے کا طوق نہ بھی نہ بننے دیں اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اور بہترین وقت گزاریں۔
3۔ انتظامی معاملات کی دیکھ بھال کریں
قرنطینہ کو آفت سمجھنے کی بجائے اس سے مستفید ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ گھر میں رہتے ہوئے اپنے گھر اور باہر کے معاملات کا نا صرف جائزہ لیں بلکہ آپ میں یہ احساس بھی پیدا ہو کہ آپ گھر، دفتر یا کاروبار میں خود کو کس طرح سے بہترین بناسکتے ہیں۔ آپ یہ فرق کرسکتے ہیں کہ گھر میں، اہلِ خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے آپ کیسا رویہ رکھتے ہیں اور گھر سے باہر آپ کا رویہ کیسا ہوتا ہے یعنی کیا آپ اپنے گھر والوں اور باہر کے لوگوں کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں اور کہیں کوئی زیادتی تو نہیں کر رہے۔ اگر آپ مرد ہے ہیں تو گھر میں رہتے ہوئے اپنے گھر کی خواتین کا ہاتھ بٹائیں اور اگر آپ خاتون ہیں تو ان کی فراغت کو آسودگی میں بدلیں ان کے کاروباری یا دفتری مسائل کو غور سے سنیں۔
گھر میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کریں اور فہرست تیار کریں۔
علاوہ ازیں، بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزرانے کا یہ بہترین موقع ہے، انہیں گھر کے بنے غذائیت سے بھرپور کھانوں کا عادی بنانے کا یہ نادر موقع ہے کیونکہ اب چاہے کوئی بچہ کتنی بھی ضد کرے اور فاسٹ فوڈز پر بھٹکا دینے والی ڈسکاونٹ آفرز کے باوجود آپ بچوں کو اچھی طرح بہلا سکتے ہیں لہذا اپنے بچوں کو ٹیب یا موبئل یوزر بنانے کی بجائے ان کے ساتھ فنی، نصابی اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں، لڈو، بیڈمنٹن، کرکٹ، UNO جیسے کھیلوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اپنی سہولت سے آپ کھیل سکتے ہیں۔ 13 سے اٹھارہ سال کے بچے، بچیوں کے ساتھ خاص طور پر بہترین وقت گزاریں ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں اور ایک مہربان دوست کی طرح مل کر ان کی کسی بھی پریشانی کا حل نکالیں۔
4۔ اپنا احتساب کریں
سب سے مشکل مگر سب سے ضروری عمل جو آخر میں نا صرف آپ میں آگے بڑھنے اور بہتر سے بہترین انسان بننے کی لگن پیدا کرے گا بلکہ احتساب کا یہ عمل آپ کے دل میں دوسروں کے لیے گنجائش بھی پیدا کرے گا یہ آپ کی سوچ کو وسیع کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور بلاشبہ یہ آپ کو اپنے رب کے قریب کرے گا۔ مگر یہ صرف اور صرف اسی صورت ممکن ہے جب آپ بالکل غیر جانبداری سے اپنا تجزیہ کریں۔ دوسروں کے بارے فیصلہ کن انداز میں سوچنا چھوڑ دیں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہیں۔
اور کتنا ہی اچھا ہو اگر قرنطینہ کے دوران سیکھی گئں اچھی باتوں کو میں اور آپ اپنی آئندہ زندگی کا حصہ بنالیں۔
احتیاط برتیں مگر افراتفری نہ پھیلائیں۔ خوش رہیں اور محفوظ رہیں!

