شہریار آفریدی کے بھتیجے نے خودکشی نہیں کی، بیوی نے دوسری شادی کے تنازع پر قتل کیا


شہریار آفریدی کے بھتیجے فواد آفریدی کی مبینہ خودکشی کی اطلاع غلط ثابت ہوئی۔ جواد آفریدی کی جانب سے دوسری شادی کی خواہش پر ان کی اہلیہ نے اپنے والد اور ڈرائیور کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ تفصیلات کے مطابق 8 مارچ کو وزیرِ سیفران شہریار آفریدی کے بھتیجے کی خودکشی کی خبر آئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ جواد آفریدی نے اپنے سر میں گولی مار کے خودکشی کی ہے جس کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی تھی۔

جواد آفریدی کے اہلخانہ نے تصدیق کی تھی کہ جواد آفریدی نے بعض وجوہات کی بنا پر اپنے سر میں گولی مار کر زندگی ختم کرلی تاہم تھانہ کے ڈی اے پولیس نے نوجوان جواد آفریدی کی لاش ہسپتال منتقل کرکے تحقیقات شروع کردی تھیں اور اب پولیس نے سراغ لگایا ہے کہ جواد آفریدی کو ان کی بیوی نے قتل کیا ہے۔

پولیس کے مطابق جواد آفریدی کو ان کی اہلیہ ماہ نور دختر بابر آفریدی نے پستول سے مار کر قتل کیا اور اس کارروائی میں اسے اپنے والد بابر آفریدی اور ڈرائیور اسرار ولد سلیم گل کی معاونت حاصل تھی وجہ عداوت مقتول کا دوسری شادی پر اصرار تھا جس پر میاں بیوی کے مابین ناچاقی پیدا ہوئی جبکہ سسر کی طرف سے بھی انہیں اس بارے میں دھمکیاں ملی تھیں۔

پولیس نے مقتول کے والد سلطان آفریدی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا اور ایک ماہ کے اندر اندر خودکشی کے اس ڈرامے کا بھانڈا کوھاٹ پولیس نے پھوڑ دیا۔ ذرائع کے مطابق واقعہ کے ایک ملزم اسرار ولد سلیم گل کو کے ڈی اے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے تاہم مقتول کی بیوہ ماہ نور اور اس کے والد کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ پولیس ملزمان کو تلاش کر رہی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

Facebook Comments HS