کرونا اور پاکستانی یونیورسٹیوں کے بلند و بانگ دعوے
جب سے کرونا کی وبا پھیلی ہے اس سے نبٹنے کے لئے ایک نہیں دو دو جانب سے امید افزا مشوروں اور خبروں کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو وہ ہیں جو کہ زیتون، کلونجی، وضو اور وظیفوں سے کرونا سے نبرد آزما ہونے کے طریقے بتا رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں اہل سائنس نے نت نئے دعووں کی بھرمار کر دی ہے۔ بندہ یا بندی کرے تو کیا کرے۔ ایک تو پاکستانی قوم کو یہ خوش فہمی جو دراصل غلط فہمی ہے دور کر لینی چاہیے کہ وہ دنیا سے انوکھے اور ما قوف الفطرت خوبیوں کے مالک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں پراعتماد ضرور ہونا چاہیے لیکن بے جا جلدبازی اور بلند بانگ دعوے، کرونا جیسی عالمی وبا کے دوران نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
کرونا کے حوالے سے ہونے والی طبی تحقیق کے دو اہم پہلو ہیں۔ ا یک تو یہ کہ اس کی تشخیص کے لئے کوئی باقاعدہ آلہ، کٹ یا ٹیسٹ وغیرہ تیار کر لیا جائے۔ امراض کی تشخیص کے لئے استعمال ہونے والے آلات کی مثال بخار کا پتا لگانے والے گھریلو تھرما میٹر سے لے کرایم آر ای تک جیسی پچیدہ اور مہنگی مشین تک ہے۔ ظاہر ہے کرونا کا پتہ لگانے کا طریقہ کار جتنا موثر، سستا اور تیز ترین ہوگا اتنا ہی موجودہ وبا میں کار آمد ہو گا۔ دوسری طرف اس مرض کی باقاعدہ دوا یا ویکسین کی ایجاد ہے جس کے لئے امریکی صدر نے ملریا کے لئے استعمال ہونے والی دوا کا نام تجویز کیا لیکن ابھی اس پر حتمی نتائج آنا باقی ہیں۔ پاکستان کی کچھ یونیورسٹیوں نے کرونا کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے کچھ دعوے کیے جن کو پرکھنا بے حد ضروری ہے۔
سولہ مارچ کو پنجاب یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے نہایت وثوق سے بتایا کہ یونیورسٹی کے اعلی تحقیقاتی مرکز براے سالماتی حیاتیات یا سینٹر آف ایکسیلنس آف مالیکولر بائیولوجی کے ہونہار محققین نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے ایک نہایت ارزاں کٹ تیار کی ہے جو آٹھ سو روپوں میں کرونا ٹیسٹ ممکن بنا دے گی۔ موجودہ کرونا تشخیصی ٹیسٹ کی قیمت آٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی ٹیم اس اہم ٹیسٹ کی قیمت ایک ہی جست میں دس گنا کم کرنے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ صرف یہ بتا دیں کہ اس کرونا ٹیسٹ کے لئے عوام نے کب اور کہاں حاضر ہونا ہے۔ نیز اس قدر اہم کامیابی کا تذکرہ اور تفصیلات یونیورسٹی کے متعلقہ تحقیقی ادارے کی ویب سائٹ پر نمایاں طور پر کیوں نہیں ہے۔ اسی اثنا میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کی ہدایات پر کیمپس کی مختلف جگہوں پر پرندوں کی خوراک کے برتن رکھوا دیے گئے ہیں تاکہ کرونا کی وجہ سے بھوکے رہ جانے والے پرندو ں کو خوراک اور پانی مہیا کیا جا سکے۔
اس سے ایک دن پہلے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد کے ڈاکٹر عطا الرحمان اسکول آف اپلائڈ بائیو سائنسز یا عطا الرحمان اسکول براے عملی حیاتیات کے حوالے سے یہ خبربریک کی گئی کہ وہاں کے دو محققین کے زیر نگرانی کرونا کی تشخیص کے حوالے سے نہایت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں چین کے ووہان انسٹیٹیوٹ کا تعاون بھی شامل حال تھا۔ یونیورسٹی کے مطابق اس طریقہ کار کا لیبارٹری میں اور ایک مریض پر تجربہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ بھی نہایت بڑی خوشخبری تھی کیوں کہ ووہان والوں سے زیادہ کرونا کے متعلق کون جانتا ہو گا لیکن اس کے بعد کیا ہوا اس پر یونیورسٹی کی ویب سائٹ اور راوی دونوں خاموش ہیں۔
اپریل کے مہینے میں ایک معروف ٹی وی چینل کی ویب سائٹ کے مطابق داؤ یونیورسٹی، کراچی کے حوالے سے یہ خوش خبری پہنچائی گئی کہ وہاں پر کرونا کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے۔ اس علاج کا بنیادی انحصار کرونا کے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں سے حاصل کردہ پلازما کو بتایا گیا ہے ریسرچ ٹیم کے سربراہ نے قوم کو تسلی دی ہے کہ جلد ہی اس تحقیق سے کرونا کے عفریت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس عظیم کامیابی پر پاکستان سمیت افریقہ، امریکا، چین، عرب ممالک اور پتہ نہیں کون کون سے سربراہان مملکت کی جانب سے ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم کا شکریہ۔
آغا خان ہسپتال اور یونیورسٹی نے اس وبا کے شروع میں ہی اس وقت اپنی جانب توجہ مرکوز کرا لی تھی جب ٹیسٹ کے حوالے سے لوگوں کے ہسپتال کے اندر جانے پر خاصہ ہنگامہ بپا ہو گیا تھا۔ تاہم اب یہ شاندار تحقیقی ادارہ اپنی ویب سائٹ پر لوگوں کو ہاتھ دھونے اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے جیسے عمیق موضوعات پر رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ فاصلہ رکھنے کے لئے اردو میں ایک دوست نے ”تن دوری“ کی اصطلاح متعارف کروائی ہے لہذا ”تن دوری“ کے ضمن میں آغا خان یونیورسٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز علم کی دنیا میں ایک درخشاں ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ سب اچھی خبریں ہیں تاہم یہ اتنی اچھی خبریں ہیں کہ شک ہونے لگتا ہے۔ جب سے آغا وقار صاحب نے ایک معروف صحافی کے ساتھ مل کر پانی سے چلنے والی گاڑی اسلام آباد کی سڑکوں پر چلا کر دکھائی ہے دل تو پاگل سا ہو گیا ہے۔ کم بخت آسانی سے کسی بات پر یقین ہی نہیں کرتا۔ جس قدر کامیابیاں کرونا کی عالمی وبا میں پاکستانیوں نے سمیٹی ہیں آیندہ طب کے نوبل انعام کے اتنے زیادہ پاکستانی حقدار ہوں گے کہ نوبل انعام کی کمیٹی کو مصیبت پڑ جانی ہے کہ کس پاکستانی کو اس اعزاز سے نوازیں اور کس کا ہماری طرح صرف شکریہ ادا کریں۔




