گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے


بچپن میں جب یہ سنتا تھا کہ ”گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے“، تو اس وقت سنجیاں کی بجائے سنیاں اور سنیاں سے ویرانی اور ویرانی سے موسم گرما میں سورج کی تیز دھوپ سے دہکتی دُپہر میں اپنے گاؤں کی گلیاں ذہن میں آتی تھیں۔ اس وقت گاؤں کے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے یا ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوتے۔ باہر ویران گلیوں میں تیز دھوپ ڈیرا ڈالے دہشت پھیلا رہی ہوتی تھی۔ اس دور میں گھروں میں کمروں کے آگے برآمدے ہوا کرتے تھے، جن کے دروازوں پر سرکیاں لٹکا دی جاتی تھیں، تا کہ گرمی اور سردی دونوں میں موسمی شدت سے بچا جا سکے۔ گرمیوں کی دُپہر میں، اگر گھر سے باہر نکلنا مقصود ہوتا، تو ٹھنڈے پانی سے بھگوئے رومال سے چہرا اور سر ڈھانپ لیا جاتا تھا، کہ سورج کی لو سے محفوظ رہیں۔

آج کئی سالوں کے بعد کسی کی زبان سے یہ سنا، ”گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے“، تو اپنا بچپن پھر سے یاد آ گیا۔ آج پرانی یادوں کے ساتھ دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ آج کی سنسان گلیاں بچپن سے مختلف ہیں۔ گلیوں کی ویرانی کی وجہ نا تو موسمی شدت ہے اور نا ہی بچپن کا ڈر کہ ”باہر جاؤ گے تو پکڑنے والا اٹھا لے گا“۔ آج ویرانی اور ڈر زیادہ خوف ناک ہے۔ آج گلیاں، بازار، شہر اور ملک حتی کہ ساری دنیا سنسان ہو چکی ہے۔ آج تو وہ بھی گھروں میں مقید ہیں، جن کے خوف سے بچے گھروں سے باہر قدم نہ رکھتے تھے۔

آج کی سنسان گلیوں میں پھرنے والا مرزا، کوئی عاشق نہیں ہے، جو اپنی صاحباں کی تلاش میں گھوم پھر رہا ہے۔ ان سنسان گلیوں میں پھرنے والے مرزے کا نام کرونا ہے۔ جو کسی راہ گیر سے اپنی صاحباں کا پتا نہیں پوچھتا، بلکہ یہ ایک ٹھرکی وائرس ہے، جس سے ملتا ہے، اسی پہ عاشق ہو جاتا ہے۔ اور تو اور اسے کسی دوسرے سے ملنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ اس مرزے (کرونا) کی ایک جھلک دیکھنے والا راہ گیر، دوسروں سے الگ تنہائی میں رہنے لگتا ہے اور اس پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ کچھ تو زندگی سے بیزار ہوکر سفر آخرت پہ نکل جاتے ہیں اور جو اپنے سفری اخراجات نہ ہونے کے باعث اپنی کمیٹی نکلنے کا انتظار کرنے لگ جاتے ہیں، وہ اس ٹھرکی وائرس سے کبھی نہ ملنے کا عہد کر کے گھروں ہی میں قید ہو جاتے ہیں۔

یہ مرزا سیاحت کا شوقین ہے۔ اس نے پیدل اپنے سفر کا آغاز چین سے کیا اور چند ماہ ہی میں یہ ایران، اسپین، اٹلی، برطانیہ اور امریکا سمیت دنیا کا کونا کونا دیکھ چکا ہے۔ رستے میں جس سے بھی ملتا ہے اپنی ہوس بھری نگاہوں سے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ یہ تو بڑا ہی منحوس عاشق ہے جس پر رحم کرنا خود کشی کے مترادف ہے۔ ساری دنیا دیکھنے کے بعد بھی، یہ اپنا سفر ختم نہیں کر رہا۔ اس کی وجہ اس کی ہوس کا حد سے بڑھ جانا ہے۔

آج لوگ اس سے بچنے کے لئے جہاں گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، تو وہیں کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ جن میں بہت سے مسائل تو انتہائی خطرناک اور نا قابل فراموش ہیں۔ لیکن میں چند غیر ضروری اور قابل فراموش مسائل کا ذکر کروں گا۔

جہاں لوگ گھروں میں مقید ہیں، وہیں کرونا کے علاوہ دو نامناسب مسائل خطرے کی گھنٹی تھامے ہوئے ہیں۔
ماہر نجومیات کی رپورٹ کے مطابق گھروں میں لوگوں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے جس کے نتیجے میں ایک سال کے بعد دنیا کی آبادی میں ایک تہائی اضافہ متوقع ہے، اور اگر ایسا ہوا تو خوراک، لباس اور مکان کی قلت ہو سکتی ہے۔ جب کہ ماہرین آثار قدیمہ نے پاکستانیوں کو نہ گھبرانے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا ہے، چوں کہ ہمارا بھٹو زندہ ہے، تو وہ مشکل میں خوراک، لباس اور مکان دینے کا عملی مظاہرہ کرے گا۔

البتہ دوسرا مسئلہ زیادہ غیر سنجیدہ ہے اور وہ یہ ہے، کہ جب آج کے مرزے یعنی کرونا کے پوری دنیا کی سیر کے دوران میں چلتے چلتے پاؤں سوزش کا شکار ہو جائیں گے اور تیز چلنے کی وجہ سے دھڑکن کی رفتار اس کی اپنی اسپیڈ سے بڑھ جائے گی، تو اسے دل کا دورہ پڑ جائے گا۔ حرکت قلب بند ہونے سے یہ فوت ہوجائے گا، تو لوگ گھروں کی قید سے خوش خوش باہر نکلیں گے۔ مردوں کے ہاتھوں میں ان کا دیوان ہو گا (یعنی شاعری کی وہ کتاب جسے انہوں نے خود دوسری بار نا پڑھنے کا عہد کر رکھا ہو گا) اور ان کی بیویوں کے ہاتھوں میں ان کا مشترک دیوان ہو گا (یعنی وہ صاحب زادہ یا صاحب زادی جو ان فرصت کے لمحات کا نتیجہ ہو گا)۔

تب دونوں مسائل ان کے ساتھ چمٹے ہوں گے۔ پھر آباد شہروں میں قاری کم اور صاحب دیوان زیادہ ہوں گے۔ ہم ان دونوں دیوانوں کے نامناسب تعداد میں ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ خوف ناک چیز جو ان شعرا کا ہیئر اسٹائل ہو گا، تو بالوں کے ساتھ لٹکتے شاعر کا دیدار ان مضبوط دل افراد (جو کرونا سے بچ جائیں گے) کے لئے موت کے فرشتے سے کم ثابت نہیں ہو گا۔

ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے، کہ تمام ملکی و غیر ملکی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کرونا نامی مرزے کو جلد از جلد ہلاک کیا جائے، تا کہ ہمارے عوام کو فرصت کے لمحات نہ مل سکیں پاکستان زیادہ آبادی، بے وزن اشعار اور با وزن شعرا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

Facebook Comments HS