پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی ایک طلسماتی شخصیت

پہلی جماعت سے ایم فل تک بہت سارے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ جن میں سے کئی یاد رہے اور کچھ کا صرف نام تک یاد ہے۔ نام یاد رہنے اور یاد رہنے میں بہت فرق ہے۔ ایک جماعت میں تقریباً 50 ہم جماعت ہوتے ہیں لیکن دوست چند ہی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح استاد ہو کر استاد بھی کوئی ہی بنتا ہے۔ 18 سالہ تعلیمی سفر میں مجھے جو صحیح معنوں میں استاد ملے اور جو استاد کہلائیں تو

Read more

ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی: زمانہ طالب علمی اور میری خوش قسمتی

پہلی جماعت سے ایم فل تک بہت سارے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ جن میں سے کئی یاد رہے اور کچھ کا صرف نام تک یاد ہے۔ نام یاد رہنے اور یاد رہنے میں بہت فرق ہے۔ ایک جماعت میں تقریباً 50 ہم جماعت ہوتے ہیں لیکن دوست چند ہی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح استاد ہو کر استاد بھی کوئی ہی بنتا ہے۔ 18 سالہ تعلیمی سفر میں مجھے جو صحیح معنوں میں استاد ملے اور جو استاد کہلائیں تو

Read more

حکایات جدید و مابعد جدید (خاک کی مہک: ڈاکٹر ناصر عباس نیئر)

ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز تنقید سے کیا۔ ان کے موضوعات میں جدیدیت و مابعد جدیدیت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ موضوعات پیچیدہ اور مشکل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر طلباء ان موضوعات سے ناآشنا ہی رہتے ہیں۔ ناصر عباس نیر صرف نقاد نہیں ہیں بلکہ آپ اورینٹل کالج، جامعہ پنجاب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں اور یہ فن خوب جانتے ہیں کہ مشکل اور پیچیدہ موضوعات کس طرح سادہ اور

Read more

گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے

بچپن میں جب یہ سنتا تھا کہ ”گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے“، تو اس وقت سنجیاں کی بجائے سنیاں اور سنیاں سے ویرانی اور ویرانی سے موسم گرما میں سورج کی تیز دھوپ سے دہکتی دُپہر میں اپنے گاؤں کی گلیاں ذہن میں آتی تھیں۔ اس وقت گاؤں کے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے یا ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوتے۔ باہر ویران گلیوں میں تیز دھوپ ڈیرا ڈالے دہشت پھیلا رہی ہوتی تھی۔

Read more