لندن ہائیکورٹ نے برطانیہ کو یورپی یونین سے علیحدگی روک دی

\"uk\"

لندن +مانچسٹر (عارف پندھیر+اے ایف پی+ بی بی سی+ رائٹر) برطانوی ہائیکورٹ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے برطانوی حکومت کے منصوبہ کو اپ سیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ یونین سے نکلنے کے عمل پر لازمی ووٹنگ کرے۔ برطانوی حکومت تنہا یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتی، اس کی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کی جائے۔ 3 سینئر ججوں نے کہا کہ اکیلے وزیراعظم تھریسا مے کے پاس یورپی یونین لزبن معاہدہ کے آرٹیکل 50 پر عملدرآمد کرنے اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اس فیصلے سے پوری یونین سے نکلنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ حکومت ازخود لزبن معاہدے کی شق 50 کے تحت کارروائی شروع نہیں کر سکتی جس کے تحت یورپی یونین سے رسمی مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم تھرسیامے نے کہا ہے کہ ریفرینڈم کی رو سے ارکانِ پارلیمنٹ کو رائے شماری کرنے کی ضرورت نہیں تاہم مبصرین نے اسے غیرآئینی قرار دیا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ شق 50 کا سہارا لیں گی جس کے تحت یورپی یونین کو باضابطہ طور پر برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے سے مطلع کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائیگی‘ اس حوالے سے سماعت اگلے ماہ متوقع ہے۔ اس سے قبل برطانیہ نے 48.1 فیصد کے مقابلے پر 51.9 فیصد کی اکثریت سے \’بریکسٹ\’ کہلانے والے ریفرینڈم کے ذریعے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یورپی یونین کے دیگر 27 ارکان نے کہا کہ برطانیہ کی علیحدگی کے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کیے جا سکتے جب تک شق 50 کا سہارا نہ لیا جائے۔ وکیل جینا ملر نے ہائی کورٹ کے باہر کہا ہے کہ حکومت کو \’اپیل نہ کرنے کا عقلمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا یہ نتیجہ ہم سب کے بارے میں ہے۔ یہ ہماری ٹیم کے بارے میں نہیں۔ یہ ہمارے برطانیہ اور ہم سب کے مستقبل کے بارے میں ہے۔ ایک حکومتی ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انھوں نے کہا ملک نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ ایکٹ کے ذریعے یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور حکومت ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ برطانوی ہائی کورٹ کے آرٹیکل 50 پر فیصلے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ایف ٹی ایس ای میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ فیصلے کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر بڑھ کر 1.2421 ڈالر ہو گئی لیکن ایف ٹی ایس ای 100 میں 16 پوائنٹس کی کمی ہو گئی۔ ای ٹی ایکس کیپیٹل کے نیل ولسن کا کہنا ہے کہ ’عدالت کے فیصلے نے بریکسٹ کو مزید مشکل بنا دیا ہے پاؤنڈ کو بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ بینک آف انگلینڈ کی تازہ انفلیشن رپورٹ جو آج دوپہر کو شائع کی گئی ہے، اس سے پاؤنڈ بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ توقع ہے کہ بینک کی جانب سے شرح سود کو بھی 0.25 فیصد پر ہی منجمد کر دیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ برطانیہ معاشی شرح نمو اور افراط زر کے بارے میں اپنی پیش گوئی بہتر بنائے گا۔ برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں یورو کے مقابلے میں بھی 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔ سپریڈیکس کے کونور کیمبل نے کہا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کو آئندہ ماہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ایف ٹی ایس ای 100 میں سب سے زیادہ بہتری رائل بینک آف سکاٹ لینڈ میں ہوئی جو 6.3 فیصد رہی جبکہ رینڈگولڈ ریسورسز میں سے سب سے زیادہ 6.7 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔ موریسنز کے حصص میں بھی 2.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عالمی تبادلہ مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ ایک ڈالر 24سینٹ کا ہو گیا۔ پاؤنڈ کی قدر میں 1.1فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words