لاک ڈاؤن اور مساجد کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر 2019 کے وسط میں چین کے شہر وہان سے ایک وبا نے جنم لیا۔ جسے شروع شروع میں زیادہ سیریس نہیں لیا گیا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، تادم تحریر 180 سے زائد ممالک اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور سوا لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو فروری کے آواخر میں پاکستان میں کراچی میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا لیکن کچھ انتظامی خامیوں کی بنا پر پنجاب کے شہروں میں بھی مریض دیکھنے کو ملے۔ عالمی ایمرجنسی اور ملک میں پھیلے خوف ہراس کے پیش نظر مارچ میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک گیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا جس میں تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے اور جامعہ الازہر اور جامعہ نعیمیہ کے فتویٰ کے مدنظر عبادات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پر بعض علماء کرام مشتعل بھی ہوئے اور نہ صرف حکومت مخالف تقاریر بلکہ لوگوں کو ترغیب دی کہ اجتماعات کو جاری رکھیں یہ اللہ کا عذاب ہے جو صرف کفار کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ اس پر سندھ و پنجاب میں مجبوراً پولیس کو مختلف مساجد کے اماموں گرفتار کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر ایک کارٹون بہت وائرل ہوا جس میں ایک پولیس والا امام صاحب کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا ہے کہ خدارا گھروں میں رہیں۔

اپنے ارد گرد اپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ نہ صرف مساجد بلکہ چوکوں پر بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے نظر آئیں گے۔ اب اگر دیکھا جائے تو قصوروار علما بھی نہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ لوگ گلی کوچوں میں بھیڑ کی شکل میں موجود ہیں تو دس منٹ مسجد میں آنے سے بھی ان کو کچھ نہ ہو گا۔ یہ بھی اپ نے دیکھا سنا اور پڑھا ہو گا کہ جب انسان کو کسی کام پر سختی سے ٹوکا جائے تو وہ کام کر گزرنا اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے اور بات اگر دین کی ہو تو موجودہ صورتحال میں اس شخص کا ایمان بھی جاگ اٹھتا ہے اور توبہ تائب ہو کر نماز روزے کی پابندی لازم سمجھتا ہے جو کبھی ان چیزوں سے آشنا ہی نہ تھا۔

یہ ایک اچھی بات ہے کہ انسان عبرت پکڑے اور اپنے رب کے حضور بسجود ہو لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ ہم باقاعدہ مساجد میں نماز ادا کریں۔ اگر اپ دیہاتوں میں دیکھیں تو لوگ اپ کو طرح طرح کی دلیلیں دیں گے اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بچوں کو بھی مساجد میں لے جائیں گے۔ میں مقصد یہاں لوگوں پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان تمام حقائق پر بات کرنا ہے جو اس ایمرجنسی کی صورتحال میں پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ مجھے یہاں پر ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم یاد آ رہا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر بیان فرمایا : ”اپنے امیر کی اطاعت تم پر فرض ہے“ یہاں پر بھی ہم وزیراعظم کے اقدامات کا خیر مقدم کرنے کی بجائے اسے ایمان کی کمزوری و دیگر القابات دے رہے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور گورنمنٹ کے فیصلے پر عمل پیرا ہوں تاکہ خود کو اس معاشرے کو اس چھوتی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اپنی بات کا اختتام میں ایک اور حدیث پاک کا مفہوم پر کروں گا ”حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم کسی علاقے میں طاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو“

ھم میں بیشتر لوگ سکول، کالجوں مدارس، مِلز، و دیگر کام کی جگہ سے گھروں کو لوٹے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ بجائے اس کے کی مساجد، چوک گلی محلے یا رشتہ داروں کے ہاں جائیں بلکہ اپنے گھروں میں محدود ہو رہیں تاکہ وبا پر کنٹرول یقینی بنایا جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احمد رضا، فیصل آباد کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments