انسان: دیو مالا بُننے والا حیوان


کیرن آرم سٹرانگ اپنی شہرہ آفاق تصنیب ”خدا کے لئے جنگ“ کے دیپاچے میں رقمطراز ہیں:

قدیم دور میں لوگ تاریخ کو مختلف نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ انہیں اس بات میں کم دلچسپی ہوتی تھی کہ ایک واقعہ فی الاصل ہوا کیسے تھا اور اس بات میں زیادہ دلچسپی کہ کسی واقعہ کے ان کے لیے معنی کیا ہیں۔ تاریخی واقعات کو انفرادی واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا جو زمان میں کسی خاص نکتے پر ظہور پذیر ہوئے ہوتے تھے، بلکہ انہیں مستقل، لازمانی حقیقتوں کے خارج میں اظہار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ قدیم دور کے انسان کے لیے تاریخ ایک تکراری عمل تھا، اور آسمان تلے کچھ بھی نیا نہیں ہوتا تھا۔

تاریخی واقعات اس ابدی پہلو کے اظہار کا ذریعہ تھے۔ چنانچہ ہم نہیں جانتے کہ واقعتًا کیا ہوا تھا کہ جب بنی اسرائیل سمندر کے راستے مصر سے فرار ہوئے۔ یہ کہانی اسطورہ یا دیومالاکے انداز میں لکھی گئی ہے، اور اس کو اس سفر کی مختلف رسومات کے ساتھ، اور ( بنی اسرائیل کے ) گہرائی میں اترنے اور خدا کے سمندر پھاڑنے، کہ جس سے نیا جہان پیدا کیا جا سکے، جیسے استعاروں میں بیان کیاگیا ہے۔ بنی اسرائیل ہر سال اس اسطورہ کا تجربہ اپنی عید کی رسومات میں کرتے ہیں، جو کہ اس اجنبی کہانی کو ان کی اپنی زندگیوں کا حصہ بنا دیتی ہیں، اور انہیں اس واقعے کو اپنی ذاتی واردات بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب تک ایک واقعے کو اس طرح سے اساطیری شکل نہ دی جا ئے ا ور اسے ماضی سے آزاد کر کے ایک جذبات کو انگیز کرنے والے مذہبی نظام میں نہ ڈھالا جائے، اسے مذہبی نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ پوچھنا کہ آیا مصر سے خروج اسی طرح سے ہوا تھا جس طرح کہ بائبل میں بیان ہوا ہے، یا اس کی صحت سے متعلق تاریخی اور سائنسی ثبوت مانگنا، اس واقعے کے بیان کرنے کے مقصد کو نہ سمجھ سکنے کی غلطی ہے۔

یہ مائیتھوس (اسطورائی طرزِ فکر) اور لوگوس (سائنسی طرزَ فکر) کو خلط ملط کرنا ہے۔
لوگوس بھی اتنا ہی اہم سمجھا جاتا تھا جتنا کہ مایئتھوس۔ لوگوس منطقی، عملی اور سائنسی طرزِ فکر ہے، جو لوگوں کو دنیا میں اپنے وظائف ٹھیک ٹھیک انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔

مندرجہ بالا چشم کشاءمشاہدہ انسان کی شعوری ساخت کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اسطورہ یا دویومالا بنُنے کی لاشعوری ضرورت انسان کی شعوری بناوٹ سے تعلق رکھتی ہے جو کہ اپنی ساخت میں استعاراتی ہے۔ عموماً لوگ یہ سمجھتے ہیں کے استعارے یا محاورے کا استعمال شاعرانہ تخیل کی تحریک کے لئے ایک رتھ کا کام دیتا ہے۔ یا، یہ ادبا و فصحاءکے استعمال کی شے ہے اور ایک تکلف ہے، کی جس کی عام آدمی کو کوئی حاجت نہیں۔ مگر اس کے بر عکس، مشاہدات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ استعارے کا تانہ زندگی کے بانے سے لاینفک حالات میں بغلگیرہے، نہ صرف زبان کے معاملے میں بلکہ خیال و عمل تک میں۔

لسانیاتی حقائق کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ہمارے روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے تصورات استعاروں کے گارے، مٹی سے بنے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مثال سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ استدلال ایک روز مرہ استعمال ہونے والا تصور ہے کہ جسے ہم بے تکلفی سے “جنگ ”کے استعارے میں استعمال کرتے ہیں۔

جیسے
تم اپنے دعوے کا دفاع نہیں کر سکتے۔
اس نے میرے استدلال میں موجود کمزور نکتوں پے شدید حملے کیے ۔
میں نے اس کے استدلال کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے۔
میں کبھی بھی اس سے بحث میں نہیں جیت پاؤں گا۔

ایک ایسے کلچر کا تصورکریں جہاں بحث کے لئے جنگ کا استعارہ رائج نہ ہو، وہاں بحث مباحثہ ہمارے کلچر سے کتنا مختلف نوعیت کا ہو گا۔

ایک اور مثال لیتے ہیں : ”وقت پیسہ ہے“۔
تم میرا قیمتی وقت ضائع کر ہے ہو۔
مشینیں ہمارا وقت بچاتی ہیں۔
تمہیں دینے کے لئے میرے پاس وقت نہیں ہے۔
میں نے اس کا، میں بڑا ٹائم انویسٹ کیا ہے۔
الغرض وقت ایک قابلِ صرف شے کے معنوں میں روز مرہ استعمال ہوتا ہے۔

خود زبان ہی کو لے لیجیے، ہم اسے بطور مواصلات کے ذریعے کے استعمال کرتے ہیں :
میں نے پیغام اس تک پہنچا دیا ہے۔
یہ خیال اسے میں نے دیا تھا۔
اسی طرح استعاروں کی ایک قسم ہے جو تصورات کو رخ یا جہت کے معنوں میں بیان کرتے ہیں، مثئلاً اوپر اور نیچے :

خوشی سے اچھل پڑنا (اوپر ) ۔
غم سے دل بیٹھ جانا (نیچے ) ۔
جاگ اٹھنا (اوپر) ۔
میں بستر پے گر گیا اور سو گیا (نیچے ) ۔
بیماری سے گر جانا (نیچے ) ۔
(بیماری کے بعد) بستر سے اٹھ جانا (اوپر) ۔
ایسی لاتعداد مثالیں ہیں، جسے پڑھنا ہو وہ جارج لیکاف کی کتب کا مطالعہ کرے۔

استعاراتی تصورات کا استعمال انسان کی علمی ترقی کے پورے پورے ادوار کی نمائندگی کا کام کرتا رہا ہے۔ مثلاً ڈیکارٹ نے کائنات کے لئے مشین کا استعارہ استعمال کیا کہ جو اگلے تین سو سال چلا یہاں تک کے کائنات کے لئے مشین کے استعارے کی جگہ نامیے کے استعارے نے لے لی۔

ٓآج بھی استعاروں کا یہ استعما ل انسانی فکر کی بلند ترین زمینوں، مثئلاً نظری طبیعات، تک میں عام ہے، ۔ اس کی مثالیں اسٹرنگ تھیوری (دھاگے یا ریشے کے تصور کا استعمال) ، پارٹیکل فزکس (ذرے کے تصور کا استعمال) ، کائنات کو ایک پھولتے ہوئے غبارے سے تشبیہ دینا وغیرہ ہیں۔

بات شروع ہوئی تھی دیو مالائی اور سائنسی طرزِ فکر کے استعمالات اور ان کے فرق سے۔ انسان ماضی کی دیو مالائیں پیچھے چھوڑ آ یا ہے اور ان پر یقین کرنا اب اس کے لئے اس طرح ممکن یا کم از کم آسان نہیں رہا۔ جو لوگ ابھی تک قدیم دیومالاؤں کے استعاروں کے ذریعے دورِ جدید میں زندگی اور کائینات کو سمجھنے کی کوشش میں ہیں، ان کے لئے اس مسئلے سے نجات کا حل یہی ہے کہ وہ ”من عرفہ نفسہ“ پر عمل کرتے ہوئے اپنے شعور کی ساخت اور بُنت سے متعلق آگہی حاصل کریں ا ور دیکھے ں کہ آیا جو تصورات ان کو آباءسے ورثے میں ملے ہیں وہ کس مادے سے بنے ہیں، اور کیا اسی مادے (استعارے ) سے وہ آج کائنات اور نفسِ انسان سے متعلق جدید ترین تحقیقات کی روشنی میں نئے تصورات بنا کر ایک زندہ اور بیدار انسان کی زندگی گزار سکتا ہے؟ کیا قدیم اسطورات میں ایسے تصورات، مثلاً وحدت الوجود، موجود ہیں کہ جو آج کی جدید ترین طبیعاتی تھیوریز کے لئے اب بھی فرم ورک کا کام دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زین روایت کی بت شکن نفسیات بھی اس سلسلے میں کافی کچھ معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم یہ تمام پنجرے اب تک حقیقت کے سیمرغ کو قید کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے حقیقت کو نت نئے انداز میں دیکھنے اور اوراس سے اپنے تعلق کو سمجھنے میں مدد ضروردی ہے۔

دورِ جدید کا انسان یہ جان چکا ہے کہ جو بھی سانچہ یا فریم ورک وہ حقیقت کو سمجھنے کے لئے اختیار کرے گا اس کی حیثیت محض ایک وقتی اوزار کی ہو گی کہ جس کے ساتھ اسے کوئی مذہبی نوعیت کا جذباتی تعلق قائم نہیں کرنا، کیونکہ کل کو اس سانچے کا سفر بھی ماضی کے کوڑا دان پر منتج ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS