علاج تو خالق کے قرب میں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھئی اس کرو نا نے تو پوری دنیا میں ہی دہشت پھیلا دی ہے۔ جہاں جاؤ وہاں ہی اس کے خوف سے لوگ ڈرے سہمے بیٹھے ہیں، ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں! یہ کہتا ہوا فیضان برابر میں آ بیٹھا۔ بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، ہمیں مل کر اِس سے لڑنا چاہیے اور اِس کرونا وائرس کو شکست دینی چاہیے۔ فیضان نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھلا کیسے اس سے نمٹ سکتے ہیں؟

ہمارے پاس تو اتنے وسائل ہی نہیں ہیں کہ ہم اِس وائرس سے متاثرہ افراد کا ٹھیک طرح سے علاج بھی کر سکیں۔ میں نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بات تو ٹھیک کہتے ہو میرے بھائی مگر؛ مگر کیا؟ فیضان نے جھٹ پٹ یہ سوال کیا۔ دیکھو فیضان! ہم خُدا کی فرماں برداری کریں یا نا کریں، زندگی میں دُکھ درد اور مصائب کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اِن سے فرار ممکن نہیں۔ علاج تو خالق کے قرب میں ہے لوگ سمجھتے ہی نہیں۔

واصف علی واصف لکھتے ہیں : ”باز اور شکِروں کی موجودگی میں چڑیا کے بچے پرورش پاتے رہتے ہیں، آندھیاں سب چراغ نہیں بجھا سکتیں، سمندر اپنی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھتا، شیر دھاڑتے رہتے ہیں اور ہرن کے بچے کلیلیں بھرتے رہتے ہیں، یہ سب اسی مالک کے کام ہیں، اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنے اپنے طرزِ عمل سے گزرتی ہی رہتی ہے، فرعون نے سب بچے ہلاک کردیئے مگر جس بچے نے فرعون کو ہلاک کرنا تھا اُس کو اللہ نے محفوظ رکھا اور پھر اس نے اسے انجام تک پہنچایا، زمانہ ترقی کر گیا مگر مکھی، مچھر اور چوہے اب بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جراثیم کُش دوائیاں نئے جراثیم پیدا کرتی ہیں۔ طبِ مشرق و مغرب میں بڑی ترقی ہوئی، بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا، انسان کل بھی دکھی تھا آج بھی سکھی نہیں، وہ اپنے دکھ سکھ کا علاج دنیاوی چیزوں میں ڈھونڈتا رہا ہے : مگر یہ نہیں جانتا کہ دنیا کہ ہر دکھ اور سکھ کا علاج تو خالق کے قرب میں ہے۔ “

یہ سننے کے بعد فیضان ایک گہری تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ؛ بھائی انسان کس قدر محتاج اور بے بس ہے۔ ایک وائرس نے پوری دنیا کا سسٹم لپیٹ کر رکھ دیا، پوری دنیا آج اپنے ہی ہاتھوں خود کو لاک ڈاؤن کیے ہوئے ہیں۔ یہ وہی دنیا ہے جو اپنے طاقت کے نشے میں چور تھی، زمین سے لے کر چاند تک اپنی حکومت کا دعویٰ کرتی تھی اور آج ان حالات میں ان انسانوں کی بے بسی دیکھ کر بڑا ترس آتا ہے۔

ترس آنا بھی چاہیے فیضان؛ جب مخلوق اپنے خالق کی رٹ کو چیلنج کرنے پر آجاتی ہے تو خالق کے پاس یہ پورا استحقاق ہے کہ مخلوق کو ان کی اوقات یاد دلا دے۔ فیضان! ان حالات میں ایک حکمت کی بات بتاتا ہوں میں تمھیں۔ فیضان بڑی دلچسپی سے سننے لگا مگر اس کے چہرے پر بڑی گہری تشویش کے آثار نمایاں تھے۔ خیر میں پھر بھی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا :انسان اتنا عاجز ہے کہ اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں لوگوں کا ضرورت مند ہے اور اس کی ناتوانی اور عجز اس قدر زیادہ ہے کہ زندگی میں کئی بار ایسے موڑ پر پہنچ جاتا ہے جہاں نہ وسائل و اسباب اس کا ساتھ دیتے ہیں ؛اور نہ لوگ اس کی مدد کرسکتے ہیں۔

لوگ اپنی صلاحیتوں کے باوجود بھی اس کی ضرورت کو پورا کرنے سے عاجز ہوجاتے ہیں ؛اور بالآخر اسے جواب دے دیتے ہیں۔ ایسی نازک صورتحال میں انسان اپنی اور لوگوں کی توانائیوں اور مال و دولت اور اسباب و وسائل سے نا امید ہوکر اپنے سب سہاروں کو گرا ہوا، خاموش، لاتعلق اور بے روح پاتا ہے۔ اس بے بسی اور تنہائی کے عالم میں اپنے پورے وجود سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج، ضرورت مند اور فقیر پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو دل کی اتھاہ گہرائی، اخلاص اور پاک دل کے ساتھ پکارتا ہے تو مالک کائنات اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ آج ہمیں بھی اس امر کی ضرورت ہے۔ جب انسان اس کرونا وائرس سے عاجز ہو چکے ہیں تو ہمیں بحیثیت مسلمان تمام احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعد خود کو اللہ ربّ العزّت کے سپرد کر دینا چاہیے۔

یہ سننے کے بعد فیضان کہنے لگا کہ جہانزیب بھائی بالکل ٹھیک کہا مگر بعض بے رحم افراد، کرونا وائرس کی عالمی تشویشناک صورتحال میں بھی ضرورت مندوں پر رحم نہیں کررہے، بلکہ اس موقع سے غلط فائدہ اٹھاکر ان پر ظلم ڈھارہے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے : میں نے فوراً دعائیہ جملے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس نے دنیا کو مشکل سے دو چار کر رکھا ہے۔ ہمیشہ مشکلات میں ہیرو اسے قرار دیا جاتا ہے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انسانی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر میدان عمل میں اترتا ہے تو نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قوم کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں اور قوم کو مایوسی سے بچائیں۔ انہیں حوصلہ دے کر مشکل میں جینا سکھائیں۔

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے
اُس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جہانزیب ملک کی دیگر تحریریں

Leave a Reply