عہدِ رفتہ اور عہدِ جدید کا بچپن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار ایک کا تاریخی سال تھا جب صبح تڑکے لحاف اوڑھے اُٹھنے کے لیے پر تول رہے تھے کہ خالد حمید کی بارعب آواز کانوں تک پہنچی، ”نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ساتھ دو ہوائی جہاز ٹکرائے ہیں جس سے سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ “ اُس وقت تو ہمیں ان باتوں کی کچھ خاص شد بد نہ تھی سچ پوچھیں تو ہمیں تو ایسی سنسنی خیزخبریں سن کر بڑا مزہ آتا تھا اُس وقت ہم غالباً دوسری جماعت میں پڑھتے تھے والد صاحب کی یہ عادت تھی کہ صبح نماز سے فراغت کے بعد ناشتہ کرتے ہوئے بی بی سی ضرور سُن لیا کرتے تھے اس کا فائدہ غیر محسوس طور پر ہمیں بھی ہوتا رہتا اُس وقت ہمارے لیے دل چسپی کا محور پروگرام ”کھیلوں کی خبریں“ ہوا کرتا تھا جس کو سننے کے لیے دوسری خبریں بھی سُننی پڑتی تھی۔

بی بی سی کے پروگرام واقعی بہت ہی دل چسپ اور معلوماتی ہوا کرتے تھے۔ میرے دادا مرحوم ریڈیو پشاور کی صبح آٹھ بجے والی خبریں سُنا کرتے تھے وہ اونچا سنتے اس لیے وہ ریڈیو کا سپیکر اپنے کان سے لگایا کرتے جو خبریں ان سے مِس ہوجاتی تو پھر مجھ سے پوچھ لیتے۔ میری دادی مرحومہ کو باقی خبروں سے کوئی سروکار نہ ہوتا وہ صرف مہینے کی تاریخ جاننے کے لیے خبروں کا ابتدائی حصہ غور سے سُنتی اور اس واسطے ہم سب کو چپ رہنے کا کہتی۔

خالد حمید اردو میں اور مختار خلیل پشتو کے نیوز کاسٹرز میں میرے پسندیدہ تھے ان کی آوازیں بھاری، بارعب اور صاف ہوتی تھی سب سے بڑھ کر اُن کا لہجہ مصنوعی اور بناوٹی نہیں ہوتاتھا۔ اُس وقت ریڈیو اپنا سنہرا دور گزار کر آخری سانسیں لے رہا تھا۔ مشرف دور میں نجی ٹی وی چینلز کا آغاز ریڈیو کے لیے کاری وار ثابت ہوا اور گھر گھر، قریہ قریہ ٹیلی ویژن نے اپنے پنجے گاڑے چونکہ ہمارے مذہبی گھرانے میں ٹیلی ویژن کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور لہو و لعب میں شمار کیا جاتا تھا اسی لیے مجھے نہ تو کبھی ٹی وی کے فن کاروں کے نام یاد رہیں اور نہ ہی پروگراموں کے البتہ ریڈیو پشاور سے آن ائیر ہونے والے بچوں کے پروگرام کا پورا ہفتہ انتظار کرتے، غالباً اس پروگرام کا میزبان عبداللہ جان ہوا کرتے تھے بڑا ہی دلچسپ قسم کا پروگرام ہوتا تھا۔

ریڈیو پشاور سے ہی پیش ہونے والا ایک اور پروگرام جو اتوار کی صبح پیش ہوتا وہ ”تیر ہیر آوازونہ“ کے نام سے تھا جسے بزرگ افراد بڑے شوق سے سنتے تھے یہ پروگرام پشتو کے پرانے گانوں سے سجا ہوتا جس میں پشتو کے کلاسیک گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے۔ پرائمری کے بعد ریڈیو کا بخار ایسا چڑھا کہ گھر سے چوری چھپکے ایک عدد جیب میں رکھنے والا ریڈیو خرید لیا جسے صرف ہینڈز فری کے ذریعے سُنا جاسکتا تھا۔ کرکٹ سیزن میں اس کے ذریعے لائیو کمنٹری سننے کا اپنا سواد ہوتا جس میں کمنٹری کم اور شُڑ شُڑ کا بے ہنگم شور زیادہ سُننا پڑھتا۔

عبد الرزاق کی جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی کے میدان پر یادگار سنچری کی کمنٹری ریڈیو پر ہی سنی۔ ریڈیو کے علاوہ اُس زمانے میں اخبار بینی اور مختلف رسائل کا مطالعہ بھی میری تفریح کا لازمی حصہ تھا۔ دو ہزار سات میں جب ساتویں جماعت میں تھا تو ”بچوں کا اسلام“ کا نشہ چڑھ گیا۔ مرحوم اشتیاق احمد کی دو باتیں ”سے لے کر“ خطوط کا آئینہ ”تک ڈیڑھ دو گھنٹے میں پورا رسالہ ختم کردیتا۔ اس میں جاسوسی ناول قسط وار چھپتے تھے۔

“ عبداللہ فارانی ”کے نام سے اسلامی تاریخ کا سلسلہ بھی بہت دلچسپ ہوا کرتا تھا۔ ماہنامہ“ پھول ”اور اخبارجہاں“ کا مطالعہ بھی دلجمعی سے ہوتا رہتا۔ اسی عرصے میں پریم چند سے واقفیت اور محبت ہوئی جو تاحال میرے پسندیدہ نثر نگاروں میں سے ہیں۔ میٹرک میں پہنچے تو والد صاحب کی پرانی نصابی کتب کو کھنگالنا شروع کیا ستر کے عشرے کے نصابی کتب میں شامل مواد کا انتخاب واقعی لاجواب تھا۔

اگر ہم ماضی کے جھروکوں سے نکل کر دیکھیں تو عہدِ جدید/عصرِ حاضر کے پروردہ نوجوانوں اور بچوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی جنہیں میں ایک طرح سے مظلوم سمجھتا ہوں جو ہر طرف سے ٹیکنالوجی میں گِھرے ہوئے ہیں۔ ان بچوں اور نوجوانوں نے بچپن کا وہ حقیقی لطف اُٹھایا ہی نہیں جس کا مختصر تجربہ ہم نے کیا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں بہت ساری سہولیات بہم پہنچائی ہیں وہیں اس نے ہمارے بچوں سے فطری بچپن کی خوشیاں چھین لی ہے۔

بے چارے تین چار سال کی عمر سے لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس سے چپک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ”موٹو پتلو“ قسم کے کارٹون دیکھتے رہتے ہیں ہیں کچھ بڑے ہوکر گیمز کھیلنا شروع کرتے ہیں اور گیم وہ جس کے دوران وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر لگے رہتے ہیں نہ اُن کو کھانے کی فکر ہوتی ہے اور نہ سونے کی۔ ”پٙب جی“ اور ”ٹِک ٹاک“ ایک ناسور کی طرح ہمارے نوجوان نسل کو گھیرے ہوئے ہیں۔ یہاں میرا اعتراض جدید ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کے استعمال پر ہے۔

میرے خیال میں عصرِ حاضر کے بچپن سے ہمارے تصوراتی بچپن کا تقابل کرنا درست نہیں ہر زمانے کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں لیکن مجھے افسوس اِس بات کا ہورہا ہے کہ آج کے بچے کا بچپن کہیں کھوگیا ہے یہ وہ بچپن نہیں جن کے قصے ہم اپنے بزرگوں سے سنتے یا جن کا مزہ ہم نے چکھا، معصوم شرارتیں، گلی محلوں میں طرح طرح کے کھیل کھیلنا (جن کا اب نام و نشان مٹ گیا ہے ) ، قصے کہانیوں کی کتابیں، بچوں کے رسائل اور اخبارات میں موجود بچوں کے سیگمنٹس جو بیشتر گھرانوں آتے نہیں اور اگر آتے ہیں تو بچوں کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ ان کو ایک نظر دیکھ لیں۔

آسٹریلیا کے معروف تحقیقاتی ادارے
(Active healthy kids global alliance )
کی 2018 کی رپورٹ میں یہ حقائق واضح ہوکر سامنے آئی ہیں کہ عہدِ حاضر کے بچوں کا زیادہ تر وقت سکرین کے سامنے گزرتا ہے اور وہ دوسری صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے، رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ موبائل فون کو زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے بچوں کی نشوونما اور نفسیات پر منفی اثر پڑرہا ہے اور ان کی ذہنی صلاحیتیں بانجھ ہوتی جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کا حد سے زیادہ استعمال نہ صرف بچے کی صحت پر بُرے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے وقت کا ضیاع ہوکر نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔

موبائل فون کے بے محابہ استعمال پر میں بچوں کو قصوروار نہیں سمجھتا بلکہ ان سب کے ذمہ دار والدین اور گھر کے سبھی بڑے ہیں جو خود موبائل فون کے استعمال میں ”حدود“ کا تعین نہیں کرپاتے۔ بحیثت والدین، بھائی، بہن اور خیرخواہ کے ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کو ایسے مشاغل اپنانے کی جانب راغب کریں جو ان کے ذہنی و جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس کے لیے ہم بچوں کو اپنے ساتھ واک پر لے جاسکتے ہیں، گھر یا گھر کے باہر کھیل کھود کے لیے راغب کرسکتے ہیں، کہانیوں کی کتابوں کا تحفہ دے سکتے ہیں، گھر میں بچوں کے رسائل لاسکتے ہیں، ساتھ بٹھا کر بچوں کا کوئی اچھا سا پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ نکات ہیں جس کے ذریعے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوگا، جسمانی صحت بہتر رہے گی، تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثرات پڑیں گے اور ساتھ ساتھ ”حقیقی بچپن“ سے بھی لطف اندوز ہوسکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سلام اللہ، سوات کی دیگر تحریریں

Leave a Reply