تعمیراتی شعبے کے کارکنان پر رحم کریں
بخدمت جناب حاکمان اسلامی جمہوریہ پاکستان! آپ کی خدمت میں دستہ بدستہ عرض ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پوری دنیا جس صورتحال سے گزر رہی ہے، اس میں کسی بھی قسم کی عدم یقینی کی کیفیت ہزاروں افراد کی زندگی کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز پچھلے ایک ماہ سے اسی گومگو کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ کرونا کا ہلاکو خان پاکستان پر حملہ آور ہے اور ہمارے بظاہر مقتدر چہرے اس لایعنی مسئلے پر بحث کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کا کوا حلال ہے یا حرام اور یہ کہ کرفیو کی سوئی کی نوک پر کتنے فرشتہ صفت تشریف فرما ہو سکتے ہیں؟
جنابانِ عالی! اس گومگو کی کیفیت کا تازہ ترین شکار اب تعمیراتی شعبہ ہے جسے حکومت میں آتے ہی اس بری طرح سے نظر انداز کیا گیا اور انتقام کا نشانہ بنایا گیا کہ گویا یہ شعبہ اور اس سے وابستہ لوگ کسی دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ اب پتہ نہیں اچانک وقت کے بزرجمہروں کو اس شعبے میں کیا کشش نظر آئی ہے کہ اس سے انہیں ”وبا کے دنوں میں محبت“ ہو گئی ہے۔ تعمیراتی شعبے کے لیے بظاہر شاندار قسم کے پیکج کا اعلان بھی کیا گیا ہے، مگر جیسے ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، ویسے بھی یہ پیکج تعمیراتی شعبے کے کوئی فائدہ دے یا نہ دے مگر پلاٹوں اور جائیدادوں کے کاروبار سے وابستہ دوستوں کو چینی اور آٹے کے سکینڈل کی طرح نوازنے کا ذریعہ بنے گا۔
اسی پر بس نہیں، بلکہ عین اس وقت جب یہ امید بندھ چلی ہے ہے کہ کرونا وائرس کا یہ جن بوتل میں واپس بند کرنے میں کچھ کامیابی ہو چلی ہے تو معیشت کی بحالی کے نام پر تعمیراتی شعبے کو لاک ڈاؤن کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اور اس کے خدانخواستہ، خاکم بدہن، انتہائی ناخوشگوار نتائج نکل سکتے ہیں جو کہ اس شعبے سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ اکثریت ہمیشہ سے غیرہنرمند مزدور ہوتے ہیں اور اس کے بعد دوسرا نمبر ہنرمند افرادی قوت کا آتا ہے۔
یہ طبقات غریب مگر اپنے زورِ بازو سے حق حلال کما کر کھانے والے لوگ ہیں اور یقین کریں کہ ان کے ایسے دوست بھی نہیں ہوتے جو نہ صرف ان کے اخراجات اٹھائیں اور اگر خدانخواستہ ان کو کچھ ہو جائے تو ان کے اہل و عیال کا بھی خیال رکھیں۔ مزید یہ کہ ان کا رہن سہن اور طرز معاشرت اس چیز کو ناممکن حد تک مشکل بنا دیتا ہے کہ اگر ان میں کوئی وبا پھوٹ پڑے تو اس کو روکا جا سکے۔
تعمیراتی شعبے کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ قرار دینے والوں نے اپنی افلاطونیت کا مزید مظاہرہ کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ تعمیرات کی اجازت تو دے دی ہے مگر سفری پابندیاں بدستور اپنی جگہ ہیں۔ جس کہ سبب اس شعبے سے وابستہ کارکنان عوامی ذرائع آمدورفت تو اختیار نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہر فرد کے پاس اپنی ذاتی سواری ہے کہ یہ لوگ انفرادی طور پر سفر کریں تاکہ انتظامیہ کی طرف سے سزاؤں اور جرمانوں سے بچ سکیں۔ مزید، اس فلسفے کی گہرائی اور حقانیت صرف یہ حکمنامہ پڑھ کر سنانے والے ارسطو ہی سمجھ سکتے ہیں کہ کیسے تعمیراتی سائیٹ پر معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ تعمیراتی کام زیادہ تر ایک ہی جگہ پر مزدوروں کے گروہ ہی کرتے ہیں۔
تعمیراتی شعبے کو کھولنے کے حکم نامے کے ساتھ ساتھ جو ہدایات جاری کی گئی ہیں ان کے مطابق عملے کو وبا سے محفوظ رکھنے اور حفاظتی سامان فراہم کرنے کی تمام تر ذمہ داری تعمیراتی کمپنی کی ہو گی۔ آپ خود اس چیز پر سوچیے کہ جس وبا سے نمٹنے میں دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں اور معیشتیں ناکام نظر آ رہی ہیں اور اس بیماروی کے خلاف اگلی صفوں میں لڑنے والے مجاہدین یعنی صحت کے شعبے سے منسلک افراد کے پاس بھی حفاظتی سامان پورا نہیں ہو پا رہا، جس کی واضح مثال ملتان کے نشتر ہسپتال کے مسیحاؤں کا کرونا وائرس میں مبتلا ہونا ہے، جن کو حفاظتی سامان فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی، جس میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہوئی، وہاں نجی تعمیراتی کمپنیاں، جن کا روزگار پچھلے دو سال سے تقریباً ختم ہے، وہ یہ حفاظتی سامان کہاں سے مہیا کریں گی؟
دنیا بھر کے تعمیراتی معاہدوں میں اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک شق جسے Force Majeure کہا جاتا ہے، موجود ہوتی ہے اور خوش قسمتی سے ہمارے ملک کے معاہدوں میں بھی یہ شق موجود ہے۔ اس شق کے مطابق اگر وبائی یا کوئی اور ایسی صورتحال پیدا ہو جائے، جو کہ معاہدے کے دونوں فریقین کے بس سے باہر ہو تو ایسی صورت میں دونوں فریقین ایک دوسرے پر کوئی بھی مطالبہ یا کلیم نہیں کر سکتے۔ اگر موجودہ حالات میں اس شق کو ریاستی سطح پر استعمال کیا جائے تو نہ صرف ریاست کو توانائی کے شعبے میں لاکھوں ڈالر کی بچت ہو گی بلکہ تعمیراتی شعبے میں بھی جانی نقصان سے بچاؤ کے علاوہ مختلف اقسام کے کلیم نہیں کیے جا سکیں گے۔
مندرجہ بالا تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، تعمیراتی شعبے سے وابستہ تمام افراد اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ لازم ہے کہ تعمیراتی شعبے کو لاک ڈاؤن سے مبرأ نہ قرار دیا جائے بلکہ حکومت اپنے امداد کے نظام کو بہتر بناتے ہوئے سماجی تنظیموں کو اعتماد میں لے کر ان کی مدد کرے کیونکہ زندگی کا نعم البدل کچھ بھی نہیں ہے۔
اس استدعا کا اختتام مکرمی عطا علی ملک کے اس فقرے کے ساتھ کرتا ہوں کہ وبا کے دنوں معیشت کی بحالی کچھ ایسے ہی ہے جیسے جلتے ہوئے گھر میں نیا فرنیچر ڈالنا۔



جواد مقصود نے بہت خوبصورتی سے دریا کو کوزے میں سمو دیا ہے۔
بالکل ایسا ہی ہے۔ اس وقت حکومت خود کو بچا رہی ہے، قوم کو نہیں