علمائے کرام کی جرات کو سلام


کل کراچی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان صاحب نے حکومتی پابندیوں کو خاطر میں نا لاتے ہوئے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ آج سے مساجد پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہوگا اور رمضان المبارک کے دوران مساجد میں نماز تراویح اور اعتکاف کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی علما کا مشترکہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ ”وبا سے متاثر ہونے والے اور لاک ڈاؤن سے بیروزگار ہونے والے سب لوگوں کی حتی الوسع مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ۔ ۔ حکومت کی طرف سے جو احتیاطی تدابیر دی جا رہی ہیں ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، احتیاطی تدابیر میں میل جول کم کرنا، بلاضرورت اجتماع سے منع کرنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے جس کی سب کو پابندی کرنی چاہیے مگر لازمی سروس میں کام کو معطل نہیں کیا جا سکتا اسی لیے ضروری کام کو جاری رکھنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ایک مسلمان کے لیے مسجدوں میں نماز باجماعت اور جمعہ کا اہتمام ایک اہم ضرورت ہے۔ خاص طور پر رمضان میں مسجد کی حاضری اور نماز باجماعت نا صرف ایک ضرورت ہے بلکہ اس آزمائش کے موقعے پر خاص طور سے رجوع من اللہ ہی وبا کو دور کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔ “

جس طرح ان علما نے دلیری سے کام لیتے ہوئے حکومت کو احساس دلایا ہے کہ وہ ایک ضروری کام سے عوام کو نہیں روک سکتی، اس کی جتنی تحسین کی جائے وہ کم ہے۔ سب لوگ ان حقائق سے آگاہ ہیں کہ کرونا بزرگوں کے لیے بہت زیادہ مہلک ہے، بڑے علما عموماً بہت بزرگ ہوتے ہیں اور بڑے علما مساجد اور مدارس کھلوانا چاہتے ہیں تاکہ ادھر جمعے اور رمضان کے بڑے اجتماعات کروا سکیں۔ ہماری رائے میں قوم کو بڑے علما کے اس جذبے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ مساجد میں ان کے ہاتھ چومیں، ان سے گلے ملیں، ان کی ہر ممکن خدمت کریں اور ان سے عقیدت کا بھرپور اظہار کریں تاکہ وہ عوامی حمایت دیکھتے ہوئے اس فریضے کو سرانجام دینے میں جی جان سے لگے رہیں۔

اس پریس کانفرنس میں واضح طور پر دکھائی دیا کہ ہمارے حق گو علما اس حکومت اور اس نام نہاد کرونا سے ہرگز بھی خائف نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض علما کے گلے میں ماسک لٹکے ہوئے تھے مگر صف اول کے کسی عالم نے بھی ناک اور منہ کو ماسک کے پیچھے نہیں چھپایا تھا۔ سب دلیری سے اپنا چہرہ مبارک کیمرے کو دکھا کر بات کر رہے تھے کہ حکومت ان کے خلاف کوئی ایکشن لینا چاہے تو لے، وہ اسلام کی راہ میں خود پر کیے جانے والے حکومتی جبر اور قید و بند کی صعوبتوں سے نہیں گھبراتے۔ علما میں اتفاق اور یکجہتی کا منظر بھی قابل دید تھا۔ نا صرف سب ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بیٹھے تھے بلکہ اہم نکات پر ان کے باہمی صلاح مشورے اور ایک دوسرے کے کانوں میں کھسر پھسر بھی جاری تھے۔

خدائے بزرگ و برتر کی ہم پر خاص رحمت ہے کہ ہمارے یہ علمائے کبار حق بات کہنے سے نہیں گھبراتے۔ اس کے برخلاف بلادِ عرب و مصر کے علما کا رویہ دیکھ لیں۔ ادھر حکومت نے نادر شاہی فرمان جاری کر دیا کہ مساجد بند ہوں گی تو علما نے اعتراض نہیں کیا۔ حتی کہ حرمین شریفین کو بند کرنے کے خلاف بھی ادھر کسی عالم کو یہ کلمہ حق ادا کرنے کی جرات نہیں ہوئی کہ لازمی سروسز سے مسلمانوں کو روکنے کا اختیار حکومت کو نہیں ہے۔ بلکہ حج کا بھی سننے میں آ رہا ہے کہ اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ادھر کے علما اس کے خلاف کلمہ حق کہنے کی خود میں جرات نہیں پاتے۔ شکر ہے کہ ہمارے علما حق گو اور نڈر ہیں۔

سب مسلمان جانتے ہیں کہ کل عالم میں تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اسلام کے معاملے میں ہم سرحدوں کے پابند نہیں ہیں۔ بعید نہیں کہ بلادِ عرب کے حکمرانوں کے آمرانہ احکامات کے خلاف بھی ہمارے علما اسی دلیرانہ انداز میں احتجاج کریں گے جیسے پاکستانی حکومت کے آمرانہ اقدامات کے خلاف کر رہے ہیں اور انہیں بھی صاف صاف بتا دیں گے کہ رمضان میں مساجد اور حرمین شریفین میں عبادت کا سلسلہ روکنے کی انہیں اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے علما کو بلادِ عرب بھیجنے کے لیے خصوصی پروازوں کا اہتمام کرے تاکہ ہمارے نڈر اور حق گو علما رمضان میں حرمین شریفین میں عبادات کا سلسلہ ویسے ہی جاری کروا سکیں جیسے پاکستانی مساجد میں کروا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar