کرونا وائرس اور بچوں کے سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو اتنی بھی میسر نہیں پیمانے میں
جتنی چھوڑ آیا کرتے تھے مہ خانے میں

وہ مقامات جہاں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اب سائیں سائیں کرتے ہیں۔ باقی تو سب ٹھیک تھا لیکن بچوں پر اس مسلسل اور پر اسرار لاک ڈاؤن کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس حوالے سے ابھی تک کچھ پڑھنے، سننے یا دیکھنے کو نہیں ملا۔ اور شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تو بڑوں کو اپنی پڑی ہے بھلا بچوں پر اس کے نفسیاتی اثرات کو کون اہمیت دے اور ویسے بھی ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں یہاں پر تو نفسیاتی مسائل کو سیدھا سیدھا پاگل پن سمجھا جاتا ہے لہزا ایک بڑی تعداد ماہر نفسیات کے پاس جانے سے گریز کرتی ہے۔

میرے ایک دوست جو حال ہی میں کینیڈا شفٹ ہوئے ہیں اور ان کے پہنچنے کے فورآ بعد ہی دنیا لاک ڈاؤن کے فیز میں داخل ہو گئی۔ انہیں جاب کی اشد ضرورت تھی۔ لیکن ایسے وقت میں بھلا جاب کہاں؟ خیر انہوں نے ایمیزون کے سپلائی چین مینیجمینٹ سسٹم میں اپلائی کر دیا۔ اور مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد وہ اب تقریباً انٹرویو جیسے آخری مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ کل شام میری ان سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے ان تمام مراحل کی تفصیلات بتائیں کہ کیسے انہیں دو مختلف اوقات میں webinar کے ذریعہ سے ان لائن کلاسز دی گئیں۔

بنیادی طور پر وہاں کا ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ متعلقہ وسائل کو بروئے کار لا کر ایک بہترین انتخاب کی جانب بڑھتا ہے تاکہ اتنی محنت اور تردد کے بعد میرٹ پر انتخاب ہو سکے۔ مجھے میرے دوست نے یہ تمام تفصیلات اس لئے بھی بتائیں کیونکہ میں بھی جاب کے متلاشی افراد کو انٹرویو کی تیاری کرواتا ہوں۔ ان کی صلاحیتوں اور اعتماد کو کیسے سامنے لانا ہوتا ہے یہ بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ اس کے لئے بھی وقت درکار ہوتا ہے اور ہم جو سالہا سال سے بچوں کو سوچنے سے روکنے کی پریکٹس کروارہے ہوتے ہیں اور تو اور انہیں سوال تک کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اور یوں ساری زندگی انہیں ایک ایسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا سہارا ایک نابینا کو راستہ دکھاتا ہے۔

جبکہ ترقی یافتہ اقوام نے اس پہلو پر اتنا زیادہ کام کیا ہے کہ انہوں نے Organisational Behaviour کو نہ صرف ایک مضمون کے طور پر لیا بلکہ اسے پریکٹیکل شکل بھی دی۔

بات کہاں سے نکلی اور کہاں جا پہنچی۔ بچوں پر اس لاک ڈاؤن کے نفسیاتی اثرات کیا ہوں گے یہ سوال میرے ذہن میں اس وقت سے کلبلانے لگا جب آج صبح آفس کے لئے نکلتے وقت میری بیٹی نے پوچھا کہ بابا سکول کب تک بند رہیں گے؟

دراصل پہلے میں روزانہ اسے سکول چھوڑ کر دفتر آیا کرتا تھا لیکن چونکہ اب ایسا نہیں ہے۔ اور سکول ٹیچر کے اچھے رویے کی وجہ سے میری بیٹی شوق سے سکول جاتی ہے۔ اب ایسے وقت میں ہم بچوں کو کیا جواب دیں؟ اور دوسرا سوال بھی جان لیں کہ بابا سکول کیوں بند ہیں؟

جو بچے سن شعور کو پہنچ چکے ہیں انہیں تو سمجھانا آسان ہے لیکن نرسری کے بچوں کو مطمئن کرنا اور پھر وہ بچے جنہیں سوچنے اور سوال کرنے کی عادت ہو۔ بھلا انہیں کیسے مطمئن کریں؟ کیونکہ ہمارے ہاں کرائسز مینیجمینٹ کے لئے بنائے جانے والے لائحہ عمل کو ابھی مزید کئی امتحانات سے گزرنے کے بعد ایک بہترین شکل اختیار کرنا ہے۔ اس موضوع پر پھر کبھی بات کریں۔

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *