امی کی باتیں


امی کے بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہی تھی کب سے۔ جب سے ان کا وصال ہوا یہ خواہش اور بھی زور پکڑ گئی۔
امی، جن کو سب ہی امی کہ کر بلاتے تھے۔ ہم بہن بھائیوں کی تو امی تھیں ہی، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی ان کو امی ہی بلاتے تھے۔

امی ایک انتہای سادہ لوح اود قدرے شرمیلی خاتون تھیں۔ آج امی کے لیے تھی کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے دل کس قدر دکھ رہا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بچپن یاداشت میں امی کی جو باتیں محفوظ ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ابو کے ڈیوٹی اور ہم۔ سب کے سکول کالج جانے کا وقت ہوتا تھا اور امی چھوٹے سے باورچی خانے میں ناشتہ بنا رہی ہوتی تھیں۔ ناشتے میں روٹی اور چائے ملا کرتی تھی۔ باورچی خانے میں کوئی کرسی میز نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ ابو کے لیے پیڑھی تھی اور بچوں کے لیے بوری بچھائی ہوتی تھی۔ باری باری آ کر ناشتہ کرتے اور سکول روانہ ہوتے جاتے۔ یہ معمول تب تک رہا جب تک امی کی صحت ٹھیک رہی بعد ازاں ذیابیطس کی وجہ سے وہ اتنی فعال نا رہیں مگر اپنے تمام کام خود کرتی رہیں۔ ہاتھ سے کپڑے دھونے کی سکت نہ رہی تو پاؤں سے دھو دیا کرتی تھیں۔

عجیب سادہ طبیعت کی مالک تھیں۔ کبھی کوئی فرمائش نہیں کی کبھی اپنے کسی ذاتی کام کے لیے کسی کو نہیں کہا۔

امی اچھی خاصی درویش طبیعت کی مالک تھیں۔ پورے گھر کا کام اکیلے نپٹاتی جاتیں مگر کبھی حرف شکایت نہ لاتیں نا زبان پہ۔ ہم نے کبھی ان کو پوری رات سوتے ہوئے نہیں دیکھا وہ آدھی رات نیند لے کر کبھی ہمارے سویٹرز بن رہی ہیں کبھی ابو کے پرانے یونیفارم ادھیڑ کر ہمارے بستے سی رہی ہیں ظاہر ہے دن میں ان کاموں کا وقت کہاں بچتا تھا۔

جب سے شادی ہو کر آئی تھیں جیٹھ کے بچوں کو سپارہ پڑھانے کی ذمہ داری بھی اٹھا لی جس میں آہستہ آہستہ محلے کے دیگر بچے بھی شامل ہوتے گے ء اور یہ سلسلہ آخری دن تک الحمد للہ برقرار رہا۔ آخری دن بھی دونوں شفٹس میں بچوں کو سپارہ معمول کے مطابق پڑھا کر گئیں۔

امی کو اپنی ذات سے کچھ سروکارنہیں تھا کبھی انہوں نے اپنے لیے کچھ نہیں خریدا۔ سردیوں گرمیوں کے کپڑے خریدنے اکثر اوقات ساتھ میں جاتی تھی اور میرے حافظے میں ایسا کوئی دن نہیں جب امی کے سوٹ خریدنے کی باری آئی ہو ہمیشہ بچوں کی خریداری میں ہی پیسے ختم ہو جاتے اور امی کہتیں میں اگلے مہینے لے لوں گی کوئی بات نہیں لیکن وہ اگلا مہینہ کبھی نہیں آتا تھا۔ یہ مجھے بھی معلوم تھا اورامی کو بھی۔ ابو جان ہمیشہ کہتے رہے بھلی لوک مجھے حسرت ہی ہے کبھی تم کوئی فرمائش کرو کہ ایسا سوٹ لے کر آئیں یا ایسا زیور دلا دیں لیکن تم کبھی کچھ مانگتی ہی نہیں۔ اور امی کا جواب ہوتا تھا میری سب ضرورتیں اللہ خود پوری کر دیتا ہے مجھے مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

امی ساری کی ساری بچت اپنی ذات پہ کرتی آئی تھیں سردیاں ہیں۔ سارا گھر ہیٹر لگا کے بیٹھا ہے امی نے سر درد کا بہانہ کر کے ہیٹر لگانے سے منع کردیا ہے۔ گرمیاں ہیں تو جب تک صحن میں ہوا آرہی ہے امی وہیں بیٹھی رہیں گی کہ کم از کم ایک پنکھا تو بند ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں دسویں جماعت میں تھی باقی سب بھی کالج اور یونیودسٹی جاتے تھے امی کے شیاٹیکا کا علاج ایک نئے ڈاکٹر سے کروانا شروع کیا اس کے دوا مہنگی تھی۔ تین ہزار مہں ایک ہفتے کی دوا آتی تھی امی نے دوا آدھی آدھی کر کے کھائی کہ ایک ہفتے کی دوا پندرہ دن چلاتی تھیں بقول ان کے تین ہزارمیں ایک بچے کی فیس پوری ہو جاتی تھی۔

آج امی ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ اللہ تعالی کل جہان کی ماؤں کو سلامت رکھیں۔ اس دکھ کا کوئی مداوا نہیں کوئی ازالہ نہیں۔ کبھی بھی۔ کہیں بھی۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “امی کی باتیں

  • 17/04/2020 at 4:06 شام
    Permalink

    Mashallah boht khoob. Almost har Maan ki story.

  • 17/04/2020 at 4:37 شام
    Permalink

    I just appreciate the your hard work. This is one of the best column that you have written.

  • 18/04/2020 at 1:38 صبح
    Permalink

    Apki tehrerain humesha hi parh k maza ata hy lykn ye topic parh kr aysa laga jysy sab maain aysi hi hoti hyn hr lafz pa apni maa ko sath rkh k soch rhi thi.. Mazay ki bat share krun asma yahan main apni ami ko "baji” kehti hun ..maa hony k sath sath ek bhut achi shaheli bhi hyn..jo meelo dur bythy phone par hi haal jaan lyti hyn. Main apka shukriya ada krun gi ky ek br phr maa ki sab khubiyan aur qurbaniyan yad krwai.. Such main inn ki kisi e raat pa badla b nai dy sakty.. Allah apki ami ky darjaat bulaand farmaye ameen

Comments are closed.