کتابیں، کاندید اور احفاظ الرحمان



کیا آپ نے والٹیئر کا شہرہ آفاق ناول "کاندید” پڑھا ہے، یا پھر ایلکس ہیلے کا "روٹس؟”
کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے، اور میرے دفتری ساتھیوں نے، کم تن خواہوں کے باوجود ایک خاص نوع کے اطمینان کے ساتھ، یہ ناول کیسے پڑھے؟
آج سوچتا ہوں، تو حیرت ہوتی ہے۔

یہ ناول ہمارے میگزین ایڈیٹر، جناب احفاظ الرحمان نے ہمیں تھمائے تھے۔ اور صرف تھمائے نہیں، پڑھنے کی تحریک دی، اور بعد ازاں ان پر گفت گو کا اہتمام کیا۔ یہ ناول ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے ہاتھ میں جاتے، اور زیر بحث آتے۔
سخت مزاج تھے، مگر کتابوں کے تذکرے پر نرم پڑ جاتے، مطالعے کی شائق کو ان کی طرف چند رعایتیں میسر تھیں۔

جسٹن گارڈ کے منفرد ناول "سوفی کی دنیا” پر ہونے والی گفت گو کی مہک آج بھی میری یادوں کا حصہ ہے۔
ہاورڈ فاسٹ کے بے بدل ناول اسپارٹکس کا شاہ محمد مری کا کیا ہوا ترجمہ بھی انھی کے توسط ایکسپریس میگزین میں گردش کیا کرتا تھا۔

بعد ازاں ”ایکسپریس” نے اردو کانفرنس منعقد کی، تو ہم نے درویش صفت، شاہ محمد مری کو بلوچستان کی نمایندگی کے لیے زحمت دی۔

میں نے ساڑھے آٹھ سو صفحات کا ناول "غلام باغ” دفتر ہی میں ختم کیا تھا۔ ان دنوں میگزین کے صفحات معطل تھے۔ کام دھیما پڑ گیا۔ میں صبح دفتر پہنچتا، بیگ سے "غلام باغ” نکال کر پڑھنا شروع کرتا، شام میں بیگ میں رکھتا، اور گھر لوٹ آتا۔ ان کی جانب سے کوئی سوال نہیں ہوتا۔

محمد حمید شاہد کا دل پذیر نوویلا "مٹی آدم کھاتی ہے” بھی اسی دفتر میں، ایک نشست میں پڑھا، جس نے متحیر کر دیا۔

یہ سب یوں ممکن ہوا کہ احفاظ صاحب کو ادب، بالخصوص عالمی ادب سے عشق تھا، پھر وہ نوجوانوں کو اس کی جانب راغب کرنا بھی لازم خیال کرتے تھے۔ لاہور میں بیٹھے محمود الحسن سے بھی، جو کتابوں کے رسیا، ادب کے موضوع پر بات کیا کرتے، اور ان کی دل چسپی، سرگرمی کو سراہتے۔

کبھی دفتری کمرے میں، کبھی اسموکنگ ایریا میں، کبھی ان کی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے، ہم چیخوف کے افسانوں، ٹالسٹائی اور ڈکنز کی کتب اور میکسم گورکی کے ناول "ماں” پربات کیا کرتے۔

تن خواہ ملنے کے اگلے روز دفتر کے بہ جائے ہم صبح اردو بازار پہنچ جاتے۔ دفتر پہنچنے میں تاخیر کو خاطر میں نہ لاتے، اور خریدی ہوئی کتب جا کر انھیں دکھاتے۔ اور وہ وا، وا کہہ کر حوصلہ بڑھاتے۔
کبھی کبھی وہ کوئی کتاب ہم سے پڑھنے کے لیے بھی لے لیتے۔ ”تنہائی کے سو سال” اور تارڑ کا ناول ”اے غزال شب” انھی میں شامل۔

انگریزی ادب پڑھنے پر اکساتے۔ کہتے، چاہے دقعت ہو، سمجھ نہ آئے، مگر انگریزی میں پڑھتے چلے جائیں۔
کرشن، بیدی اور منٹو کے منتخب افسانوں کی کتب انھوں نے ہمیں دی۔ ترقی پسند ادیبوں سے متعارف کرایا۔ لاطینی امریکی ادب کے زیادہ معترف نہیں تھے۔ جادوئی حقیقت نگاری پر حقیقت نگاری کو ترجیح دیتے۔

محنت کشوں کے انٹرویو کا راستا انھی نے ہمیں دکھایا۔ ”ایکسریس کے شخصیت” کے صفحے پر ان کی خصوصی توجہ رہی، جس نے اسے چار چاند لگا دیے۔ اسی سلسلے نے راقم کو تھوڑی بہت شناخت عطا کی۔

احفاظ صاحب ہی نے ہمیں سام راج کے منفی کردار سے آگہی دی۔ اجلے انسانوں سے متعارف کرایا، اور یہ پیغام دیا کہ "اچھا صحافی بننے کے لیے ادب کا مطالعہ ضروری ہے”!

مجھے تو ملازمت ہی اس بنیاد پر ملی تھی، کہ میں نے اردو ادب کے چند ناول پڑھ رکھے تھے، گوتم بدھ اور اوشو کی بابت جانتا تھا، اور فلموں میں دل چسپی رکھتا تھا۔

آج سوچتا ہوں، کہ آخر وہ انوکھا، اجلا شخص کون تھا؟ اور کیا اس جیسا کوئی دوسرا شخص ہو سکتا ہے؟
ایسا ایڈیٹر، جو ادب سے آپ کی محبت کو آپ کی قابلیت گردانتا ہو؟
ناممکن تو کچھ بھی نہیں، مگر امکان بہ ہر حال کم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احفاظ صاحب سے جڑی چند یادیں (پہلا ٹکڑا)

Facebook Comments HS