بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: نام بدلنے اور تصویر ہٹانے سے کچھ نہیں ہو گا



پیپلز پارٹی نے 2008 میں برسرِ اقتدار آتے ہی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت، ملک کی ترقی استحکام، حدانیت اور سالمیت کے لئے لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ایک ایسے انقلابی پروگرام پر کام شروع کیا جس سے ملک کے پسماندہ طبقات اور علاقوں کی خواتین کو بھی اپنے خاندان کی کفالت کے لئے اُس اختیار کے مواقع فراہم کیے گئے جو مردوں کو حاصل ہیں۔ اس سلسلے میں جولائی 2008 میں ملک کے پسماندہ طبقات سے وابستہ خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت پچاس لاکھ سے زائد خاندانوں کی خواتین کو بینظیر سمارٹ کارڈز کے ذریعے ماہانہ کی بنیاد پر رقم تقسیم کرنے، انہیں اپنے ذاتی کاروبار کے لئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے تحت 3 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کرنے جیسے تاریخی اقدامات اٹھائے، اس پروگرام کو شفاف بنانے اور مستحقین کو شناخت کرنے میں نادرا نے انتہائی اہم اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔

بینظیر انکم سپورٹ کے وسیلہ حق پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی خواتین میں ڈیڑھ لاکھ اور تین لاکھ کے چیک انہیں اپنے پیرو پہ کھڑے کرنے اور خود کفیل بنانے کے اقدامات تھے۔ جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہزاروں خاندانوں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو فنی تربیت بھی فراہم کی گئی۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پروگرام کو نہ صرف عالمی پذیرائی حاصل ہوئی بلکہ اس پروگرام کو بین الاقوامی فنڈنگ بھی حاصل ہوتی رہی، اس کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ اس پروگرام کے تحت غریب اور نادار خاندانوں کی خواتین کو باقاعدگی سے امداد ملتی رہے تاکہ خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی زندگیوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن برسرِ اقتدار آئی، مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی شروع کے دو تین سال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اس کی اصلی حالت میں ہی چلایا، اس کے سالانہ بجٹ میں بتدریج اضافہ بھی کیا مگر پھر اچانک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا خبط کیوں سوار ہوا وہ نہ صرف اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی اہلیت اور شفافیت پہ سوال اٹھانے لگیں بلکہ بینظیر بھٹو شہید کی تصویر تک اس پروگرام کے لوگو سے ہٹا دی گئی، جس پر پیپلز پارٹی سمیت اس پروگرام کے تحت مستفید ہونے والی ہزاروں خواتین نے ملک کے طول وعرض میں شدید احتجاج ریکارڈ کروا کر ن لیگی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔

2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف برسرِ اقتدار آئی تو پاکستان کی سیاست میں تحمل، برداشت، رواداری کے بجائے نفرت، عدم برداشت اور انتقام نے ایک نئے روپ میں جنم لیا۔ پی ٹی آئی حکومت نے سابقہ حکومتوں کے کئی پروگراموں پہ تنقید کرکے ان کو پسِ پشت ڈال دیا جیسے اورنج لائن ٹرین کا عوامی منصوبہ جو تقریباً مکمل ہونے کو تھا آج پی ٹی آئی حکومت کے پونے دو سال گزرنے کے بعد بھی خان صاحب کی سیاسی نفرت کا شکار اور نامکمل ہے۔

اسی طرح شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پہ شروع کیا گیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی خان صاحب کے نشانے پہ آ گیا۔ خان صاحب کی حکومت کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سمارٹ کارڈ پہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر اتنی کھٹکنے لگی کہ آخر انہوں نے اس پروگرام کا نام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے احساس کفالت پروگرام کرنے کا اعلان کردیا، اس سے پہلے اس پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر صاحبہ نے انقشاف کیا کہ اس پروگرام سے آٹھ لاکھ سے زائد خواتین ایسی ہیں جو مستحق نہیں ہیں یا جعلی ہیں وہ بھی استفادہ کر رہی ہیں، جبکہ دو ہزار سے زائد سرکاری افسران کی بیگمات کے نام پہ ہر ماہ سولہ سؤ روپے کی امداد حاصل کی جا رہی ہے اور ان افسران کی زیادہ تعداد سندھ سے ہے۔

یہ بہت تشویشناک خبر تھی ایسے بے ضمیر افسران کے خلاف یقیننا سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے تھی اور ان سے اب تک حاصل کی گئی رقوم واپس لینی چاہیے تھیں مگر بات صرف الزامات کی حد تک رہی اور پی ٹی آئی کے ڈھنڈھورچی صرف سوشل میڈیا پہ پیپلز پارٹی کے خلاف زہر آلود مہم چلانے میں مصروف رہے۔ اسی دوران وزیراعظم صاحب نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سمارٹ کارڈ سے بینظیر بھٹو شہید کی تصویر ہٹا کر قائد اعظم کی تصویر لگانے کا حکم بھی دے دیا تھا۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو پی ٹی آئی حکومت نے اپنے احساس کفالت پروگرام کے تحت ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں میں چار ماہ کی رقم جو 12000 روپے بنتی ہے تقسیم کرنے کا اعلان کیا یہ وہی امداد تھی جو رجسٹرڈ خواتین بی آئی ایس پی کے تحت پہلے ہی حاصل کر رہی تھیں، اور پھر ملک بھر کے مختلف سینٹرز سے غریب خواتین سمیت دیگر مستحق خواتین کو رقوم کی تقسیم شروع ہو گئی۔ رقوم کی تقسیم کے پہلے دن سے خان صاحب کے لئے صورتحال خاصی پریشان کن ہے کیوں کہ ان کے حواری جہاں بھی یہ رقوم تقسیم کرنے کے لئے پہنچتے ہیں اور خواتین سے جب پوچھتے ہیں کہ یہ پیسے ان کو کون دے رہا ہے تو خواتین فوراً شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا نام لے کر انہیں دعائیں دینا شروع ہوجاتی ہیں، اور اس ساری صورتحال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ خان صاحب کے ناعاقبت اندیش اکابرین کو آخر خواتین سے یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، یہ پیسے یقینن حکومت دے رہی ہے کیونکہ یہ سرکاری رقم ہے جو نہ تو شہید محترمہ بینظیر بھٹو دے رہی تھیں نہ ہی خان صاحب دے رہے ہیں، یہ حرکتیں خان صاحب اور ان کے پراگندہ، ذہنی مریض اکابرین کی ذہنی پسماندگی، بوکھلاہٹ، سبکی اور شہید بینظیر بھٹو کے نام سے الرجک ہونے کا ثبوت ہیں ان کے حواری ایسی حرکات سے نہ صرف اپنی حکومت کے تعصبات کو عیاں کررہے ہیں بلکہ وہ وزیرِ اعظم کے منسب کی بھی توہین کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف حکومت کو شہید بینظیر بھٹو جیسی ہستی کا نام اتنا کھٹکتا ہے یہ ان کے سیاسی دیوالیہ پن کی واضح مثال ہے کہ وہ اپنی ایک ایسی سیاسی حریف کے نام سے الرجک ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، جو اس ملک کے استحکام سالمیت وحدانیت کی علامت تھیں اور انہوں نے اس ملک کی عوام کی ترقی خوشحالی کا خواب آنکھوں میں سجائے سرِ راہ جام شہادت نوش کیا تھا، ان کے بدترین مخالفین بھی ادب و احترام سے ان کا نام لیتے ہیں مگر خان صاحب اور ان کے اکابرین اخلاقی، سیاسی، انسانی اور اسلامی قدروں سے ہی نا آشنا لگتے ہیں۔

بہرحال اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت نصیب کرے شہید محترمہ بینظیر بھٹو آج مر کر بھی زندہ ہیں اور ان کے بغض و عداوت سے بھرے مخالفین زندہ ہوکر بھی مردہ ہیں اور جب بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کوئی بھی حکومت کسی بھی نام سے امداد تقسیم کرے گی بینظیر بھٹو شہید سے عقیدت و محبت رکھنے والی غریب اور مستحق خواتین ان کو ہی اس امداد کا وسیلہ سمجھیں گی۔

Facebook Comments HS