کرونا کا پاکستانی عوام کے نام کھلا خط
میرے پیارے پاکستانیو!
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے آپ سے بہت محبت اور پیار ہے، اس لئے پوری دنیا کو پس پشت رکھتے ہوئے صرف آپ کو خط لکھ کر خیریت دریافت کر رہا ہوں۔ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ آپ سمیت پوری دنیا مجھے اپنا بدترین دشمن سمجھتی ہے۔ مجھے آپ کی اس سوچ سے کوئی شکوہ نہیں بلکہ خوشی ہوئی ہے کہ آپ انسانیت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میں آپ لوگوں سے چند گزارشات کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ لوگ میری وجہ سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچ سکیں۔
1۔ میں ایک وائرس ہوں اور اپنی مرضی سے پھیل نہیں سکتا، مجھے پھیلنے کے لئے کسی انسانی جسم یا جانور کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا میں خود سے تباہی نہیں پھیلا سکتا جب تک آپ کا تعاون حاصل نہ ہو۔
2۔ مجھ میں یہ پرکھنے کی صلاحیت نہیں کہ کون ضعیف ہے اور کون جوان اور نا ہی میں مرد وزن میں تفریق کر سکتا ہوں۔ اسی طرح میرا پھیلاؤ کسی خاص علاقے یا مذہب پر منحصر نہیں، میں بلا تفریق اپنا پھیلاؤ آپ کی مدد سے جاری رکھتا ہوں۔
3۔ میرے نزدیک پرہیزگار اور گناہ گار ایک ہی جیسے ہیں۔ اجتماع چاہے سنیما میں ہو، مندر میں ہو، کلیسا میں ہو، مسجد میں ہو یا بازار میں ہو، سب کے سب میرے پھیلاؤ میں مددگار ہیں۔
4۔ میں غریب اور امیر میں بھی فرق نہیں کر سکتا، نا ہی حکمران اور عوام میں تفریق کرتا ہوں، میرے لئے سب برابر اور ایک جیسے ہیں۔ جو بھی میری تباہی کا شکار ہونا چاہیے میں حاضر ہوں۔
5۔ آپ کے ملک کے سیاستدان بھلے میری وجہ سے اپنی سیاست چمکاتے رہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ میرے وار سے بچنے کا واحد طریقہ سماجی دوری ہی ہے۔
6۔ پوری دنیا کے مقابلے میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں خودساختہ کرونا سپیشلسٹ نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس مجھ جیسے وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کا علاج موجود ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ ان کی باتوں پر کان نہ دھریئے ورنہ نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
7۔ میری یہ گزارش ذہن نشین کر لیں کہ میں کسی بنگالی باوا، سادھو، پیر فقیر اور جادو ٹونے کرنے والوں کی نہیں سنتا لہذا اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں کیونکہ اس سے کوئی افاقہ نہیں ہونے والا۔
8۔ جو لوگ ہر وقت سازشی نظریات کی ترویج کرتے رہتے ہیں اور میرے پھیلاؤ کی وجہ کبھی امریکہ اور اسرائیل پر ڈال دیتے ہیں اور کبھی مجھے مسلمانوں کے خلاف حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان سب سے گزارش ہے اپنے مطالعہ اور قابلیت کو مثبت سمت کی طرف موڑیں اور میرے پھیلاؤ کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
9۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ میرا پھیلاؤ کسی خاص آب و ہوا اور درجہ حرارت تک محدود ہے اور یہ پیشن گوئی کر رہے ہیں کہ اپریل کے آخر تک دنیا مجھ سے آزادی حاصل کر لے گی، ان سے دست بستہ گزارش ہے کہ اگر آپ واقعی مجھ سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو اپنے درمیان فاصلے بڑھائیں اور سب کو محفوظ بنائیں۔
10۔ آخری گزارش یہ ہے کہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور کوئی الٹی سیدھی تدابیر اختیار کرنے سے پرہیز کریں۔ سماجی دوری کو اپنائیں اور کم سے کم لوگوں سے میل جول رکھیں۔ اس میں آپ کا بھی بھلا ہے اور آپ کے ساتھیوں کا بھی۔
اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ کبھی آپ سے ملاقات نہ ہو۔


