کورونا کے ہاتھوں قتل



سورج اپنی مہربان واجلی دھوپ کے ذریعے زندگی کی حرارت کا احساس دلانے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی آب و تاب کھونے کے ساتھ اپنی آخری پھیکی کرنیں ہر سو پھیلا رہا تھا۔ مغرب کی جانب آسمان پرشفق کی لالی دھیرے دھیرے نمودار ہو رہی تھی۔ فضاؤں میں مغرب کی اذانوں کی الوہی صدائیں گونجنے میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا۔ ڈوبتے سورج کی طرح دس سالہ رانی کی بھی پلکیں تھکن اور دن بھر کی بوریت و اکتاہٹ کے بوجھ سے بوجھل ہو چکی تھیں۔

بستر پر لیٹے ریمورٹ کے ذریعے کبھی ایک چینل، کبھی دوسرا۔ مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈٰیا پر بار بار کے اعلانات کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے غیر ضروری گھر سے نکلنا، گھومنے پھرنے کو چند ہفتے محدود کر دیجئے۔ رانی دو دن سے مسلسل یہی راگ سن سن کر اکتا گئی تھی۔ جلدی سے ٹی وی بند کر کے منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی۔ جدھر دیکھو کرونا ہی کرونا۔ اسی کرونا نامراد کی وجہ سے میرا سکول بھی بند ہے۔ حالانکہ اس عمر اور خاص کر سکول کی چھٹیوں میں تو ہر دن عید اور ہر رات شب برات ہوتی ہے۔

لیکن رانی ان دو دنوں کی چھٹیوں میں شدید بور اور اکتا سی گئی تھی۔ اب بھلا رانی کو یہ بات کیسے سمجھ آتی کہ یہ اعلانات برے نہیں ہوتے ان کے ساتھ جڑے ہوئے ذاتی مفادات و خواہشات اور عوام کی سہولیات سے متصادم پالیسیاں بُری ہوتی ہیں۔ بڑے بھائی ارسلان سے رانی اپنی بوریت کا شکوہ کرنے لگی تو بھائی نے جواب دینے کی بجائے رانی کا ہاتھ چومتے ہوئے اور سرپرائز دیتے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا ”سالگرہ مبارک“ آج میری رانی بہن پورے دس سال کی ہو گئی۔

ذرا ڈرائینگ رووم میں جا کر تو دیکھو۔ رانی دوڑ کی ڈرائینگ رووم میں آئی تو درمیانی سائز کے میز پہ بڑا سا چاکلیٹی کیک اور اس پہ لگی ہوئی دس موم بتیاں، برگر، چاکلیٹ، چپس، آئس کریم، بوتلیں اور ڈبوں میں بند سالگرہ کے تحفہ نظر آئے۔ چھت سے جھولتی کاغذی قندیلیں، سرخ غبارے اور جگمگاتے چھوٹے چھوٹے برقی قمقمے۔ مغربی دیوار کے درمیان رنگین کلیوں سے بڑا بڑا سالگرہ مبارک اور نیچے رانیہ نواز لکھا ہوا نظر آیا۔ جو ارسلان نے اپنی بہن کی خاطر بڑی محبت و محنت سے لکھا تھا۔

رانی اپنے چھوٹے چھوٹے بازؤں کے حصار میں ارسلان بھائی کو لے کر شکریہ کی خاطر خوشی سے دندنانے لگی۔ مسکراتی ہوئی ماں آگے بڑھ کر رانی کا ماتھا چومتے ہوئے کہنے لگی۔ یہ لو رانی بٹیا سالگرہ کے لئے تمہارے نئے سوٹ کا تحفہ۔ بس جلدی سے اسے پہن کر اور تیار ہو کر آجاؤ۔ تمہارے ابو بھی دفتر سے آنے والے ہیں، ان کے آتے ہی کیک کاٹیں گے۔ رانی جلدی جلدی سوٹ والا لفافہ کھولنے لگی۔ ماں! آپ خود دیکھیں یہ سرخ اور ہرا رنگ پہن کے تو میں گولا گنڈا لگنے لگوں گی۔

رانی نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں ماں کی طرف سوٹ بڑھایا۔ ہر گھر کی عورتوں کی طرح رانی کی ماں بھی کہنے لگی، نہیں رانی غصہ نہیں، یہ لڑکیوں کا شیوہ نہیں۔ رانی تقریبا روتے ہوئے کہنے لگی ماں! جب بھی میں کوئی بات کروں آپ فوراً کہتی ہیں یہ لڑکیوں کا شیوہ نہیں۔ جب چھوٹا بھائی نعمان غصہ کرے تو فوراً کہتی ہو کہ ابھی اتنا سا ہے مگر ابھی سے باپ دادا جیسا جلال ہے۔ بس زیادہ بڑی بڑی باتیں مت کر، جلدی جا اور تیار ہو کر آ۔ ماں سخت لہجے میں رانی سے کہنے لگی۔ واقعی یہ سچ ہے کہ کھلتی بہاریں، خوشیاں اور محبتیں کسی بھی عمر کے انسان کی سوچ کو مثبت پیرائے میں ڈھالتے ہوئے خاموش کرا دیتی ہیں، رانی بھی خاموشی سے سوٹ اٹھائے چلی گئی۔

رات کا کھانا کھانے کے بعد بڑے بھائی ارسلان نے اپنے موبائل فون پر عاطف اسلم کے گانا لگا کے، موم بتیاں جلا کے، کیک کاٹنے کی چھری رانی کے ہاتھوں پکڑا کے، نعمان، امی اور ابو کے ساتھ تالیاں بجا کے زور زور سے ہیپی برتھ ڈے ٹو یو، ہیپی برتھ ڈے ڈئیر رانی کہنے لگا۔ پانچ افراد پہ مشتمل ایک پیاری سے پارٹی، کیک، برگر، آئس کریم اور بوتلیں پیتے ہوئے، ہنستے ہوئے، قہقے لگاتے ہوئے اور رانی کو سالگرہ کے گفٹ دیتے ہوئے امی کے اس حکمنامے سے ختم ہوئی کہ چلو اب بہت دیر ہوگئی ہے، لائٹ بھی جانے والی ہے اور رات بھی کافی ہو گئی ہے۔

اب جلدی جلدی سو نے کی تیاری کرو۔ تھکی ہاری رانی خوشی خوشی اپنے بستر پہ ابو سے ملنے والے ٹیڈی بئیر اور بھائی ارسلان کی طرف سے پرس اور ہیر بینڈ کا تحفہ اپنے ساتھ سنبھالے نہ چاہتے ہوئے بھی کروٹ لے کر آنکھیں موند کے سونے کی کوشش کرنے لگی اور جلد ہی نیند کی وادی میں چلی گئی۔ صبح دس بجے تک رانی سوتی رہی، حالانکہ ماں اس کو اٹھنے کے لئے کئی بار آوازیں دے چکی تھی۔ آخر کار ماں نے رانی کے جسم سے چادر کھینچتے ہوئے اور تقریبا چلاتے ہوئے کہا!

دوپہر ہونے والی ہے، نگوڑی ابھی تک سوئی ہوئی ہے۔ زیادہ دیر سونا لڑکیوں کا شیوہ نہیں۔ ادھ کھلی آنکھوں سے رانی کہنے لگی۔ اماں میرے جسم میں ہلکی ہلکی تپش ہے، سر میں درد اور گلے میں خارش ہے، جسم میں سوئیاں سی چبھ رہی ہیں۔ گردن کے نیچے پسینے کی چپچپاہٹ محسوس ہورہی ہے۔ جسم ٹوٹ سا رہا ہے۔ ارے ارے! رانی تو بڑی ہوتی جا رہی ہے دھیان کر۔ ماں نے کپڑوں کی الماری سے کھنگال کر ایک میلی سی چادر اس کے اردگرد لپیٹ کر اسے تقریباً پورا ڈھک دیا۔

رانی کو ایک دم ابکائی آئی۔ افف اماں یہ بہت گندی ہے اتارو اسے۔ شش، چپ کر۔ تجھے پتا ہے وہ آنے والی ہے، اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ماں نے دبی آواز میں اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔ اماں کون آئے گی۔ اپنے خوف کو جھنجھلاہٹ میں چھپانے کی کوشش میں اس کی آواز لاشعوری طور پہ کچھ بلند ہوگئی۔ آہستہ بات کر۔ ماں نے اس کی بازو پہ بہت زور سے چٹکی لی۔ ان کی آنکھوں میں بہت سخت تنبیہ تھی، ایک انجانا خوف بھی۔

خیال کرناشتہ کر کے بس کمرے میں ہی یہ چادر اوڑھ کر بیٹھی رہنا۔ پہلے کچھ ہوم ورک کر لینا بعد میں ٹی وی دیکھنا۔ اور ہاں ادھر ادھر دوڑنا نہیں۔ ماں بڑے پیار سے رانی کو سمجھا رہی تھی۔ ماں، ماں! سنو ناں! رات میں نے خواب دیکھا کہ میں کسی اونٹنی کے بچے کی طرح سخت ترین اندھیری رات میں کسی صحرا میں اکیلی بھٹک رہی ہوں۔ کالی سیاہ رات میں عجیب و غریب، خوفناک اور دل کو دہلا دینی والی آوازیں میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔

میں ان آوازوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی، بھاگنا چاہتی تھی۔ بہت دور بھاگ جانا چاہتی تھی۔ وہ سب آوازیں آپس میں غلط ملط ہو رہی تھیں۔ مخلوط آوازیں کسی سیال کی طرح میرے کانوں کے اندر پہنچ کر مجھے ناقابل برداشت حد تک تکلیف پہنچا رہی تھیں۔ کچھ انجان وجود تھے، جن کے بڑھے ہوئے ناخن، ہاتھوں میں نوکیلے سنگولے، منہ سے باہر کو لٹکتی زبانیں، چوکور، مستطیل، لمبوترے اور نہ جانے کن کن انداز کے چہرے مجھے ڈرا رہے تھے۔ بس کر رانی چپ ہوجا۔ جب اتنی اتنی دیر سوئے گی تو ایسے خواب تو نظر آئیں گے۔ چل جلدی منہ ہاتھ دھو کے آ۔

ناشتہ کرنے کے بعد وہی روٹین کے مطابق ٹی وی کا ریمورٹ پکڑے چینل پہ چینل تبدیل کرنے لگی۔ ہر چینل پہ روزانہ کی طرح ایک ہی بات، ایک ہی رٹ۔ کرونا ادھر پہنچ گیا، کرونا سے اتنی ہلاکتیں ہو گئیں، کرونا کی احتیاطی تدابیروغیرہ وغیرہ۔ روز کی ایک ہی یخ یخ سن کر سامنے بیٹھی چاول صاف کرتی ہوئی ماں سے کہنے لگی۔ ماں آخر یہ کرونا وائرس ہے کیا؟ جس نے اتنی تباہی پھیلائی ہوئی ہے۔ کیا ہمارے ملک میں بھی یہ وائرس ایسا ہی حال کرے گا۔

نہیں رانی! جس ملک میں اس وائرس سے زیادہ خطرناک بیماریاں پہلے سے ہی موجود ہوں انہیں یہ وائرس کیا کہے گا؟ ہمارے ملک میں اس سے بھی بڑے وائرس کھلے عام پھر رہے ہیں۔ رانی ٹی وی بند کر ماں کی دی ہوئی چادر لپیٹے باہر صحن میں آئی۔ بیرکے پیڑ سے گرے کچھ رس بھرے بیر زمین پہ بکھیرے پڑے تھے۔ کچھ بیر اٹھا کے بغیر دھوئے کھاتی بھی رہی اور ٹہلتی بھی رہی۔ شام تک رانی کا بخارتھوڑا تیز ہو گیا اور ساتھ میں کھانسی بھی۔

چادر میں لپٹی رانی برآمدے میں بچھی چارپائی پر بیٹھ کر اپنا ہوم ورک کررہی تھی۔ رانی کو بار بار کھانستے ہوئے دیکھ کر ماں نے دور ہی سے آواز دی۔ چل رانی میں تجھے محلے کے ڈاکٹر غفور کے پاس لے جاتی ہوں۔ اس بزرگ ڈاکٹر کے ہاتھ میں اللہ نے بڑی شفاء دی ہے۔ ڈاکٹر غفور کو ماں نے رانی کی عمر اور اس عمر میں آنے والی تکالیف و علامات کا بتاتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوئی دوائی کی پڑیا دے دو۔ ڈاکٹر نے تھرما میٹر سے بخار چیک کیا۔

بیٹری کی روشنی میں گلے کی حالت دیکھی، آنکھوں اور ناک میں تری دیکھی تو نہ جانے ڈاکٹر نے کیا سوچتے ہوئے کہا کہ میں دوائی تو دے دیتا ہوں۔ ویسے گھبرانے کی کوئی بات نہیں، ٹھنڈا گرم ہونے سے سردی کا جھٹکا ہے لیکن اچھی بات ہے کہ آپ اسے سول ہسپتال میں نمونیہ اور چیسٹ انفیکشن وغیرہ کا چیک اپ اور ٹیسٹ وغیرہ کروا لیں تاکہ مزید تسلی ہو جائے۔ جی اچھا ہسپتال سے ضرور چیک کرواؤں گی۔

ارسلان بیٹا! رانی کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکٹر کو دکھا کے آئی ہوں اب ذرا اس کو موٹر سائیکل پہ بٹھا کے ہسپتال میں چیک اپ کے لئے تو لے جا۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔ نہیں ماں! اسے کچھ بھی نہیں ہوا، رات اس نے آئس کریم، بوتلیں اور برگر وغیرہ کھائے تھے ناں بس اس کی وجہ سے طبعیت خراب ہے۔ آرام کرے گی تو ٹھیک ہو جائے گی۔ بس زیادہ مشورے نہ دے۔ ویسے بھی تین روز سے گھر میں پڑی پڑی بور ہو گئی ہے۔ موٹر سائیکل پہ لے جاؤ گے تو رانی کا دل بھی بہل جائے گا۔

ماں ارسلان کو حکمیہ انداز میں کہنے لگی۔ میری رانی گڑیا بیمار ہوگئی ہے، آؤ چلو بیٹھو موٹر سائیکل پر۔ ارسلان نے بہن کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔ ہسپتال کے ایمرجنسی رووم کے ایک بنچ پہ رانی کو بٹھا کر ارسلان پرچی لینے چلا گیا۔ رانی بنچ پر بیٹھ کر دروازے سے باہر ایک کیاری کو دیکھنے لگی۔ کیاری کے پتوں کے درمیان لگے جالے میں سبز رنگ کی ایک مکڑی باہر نکلنے کی کوشش میں کبھی ایک طرف جاتی، کبھی دوسری طرف۔

کچھ دیر یہی آنکھ مچولی چلتی رہی پھر آہستہ آہستہ مکڑی جالے سے باہر نکل آ ئی۔ قریب ہی پودے پر موجود مکھی کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ مکھی کو اندازہ بھی نہیں ہوپایا، مکڑی ایک دم جھپٹی اورایک ہی جست میں مکھی کو اپنے حلق میں اتار دیا۔ رانی یہ منظر دیکھنے میں اتنی محو تھی کہ مکڑی کے جھپٹنے پہ ایک دم اچھل گئی۔

ایمر جنسی کے ہیلپ ڈیسک پر ارسلان کو ناصر نظر آیا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ یار ناصر تو اور ادھر؟ ہاں دو مہینے پہلے میری نوکری کے آرڈر ہوئے۔ بتا کیسے آنا ہوا ارسلان؟ یار وہ سامنے میری پیاری گڑیا، میری بہن رانی بیٹھی ہے اس کو نارمل بخار اور کھانسی وغیرہ ہے بس نمونیہ اور چیسٹ انفیکشن وغیرہ کے چیک اپ اور ٹیسٹ کے لئے آیا تھا۔ تھوڑی مدد کر دو اور جلدی سے نمبر دلوا دو کیونکہ رانی کو گھر چھوڑ نے کے بعد میں نے کسی اور کام بھی جانا ہے۔

کوئی ایسی بات نہیں ابھی ڈاکٹر سے چیک اپ کروا دیتا ہوں۔ ناصر مسکراتے ہوئے کہنے لگا، یار ارسلان! میری طرح ماسک ضرور پہنا کرو، آج کل کرونا کا بہت خطرہ ہے۔ کہیں رانی کو کرونا تو نہیں؟ ناصر قہقہ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔ آؤ ارسلان رانی کو ڈاکٹر سے چیک اپ کراتے ہیں۔ ”کہیں رانی کو کرونا تو نہیں؟ “ ناصر کا مذاق میں کہا یہ جملہ ایمرجنسی روم میں موجود ایک نام نہاد صحافی نے سنا تو فوراً سوشل میڈیا پہ پوسٹ ڈال دی ”ڈسٹرکٹ ہسپتال کی ایمرجنسی میں دس سالہ کرونا وائرس کی مشتبہ مریضہ رانی کا چیک اپ کیا جا رہا ہے“ اس صحافی کی پوسٹ لگانے کی دیر تھی یہ خبرشہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

ہسپتال کے عملے کو خبر پہنچی تو سٹاف حفاظتی لباس پہنے، ہاتھوں پر دستانے اور ماسک چڑھائے فوری ایمر جنسی روم میں پہنچ گئے اور رانی کو اپنے حصار میں لے لیا۔ ایمر جنسی میں آئے باقی مریض ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ رانی بم ڈسپوزل جیسا لباس پہنے لوگوں کو دیکھ کر رونے اور چیخنے لگی۔ بار بار پکارتی! ارسلان بھیا مجھے ماں کے پاس لے جاؤ۔ ارسلان کو ہسپتال کا عملہ رانی سے ملنے نہیں د ے رہا تھا۔ ارسلان بار بار چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا رانی کو کرونا نہیں، اسے چیسٹ انفیکشن ہے، اسے کرونا نہیں، اسے چیسٹ انفیکشن ہے، سن سب رہے تھے لیکن توجہ کوئی نہیں دے رہا تھا۔

ہسپتال کے عملے نے فوری طور پر رانی کو ایک کمرے میں منتقل کر دیا۔ کسی کو بھی اندر جانے یا اردگرد رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ صحافیوں اور لوگوں کی بھیڑ لگ چکی تھی۔ پولیس بھی لوگوں کو منتشر کرنے پہنچ چکی تھی۔ رانی کی ماں اور باپ نے ٹی وی پر جب یہ خبر سنی تو فوری طور نعمان کو لے کر جلدی سے ہسپتال پہنچے۔ مجھے اندر جانے دو بہت مجبوری ہے۔ میں رانی کا والد اور یہ اس کی ماں ہے گیٹ پر کھڑے سیکورٹی گارڈ سے رانی کا والد بحث کر رہا تھا۔

میڈیکل ڈائریکٹر کو جب معلوم ہوا کہ یہ رانی کے والدین اور بھائی ہیں تو اس نے فوری آرڈر دیا کہ ان کو بھی علیحدہ علیحدہ کمروں میں کرونا کے ٹیسٹ کے لئے منتقل کیا جائے۔ ہسپتال کے پانچ کمروں میں پانچ مشتبہ مریضوں کو منتقل کر دیا گیا۔ مختلف ادویات دی گئیں، انجکشن لگائے گئے، ڈسٹرکٹ ہسپتال میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے خون کے نمونے لے کر فوری طور پر صوبائی دارالحکومت بھجوائے گئے۔ میڈیکل ڈائریکٹر کو حکم جاری ہوا کہ جب تک ٹیسٹوں کی رپورٹ نہیں آتی، تمام مشتبہ افراد کو شہر سے باہر کرونا وائرس کے مریضوں کے لئے بنائے گئے خصوصی ماڈل قرنطینہ منتقل کیا جائے۔

پولیس اور عملے کے حفاظتی حصارمیں علیحدہ علیحدہ ایمبولینسوں کے ذریعے پانچوں کو شہر سے باہر قرنطینہ منتقل کیا گیا۔ ان پانچوں کو کسی کی کوئی خبر نہیں تھی۔ ہر کوئی علیحدہ علیحدہ کمرے میں علیحدہ بستر پر تن تنہا۔ قرنطینہ کے کمرے میں رانی کا رونا اور چیخنا تھا جو بند نہیں ہو رہا تھا۔ چیخیں بلند سے بلند ہو رہی تھیں۔ رات کی تاریکی میں آسمان کے تارے بھی گدھوں کے جھنڈ کا منظر پیش کر رہے تھے۔ ڈاکٹر نے رانی کی چیخ و پکار سے تنگ آکر ڈسپنسر کو حکم دیا کہ اس بچی کو فوری طور پر نیند کا انجکشن دے دو تاکہ یہ خود بھی سو جائے اور ہمیں بھی سکون سے سونے دے۔

ڈسپنسر حفاظتی لباس پہنے، ماسک اور ہاتھوں پہ دستانے چڑھائے رانی کے کمرے میں انجکشن لے کر داخل ہوا۔ ڈسپنسر رانی کوبڑے پیار سے کہنے لگا، دیکھو کچھ بھی نہیں۔ مجھے پتہ ہے تمہارا بھائی چیخ چیخ کرکہہ رہا تھا تمہیں کرونا نہیں، چیسٹ انفیکشن ہے۔ انشاء اللہ کل تک تمہاری ٹیسٹ رپورٹ آجائے گی۔ گھبراؤ نہیں خیر ہوگی۔ کل تم اپنے گھر واپس چلی بھی جاؤ گی۔ بس مجھے یہ انجکشن لگانے دو۔ آپ بہت اچھی بچی ہو، بالکل گڑیا ہو۔

شاباش بازؤ آگے کرو۔ رانی چیسٹ انفیکشن اور تسلی کے دو بول سن کر تھوڑی چپ ہو گئی۔ لیکن سسکیاں لیتے ہوئے اپنا بازو آگے کر دیا۔ ڈسپنسر نے بڑے آرام اور محبت سے انجکشن لگایا۔ اور سپرٹ میں ڈوبی روئی کو رانی کے انجکشن والی جگہ پہ دھیرے دھیرے مسلنے لگا۔ رانی کو درد ہو رہا تھا، لیکن ڈسپنسر انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے تسکین حاصل کر رہا تھا۔ ڈسپنسر کی ماسک کے اندر سے آنکھیں کسی گدھ کی طرح رانی کے پورے وجود کا الٹرا ساؤنڈ کر رہی تھیں۔

ڈسپنسر چہرے کے ماسک کے اندر سے گدھ کو باہر نکالنے کے لئے اپنے وجود کے مختلف ماسک اتار رہا تھا اور اندرونی چہرہ گدھ کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔ رانی پر آہستہ آہستہ غنودگی طاری ہو رہی تھی۔ رانی کا وجود گدھ بننے والے ڈسپنسر کے لمبے ناخنوں والے ہاتھوں کے سہارے بستر کی اوربڑھتا جا رہا تھا۔ رانی کی نیم خوابیدہ آنکھیں، جیسے گلے میں ریت اٹکی ہو بالکل ویسے ہی ہونٹوں پہ لڑکھڑاتے الفاظ ”مجھے کرونا نہیں، مجھے کرونا نہیں“ مزید مدھم سے مدہم ہوتے جارہے تھے۔

ڈسپنسر نما گدھ نے سر تکیہ پہ رکھنے کے فوری بعد رانی کے چہرے سے ماسک اتارا۔ ماں کی اوڑھائی ہوئی چادر اور سالگرہ والا سرخ و سبز غلاف اتار کو انسانی صحیفے کو بے غلاف کر دیا۔ جوان منہ زور گدھ اپنے پورے پر پھیلائے جوبن ِپرواز پہ تھا۔ رانی کے پھول جیسے وجود میں گدھ کو گوشت کا لوتھڑا نظر آرہا تھا۔ گدھ نے اپنے جوان پنجوں سے چھوٹے سے مخروطی گوشت کے ٹکڑے کو دبوچا۔ گدھ کے جسم میں خون کی گردش بڑھنے لگی، گدھ آہستہ آہستہ اپنی قوت پرواز بڑھاتا جا رہا تھا۔

چاند کو مٹھی میں بند کرنے کی خواہش رکھنے والی رانی کے آنسوؤں کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ گدھ صرف جسم ہی نہیں بلکہ اس کی روح کو بھی چیر پھاڑ رہا تھا۔ نیند کے انجکشن اور درد سے رانی بے حال و بے بس ہو چکی تھی۔ جوان گدھ کے تیز رفتاری اورمسلسل نوچنے سے رانی مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھی۔ جس طرح مچھلی پانی سے نکلنے کے بعد تڑپتی ہے۔ نڈھال ہو کر آخری سانسیں لیتی ہے اور فقط منہ کھول کر سانس لینے کی کوشش کرتی ہے ویسے ہی تڑپتی اور خالی نگاہوں سے کبھی شکاری کو کبھی چھت کو گھورتی۔

نیند آور انجکشن کے سرائیت اور اثر کرنے کے باوجود بھی درد کی شدت کو برداشت نہ کر پاتے ہوئے اس کے منہ سے پہلے سسکیاں اور بعد میں جیسے ہی چیخ بلند ہوئی، گدھ نے اپنا پنجہ سختی سے شکار کے منہ پر رکھا۔ سانس لینے کی کوشش بھی ختم ہو گئی۔ زبان خاموش۔ ”کرونا“ کے لفظ مر گئے۔ بے غلاف جسمی صحیفہ ساکت۔ لیکن آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ آنسوؤں کے قطرے رک گئے۔ گدھ اپنے شکار کوہر طرف سے نوچنے کے بعد اپنے پنجے سینیٹائزر سے دھونے کے بعد دستانے چڑھائے واپس اڑ گیا۔

ڈاکٹر کو تسلی ہوئی کہ کرونا کی مشتبہ مریضہ کو نیند آگئی، اب ہم بھی تسلی سے سو جائیں گے۔ قرنطینہ میں باجماعت نماز صبح ادا کرنے کے بعد ڈاکٹر اپنی ٹیم کے ساتھ کمرے میں مریضہ کے چیک اپ کے لئے آیا۔ منظر دیکھ کر فوری واٹسایپ اور فون کالز کے ذریعے متعلقہ اور بڑے افسران کو خبر دی کہ کرونا وائرس کے اٹیک سے ملک کی پہلی دس سالہ مریضہ انتقال کر گئی۔ خبر کے ملتے ہی حکومتی ہائی الرٹ جاری ہوا۔ مارکیٹیں، بنک، دکانیں اور تمام عوامی مراکز بند۔

مقامی و انٹرنیشنل ٹی وی چینلوں، سوشل میڈیا اور اخباروں میں ایک ہی خبر ملک میں کرونا وائرس کا حملہ۔ کئی ملکوں نے امدادی سامان کی فراہمی و حفاظتی ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کردیا۔ اقوام متحدہ، یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں نے مخصوص فنڈز دینے کا اعلان کردیا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضہ معافی پر غور و غوص کے لئے اجلاس طلب کر لیا۔ صوبائی حکومت نے اس متاثرہ خاندان کے لئے پورے ایک ماہ کے مفت راشن، ادویات اور پانچ لاکھ روپے کا اعلان کردیا۔

شام تک میڈیکل ڈائریکٹر کے پاس حالات و واقعات اور غیر ملکی اعلانات کے بعد، اصل حقائق کے بر عکس تبدیل شدہ پانچ ٹیسٹ رپورٹ دفتری ریکارڈ کے لئے آچکی تھیں۔ رانی پازیٹو اور باقی چار نیگیٹو۔ رانی کے وجود، چادر، بستر بلکہ پورے کمرے میں حفاظتی سپرے کرنے او روائرس ختم ہونے کی تصدیق وتسلی کے پانچ گھنٹے بعد ڈاکٹروں کی اجازت ملتے ہی پورے حفاظتی انتظامات و لباس کے ساتھ والدین اور بھائیوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

رانی کی ماں کمرے میں داخل ہوتے ہی بستر کی طرف دیوانہ وار دوڑ کے رانی سے لپٹ گئی۔ اچانک ماں کی نظر شلوار پر پڑی تو فوراً کونے میں پڑی رانی والی بڑی چادر ٹھائی اور اس کی ٹانگوں پہ ڈال کر آسمان کی طرف جھولی اٹھاتے ہو کہا۔ میرے خالق میری بچی کا کیا قصور تھا۔ آج ہی میری رانی جوانی کی سیڑھی پہ چڑھی اور کرونا میری بچی کو کھا گیا۔

Facebook Comments HS