جی میں ڈبل نمونیے کا ماہر ہوں

سر دیوں کے زمانے میں ایک ڈاکٹر کے پاس شدید نزلے کا شکار ایک مریض آیا اور نزلے کی شدت کی شکایت کی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائینہ کرنے کے بعد دوا تجویز کرنے اور اس کے استعمال کا طریقہ بتانے کے بعد اسے ہدایت کی کہ گھر جاکر اسے اپنے سارے گرم لباس اتار کر صرف ایک ململ کا کرتا زیبِ تن کرنا ہے، برف کا پانی پینا ہے، آئس کریم کھانی ہے، رات گھر کے صحن میں بلا رضائی سونا ہے اور صبح یخ پانی سے غسل کرنا ہے۔ یہ سن کر مریض کی آنکھیں اپنے حلقوں سے باہر ابل پڑیں اور اس نے کافی اونچی آواز میں کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ یہ کیا فرما رہے ہیں، یہ سب کرنے کے بعد اگر میں زندہ رہ بھی گیا تو کم از کم مجھے ڈبل نمونیہ تو ہو ہی جائے گا۔ ڈاکٹر نے مسکرا کر نہایت دھیمے لہجے میں کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کو ڈبل نمونیہ ہو جائے اس لئے کہ میں ڈبل نمونیئے کے علاج کا ماہر ہوں۔
کورونا کے ملک میں داخل ہوتے ہی جس لا پرواہی کا مظاہرہ ملک کے طول و عرض میں دیکھنے میں آیا اس کی کوئی اور نظیر ملنا مشکل ہی ہے۔ ملک میں پی ایس ایل کے میچز کورونا کے خلاف ہر قسم کی پیش بندی سے کہیں افضل سمجھے گئے یہاں تک کہ اسٹیڈیم کی خالی کرسیوں کے منھ چڑاتے رہنے کے باوجود اس بات کی بھر پور کوشش کی گئی کہ پی ایس ایل کے میچوں کو جاری رکھا جائے۔ اسی افرا تفری میں ہوا یہ کہ بند زمینی سرحدیں تک کھول دی گئیں۔ ایران کے راستے زائرین کا آنا اور دنیا پھر کے تبلیغیوں کی آمد و رفت نے کورونا کو ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلا دیا، جس کی وجہ سے نہ صرف پی ایس ایل کے سارے میچز منسوخ کرنے پڑ گئے بلکہ اس کے بعد ایسی ہا ہا کار مچی کہ پورا پاکستان لرز کر رہ گیا۔
حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے حکومت سندھ نے کورونا کے خلاف پیش بندی کرتے ہوئے ایک بھر پور قدم اٹھایا اور پورے سندھ کو یک دم لاک ڈاؤن کر دیا۔ شہروں اور شہروں کے درمیان ہی نہیں بلکہ بین الصوبائی ہر قسم کی بس سروس پر فوری طور پر پابندی عائد کردی اور ہر قسم کا کاروبارِ زندگی بند کر دیا گیا۔
اس قدم کا اٹھایا جانا تھا کہ وفاق اور سندھ کے درمیان ایک الگ بحث کا آغاز ہوگیا اور اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ممکن ہے کہ وفاق کا مؤقف اس سلسلے میں درست ہی رہا ہو کیونکہ اس اقدام سے ملک کی معیشت پر بہت برے اثرات پڑ سکتے تھے اور خاص طور سے وہ مزدور طبقہ جس کے گھر کا چولہا جلنے کا انحصار روز کی دیہاڑی پر ہوتا ہے، اس کے بھوکے مرجانے کے خدشات وفاق کے لئے نہایت سنجیدہ نوعیت کے تھے اس لئے وفاق کی نظر میں بھر پور لاک ڈاؤن کی حکمت عملی میں فوائد کی بجائے نقصانات زیادہ تھے۔
صوبہ سندھ اور وفاق میں یہ اختلاف اپنی جگہ لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ وہ صوبے جن میں وفاقی پارٹی کی حکومتیں تھیں، ان سب نے بھی اچانک سندھ کی طرز پر لاک ڈاؤن کرنے کا نہ صرف اعلان کردیا بلکہ افواج پاکستان سے مدد بھی طلب کرلی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وفاق لاک ڈاؤن کے خلاف تھا تو پھر سندھ کے علاوہ باقی وہ تین صوبے جن میں پی ٹی آئی کی اپنی پارٹی کی حکومت تھی، ان کے فیصلے وفاق سے مختلف کیسے ہو گئے؟
سندھ کا فیصلہ یا بعد میں پاکستان کے باقی صوبوں میں لاک ڈاؤن کیے جانے کے ثمرات بہرحال سامنے آئے جس کے معترف وزیر اعظم اور ان کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا بھی ہیں جو بار بار یہی بات کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ہم (حکومت) نے جس انداز میں وبا پھیلنے، اس مرض کا شکار ہونے اور اس مرض سے ہلاک ہوجانے والوں کی تعداد کا جو اندازہ لگایا تھا، مریض اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کافی کم ہے۔ یہ بات اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ سندھ کی طرز کا لاک ڈاؤن اگر پورے ملک میں ایک ساتھ کر دیا جاتا تو شاید جو صورت حال اس وقت ہے حالات اس سے بھی کہیں بہتر ہوتے۔
اب جبکہ وفاق کے احکامات کے تحت 30 فیصد سے کہیں زیادہ کاروبارِ زندگی بحال کر دیا گیا ہے، شہروں کی چہل پہل بڑھ گئی ہے، سڑکوں پر سواریوں کا رش بڑھ چکا ہے اور بازار کھول دیے گئے ہیں، اس لئے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ کورونا کی وبا جو صرف سماجی فاصلے بر قرار رکھنے کی وجہ سے ہی قابو میں آئی ہوئی تھی، کیا شکل اختیار کرتی ہے لیکن نعرہ وہی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے اس لئے کہ سخت ترین سردی میں جن جن باتوں کو اختیار کرنے کی میں نے ہدایت کی ہے اس کو اختیار کرکے آپ کو بے شک ڈبل نمونیہ ہوجائے گا مگر اطمنان رکھیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ڈبل نمونیے کا اسپیشلسٹ ہوں۔

