کورونا وائرس سے دنیا بھر میں بے روزگاری کس طرح پھیلے گی؟


خطرناک وباؤں اور وبائی امراض کا وجود دنیا میں اتنا ہی قدیم ہے جتنی خود انسانی تاریخ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں ان کا علاج دریافت کر کے کافی حد تک ان وباؤں پر قابو پا لیا گیا ہے اور زیادہ تر وبائی امراض کی ویکسین بھی تیار کر لی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک صدی گزرنے کے بعد ایک اور خطرناک وائرس زمین پر حملہ آور ہو گیا اس وائرس کو نوول کورونا وائرس یا 19۔ کووڈ پینڈی مک کا سرکاری نام دیا گیا۔ یہ وائرس چین سے نکلا اور دنیا کے 200 ممالک میں پھیل گیا یہ خطرناک وائرس اب تک ایک لاکھ سے زائد انسانی جانوں کو نگل چکا ہے اور 18 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ آخری وبا 1920۔ 1918 کے درمیان یورپ میں پھیلی تھی جس کو انفلوینزا یا اسپینش فلو کا نام دیا گیا تھا اس وائرس سے اندازاً 50 کروڑ انسان متاثر ہوئے تھے اور دو کروڑ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

کورونا وائرس یعنی کوورڈ۔ 19 کے موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس دنیا کا پہلا اور آخری وائرس نہیں ہے معلوم تاریخ اور جدید تحقیق کے مطابق دنیا کا سب سے پہلا جرثومہ یا وائرس جو انسانی ہلاکتوں کا باعث بنا وہ 600 قبل از مسیح میں دریافت ہوا تھا وہ طاعون یا پلیگ کا وائرس تھا اور چین سے ہی باقی دنیا میں پہنچا تھا پلیگ کو بلیک ڈیتھ کا نام بھی دیا گیا تھا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 53۔ 1346 کے درمیان طاعون کی وبا سے مغربی یورپ کی 60 فی صد آبادی ختم ہو چکی تھی اور یورپ، ایشیا، اور افریقہ سے تقریباً 200۔ 50 ملین افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اس بھیانک وبا یعنی کورونا وائرس سے عالمی بے روزگاری کیسے پھیلے گی۔

جینیوا میں بیٹھے آی ایل او یعنی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ڈائرکٹر جنرل گائی رائیڈر کا کہنا ہے کہ کووڈ۔ 19 کے اثرات انسانی روزگار پر بڑے بھیانک ہوں گے تقریباً 19 کروڑ انسان بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت پر تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا کے اثرات 9۔ 2008 کے معاشی بحران سے بھی کہیں زیادہ ہوں گے۔

آی ایل او کی ایک اور رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت کے چار سیکٹر ایسے ہیں جو اس وبا کے بحران سے بری طرح متاثر ہوں گے ان میں خوراک اور رہائش کا شعبہ اس میں 144 ملین کارکن، ریٹیل اور ہول سیل کا بزنس 482 ملین افراد، مینوفیکچرنگ سے 463 ملین کارکن متاثر ہوں گے

بے روزگاری کا یہ بحران دنیا کی ورک فورس پر بدترین اثرات مرتب کرے گا
رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ساری توجہ اس بات پر مرکوز کی جاتے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور ان کے ملازمین تحفظ دے کر روزی روٹی سے محروم نہ رکھا جائے۔

کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو جو خطرات لاحق ہیں وہ اپنی جگہ لیکن سب سے زیادہ نقصان غریب اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اٹھانا پڑے گا جہاں سستی لیبر کی بھرمار ہے۔ سستی افرادی قوت کی وجہ سے یہ ممالک برآمدات پر انحصار کرتے ہیں مثلاً بنگلہ دیش، سری لنکا، ہندوستان، کمبوڈیا، ویٹ نام، انڈونیشیا وغیرہ۔

ان ممالک کی ترقی کاراز ان کی سستی افرادی قوت میں ہے۔ آی ایل او کا کہنا ہے گو کہ اس عالمی بحران کے اثرات ابھی تک زرعی شعبے تک نہیں پہنچے ہیں جو بہت سے ترقی پذیر ممالک کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن اس کے باوجود خوراک کی کمی اور اس کے تحفظ کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہے گا اور یہ بحران دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا بحران ہو گا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بدترین اثرات سے 195 ملین یعنی 19 کروڑ افرادی قوت متاثر ہو سکتی ہے۔

اب اگر یورپ اور شمالی امریکہ میں بے روزگاری کا جایزہ لیا جائے تو یہاں کی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان جن شعبوں میں ہو رہا ہے ان میں سر اول سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری، ایوی ایشن، ایر لائن اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری ہے خوشحال یورپ اور شمالی امریکہ میں سیاحت سے اربوں نہیں کھربوں ڈالرز سالانہ کماے جاتے ہیں یورپ اور امریکہ کی تمام ہوائی کمپنیاں اس وقت بند پڑی ہیں جہاز ایرپورٹ پر کھڑے مسافروں کا انتظار کر رہے ہیں اور ہوائی عملہ گھروں میں بند ہے۔

ایر کینڈا کینیڈا کی قومی ائیر لائن ہے اس نے اپنے 16500 ملازمین کو وقتی طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا ہے اور یہ جز وقتی لے آف نوکری سے مکمل برخاست کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

ویسٹ جیٹ شمالی امریکہ کی دوسری بڑی ایر لائن ہے جو زیادہ تر امریکہ، کینڈا اور جزائر کیریبین کے درمیان سیاحوں کے لئے چلتی ہے اور بہت منافع بخش کاروبار کرتی ہے بند پڑی ہے اور لاکھوں ڈالرز روزانہ کا نقصان اٹھا رہی ہے اس ہوائی کمپنی سے 6000 ملازمین کو فارغ کر دیا گیا، یہی حال امریکہ کی سب سے بڑی ایر لائن یونائٹڈ ایر لائن کا ہے۔ برٹش ایئرویز جس کا شمار دنیا کی بڑی ایر لائنز میں ہوتا ہے اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے،

تقریباً 36000 ہزار ملازمین کو بغیر تنخواہ کے گھر بٹھا دیا گیا ہے جب ایر لائن کے حالات بہتر ہوں گے تو واپس بلا لیا جائے گا بغیر تنخواہ کے غیر معینہ مدت کے لئے ملازمین تو سڑک پر آ جایں گے۔

مغرب میں ہر طرف خوشحالی کی وجہ سے سیاحت اپنے عروج پر ہوتی ہے صرف اسپین، اٹلی، فرانس اور برطانیہ مل کر اربوں ڈالرز کماتے ہیں اس وقت یورپ مکمل لاک ڈاؤن ہے تو ہوٹلز اور موٹلز بھی خالی پڑے ہیں اور ہزاروں ملازمین بے روزگار ہیں۔ یہی حال یورپ میں ٹرین سروس اور دیگر ٹرانسپورٹ کا ہے۔

بے روزگاری کے حوالے سے اس وقت یورپ اور شمالی امریکہ میں جو انڈسٹری نسبتاً محفوظ ہے وہ آی ٹی انڈسٹری ہے جن کے دفاتر تو بند ہیں لیکن ملازمین گھروں میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں اور ان کی نوکریاں بھی

فی الحال محفوظ ہیں۔ ان میں دیوزاد ٹیک کمپنیاں، مایکروسافت، ایپل، گوگل، فیس بک، ایمازون اور دیگر شامل ہیں کھربوں ڈالرز مالیت کی یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اتنی دولت رکھتی ہیں کہ مہینوں تک اپنے ملازمین کو گھر بیٹھے کھلا سکتی ہیں۔

اگر ہم پاکستان میں کورونا وائرس سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا ایک جایزھ لیں تو بے روزگاری کا عنصر سب سے پہلے سامنے آتا ہے دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 12.3 ملین سے لے کر 18.53 ملین افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ حکومت کو اس وقت سب سے بڑا معاشی اور اقتصادی خطرہ ان اوور سیز پاکستانیوں سے ہے جن کی ایک بڑی تعداد عرب ممالک میں کام کرتی ہے۔ خلیج ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق یہ توقع کی جا رہی تھی کہ سال 20۔ 2019 میں 80 لاکھ پاکستانی 23 ارب ڈالرز کی خطیر رقم اپنے ملک میں بھیجیں گے لیکن اب یہ ٹارگٹ پورا ہوتا نہایت ہی مشکل نظر آ رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں سمندر پار پاکستانیوں کو عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے نکال دیا گیا ہے یا نکالا جا رہا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ چند سالوں میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاے گی اس کی مثال ہمارے سامنے 9۔ 2008 کا امریکہ کا معاشی اور اقتصادی بحران ہے جس نے اس بدترین معاشی بحران پر کچھ ہی عرصے میں قابو پا کر اپنی مالی پوزیشن پھر سے مستحکم کر لی،

سوال تو ان غریب، پس ماندہ، اور تیری سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ہے۔ وسائل سے محروم آی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں میں جکڑی ہوئی یہ اقوام کب دوبارہ سے اپنی معیشت بحال کرنے میں کامیاب ہوں گی فی الوقت اس کی پیش گوئی کرنا نہایت ہی مشکل ہے

Facebook Comments HS