وزیر اعلیٰ بلوچستان اور سندھ کے “منشٹر صاحب”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں سندھ کی شہری سیاست میں ایک بھونچال تھا۔ سب ہی کچھ اتھل پتھل ہوگیا تھا۔ جون 1992، میں آپریشن کلین اپ شروع ہونے سے پہلے ہی بھائی لندن چلے گئے تھے۔ ان ہی ایام بے لطف میں چیف منسٹر ہاؤس سے فون آیا تو بلا کم و کاست چیف سیکرٹری صاحب نے ہمیں آرڈر دیا کہ کراچی کے دو عدد ایم پی اے صاحبان آئیں گے۔ پروٹوکول پول سے دو عدد کاریں ان کے حوالے کردیں۔ ہرماہ تین سو لیٹر پٹرول بھی دینا ہوگا۔ ڈرائیور کی معذرت کر لینا۔ ہم ڈائریکٹر پروٹوکول سندھ تھے۔

پہلا ایم پی اے جو آیا وہ شفیع قصائی تھا ڈبلیو گیارہ کی منی بس کا روٹ بھی چلاتا تھا۔ نئی کراچی سے بارہ سو ووٹ لے کر ممبر بنا تھا۔ بوسکی کے کرتے دو تھے، شلوارین تین اور قراقلی ٹوپی ایک، جس کو دھلوانے کی زحمت ایم پی اے بننے کے بعد بھی نہ کی تھی۔ لیاقت آباد سب ڈویژن کے ایس ڈی ایم سرور خان نے مسجد سکینہ والے دنگے میں بند کیا تھا۔ ہم نے ان کی جگہ چارج سنبھال کر حالات کنٹرول کیے اور اسے علاقہ معززین کے اصرار پر آئندہ اچھے چال چلن کی عدالتی یقین دہانی پر رہاکر دیا۔ ممنون تھا۔ ہرے رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ والی کار چپ چاپ لی اور نورجہاں کا فلم ”لاکھوں میں ایک“ کا مشہور گیت “بڑی مشکل سے ہوا تیرا میرا ساتھ پیا” گاتا ہوا سرکار کے پائے لاگوں کہتا کہتا یہ جا وہ جا۔ یہ بات ہمیں پروٹوکول افسر نور الامین نے بتائی تھی جس نے پٹرول ڈلوایا اور گاڑی اس کے حوالے کی۔

دوسرے وزیر کا نام نہیں بتائیں گے۔ وہ بھی ڈسٹرکٹ سینٹرل ہی کے تھے۔ آپریشن کلین اپ کے بعد جب ایم کیو ایم نے اسمبلیوں سے استعفی دے دیا تو ضمنی انتخابات ہوئے۔ حضرت ایم کیو ایم حقیقی کے ٹکٹ پر نو سو ووٹ لے کر وزیر بنے تھے۔

نو سو ووٹ کی کراچی میں حقیقت ہی کیا ہے۔ یہ جو یوٹیوب پر الٹے سیدھے چینلز بنے ہیں۔ ان میں کسی نے پانامہ کے دنوں میں نواز شریف کی دولت اور امبانی کی دولت کا موازنہ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ دونوں میں کون زیادہ امیر ہے امبانی کہ شریف؟ ان کا کوئی غیر معروف مسخرہ کہنے لگا ”جتنی نواج شریف کے پاس دولت ہے اتنے کاؤڑیے (دولت) تو ہماری نیتا بین (مسز مکیش امبانی) برا میں لے کر پھرتی ہے“۔ نو سو ووٹ تو الیکشن کمیشن والے ان بچوکڑوں کو پولنگ شروع ہونے سے دو گھنٹے پہلے صحیح جگہ مہر لگانے کی مشق میں ضائع کر دیتے تھے۔

سننے میں آ تا تھا کہ اس نئے منشٹر کے بھائیوں کا رنگ کے سامان کا چھوٹا موٹا کیبن تھا۔ حضرت بھی باہر کُوچی [برش] لے کر بیٹھتے تھے۔ رنگ کا کام ملتا تو دو سو روپے کی دہاڑی پر چل پڑتے تھے۔ وزیر تو دور کی بات ہے کسی طور معتبر نہیں لگتے تھے۔ تاملوں جیسی آبنوسی رنگت، عاملوں جیسی جہالت۔ حریص دہانہ، چوہے کی طرح مٹکتی بے اعتبار آنکھیں۔ دبلے، لمبے، تس پر مزاج ایسا کہ لالو کھیت والوں کے محاورے میں سسری کے کہیں کھلے بندھے ہی نہیں تھے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ایک عام آدمی کی یوں لاٹری نکل آئے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ایک کھلی کچہری میں اشفاق احمد نامی کسی صاحب نے نوکری مانگی تو انہوں نے ایک سوال پوچھا کہ بتاؤ پڑھے لکھے ہو۔ اس نے کہا ہاں بی اے سیکنڈ ڈویژن۔ کہا اس کو ویت نام میں سفیر لگا دو۔ یہ پی پی کی حکومت کے ابتدائی دن تھے۔

گورنر ہاؤس سے حلف برداری کی تقریب کے بعد وہ چیف منسٹر ہاؤس چلے گئے. اور وہاں سے وہ رکشے میں بیٹھ کر سیکرٹریٹ آئے تھے۔ وہاں جھوٹ بولا تھا کہ بھائی کی گاڑی ہے۔ ورنہ سندھی افسران بہت رواجی ہوتے ہیں۔ سیکرٹریٹ تو ڈراپ کرا ہی دیتے۔ سیکورٹی نے تنگ کیا تو دل ہارگئے مگر ہمارا عملہ ٹھنڈا کرکے چاؤ سے اندر لے آیا۔ بہل گئے۔

پانی پی کرکہنے لگے ”چیف منشٹر آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ کہہ رہے تھے کہ“ سندھ سرکار میں میرے بعد سب سے اچھی انگلش دیوان صاحب بولتے ہیں۔ میں نے بھی بھائی میاں کہہ دیا ”آپ کے ڈر کے مارے جان بوجھ کر غلطیاں کرتے ہوں گے“۔ کہنے لگے ”قسم سے مہاجر مذاق بہت ٹوپ کا کرتے ہیں۔ انور مقصود ملے گا تو کہوں گا۔ کبھی کبھار جب معین اختر وائڑے پن (غیر ذمہ دار رویے ) پر اتر آئے تو لوز ٹاک میں منشٹر صاحب کو چانس دو۔ ون۔ نے بولا ہے میری طرف سے دیوان کو کہو گے تو نئی ہونڈا اکارڈ جھنڈے اور ایک ہزار ماہانہ لیٹر کی پٹرول کتاب کے ساتھ دے دیں گے“۔ اس کا مطلب تھا کہ ون۔ نے یعنی مظفر حسین شاہ صاحب نے ایسا کچھ نہیں بولا تھا۔ حضرت مارشل لاء کے فوجی افسروں کی طرح انگریز کی سن 1780 سے جلوہ افروز بیوروکریسی جو ایک Institution of Continuity ہے۔ غیر منقسم ہندوستان کا ہر ادارہ اور فرقہ جس نے بنایا ہے یہ اسی کو اپنا ماموں بنانے کی بھونڈی کوشش کررہے تھے

پرانی سن اسی کے ماڈل کی ہونڈا اکارڈ دیکھ کر ناخوش ہوئے۔ ہم نے جب بتایا کہ بھائی عامر خان (ایم کیو ایم حقیقی) کو ہم نے صبح ہی بتادیا تھا کہ یہ والی گاڑی دے رہے ہیں تو ون۔ نے اوکے کر دیا تھا۔ نئی کاریں موجود نہیں۔ آخری اصرار جھنڈے پر تھا۔ بازار سے خریدنے پر راضی نہ تھے سو ہم نے نثار میمن صاحب (ماروی میمن کے والد) کو لینے جانے والی کار پر سے اتار کر دے دیا۔ وہ بھی طاقت کی نئی رام لیلا میں ان جیسے ہی پل دو پل کے شاعر تھے۔ پینٹر بابو خوش ہو گئے۔ دبے لفظوں میں اظہار بھی کیا کہ ”ہم میمنوں کے دل میں اللہ کا ڈر ہے تو اتنا خیال رکھتے ہیں ورنہ یہ سسرے سندھی افسر تو ہماری ہندو جتنی بھی عجت نہیں کرتے۔ “

اس واردات کے تین دن بعد وہ شبدھ گھڑی بھی آگئی کہ انہیں پروٹوکول کی پدماوتی بن کر جھومر ڈالنا تھا۔ کسی دوسرے صوبے کا چیف منسٹر جب نجی دورے پر آتا ہے تو پروٹوکول کا عملہ ایک وزیر سمیت انہیں خوش آمدید کہنے لیے ایر پورٹ پر موجود ہوتا ہے۔ سندھ سرکار کا یہ پروٹوکول ہے۔

اطلاع آئی کہ بلوچستان کے چیف منسٹر نواب ذوالفقار مگسی نجی دورے پر آج شام تشریف لارہے ہیں۔ مرتبہ لسٹ کے حساب سے آج ہمارے پینٹر بابو کی باری تھی۔ منسٹر صاحب کو بتا دیا تو وعدہ کرلیا کہ وہ ٹھیک شام سوا سات بجے ایرپورٹ پرپہنچ جائیں گے۔ موبائیل فونز کا زمانہ نہ تھا۔ ساڑھے چھ بجے پیجر پر پروگرام کا پوچھا تو جواب ندارد۔ کچھ دیر بعد وائرلیس پر رابطہ کیا تو بہت خجل لہجے میں حفاظت پر مامور پولیس موبائیل انچارج نے بتایا کہ منسٹر صاحب کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے اور وہ آرام میں ہیں۔

پروٹوکول افسر سمجھ گیا کہ کسی محفل میں سر شام مفت کی ملی ہے تو پینے بیٹھ گئے ہیں۔ اب عالم یہ ہوگا کہ “رکھتے ہیں کہیں پاؤں تو پڑتا ہے کہیں پاؤں”۔

ایئر پورٹ کے ریستوراں اسکائی روم سے ایک ویٹر ڈھونڈا گیا۔ ناک نقشے کا درست۔ شکل سے معتبر اور برتاؤ کا مہذب۔ اسے وزیر کے روپ میں پیش کیا گیا۔ عجلت سے باہر نکلتے ہوئے مگسی صاحب نے رسماً ایک دو جملے کہے اور چل دیے۔ بلوچ سردار کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ کراچی کے ایلے میلے منسٹر سے رک کر نیاز مندی کرے۔

سی ایم صاحب کی اگلی صبح آٹھ بجے کوئٹہ واپس روانگی تھی۔ اسی ویٹر کو پانچ سو روپے دیے گئے کہ یہیں کہیں سو جائے۔ آنے جانے کے چکر میں خوار نہ ہو۔ صاف ستھرے کپڑے پہن واسکٹ چڑھا کر جیل شیل سرمہ وغیرہ انڈیل کر صبح سی آف کے وقت موجود ہو۔ رات کے کسی پچھلے پہر اس پینٹر بابو کو ہوش آگیا اور وہ وقت مقررہ پر نواب مگسی صاحب کو بنفس نفیس سی آف کرنے تشریف لے آئے۔ سی ایم صاحب کو کہنے لگے کہ ان کے چچا سسر کا انتقال ہوگیا لہذا وہ آنے سے قاصر تھے۔ یہ سن کر سی ایم صاحب نے فاتحہ کے لیے ہاتھ بلند کر دیے۔ فیک چچا سسر کی جعلی موت پر ایک فاتحہ ہوئی جس کے دوران پروٹوکول افسر دبے دبے کہتا رہا کہ سالے جھوٹے ٹپوڑی نے سرکار کے پانچ سو روپے ضائع کرا دیے۔ پی کے اوندھا پڑا ہونے کی فاتحہ ہو رہی ہے۔

مگسی صاحب البتہ تیندوے کی طرح الرٹ تھے۔ ہمیں انگریزی میں کہا ہم ساتھ جہاز تک چلیں۔ باقی عملہ پیچھے رہ گیا تو کہنے لگے

In Sindh you change ministers rather quickly۔ But the one in night was better suited for the honor۔

آپ سندھ میں وزیر بہت جلدی جلدی تبدیل کرتے ہو۔ وہ جو رات والے صاحب تھے وہ اس منصب کے زیادہ اہل تھے۔
ہم نے ایک معزز دوست کے ذریعے جن کا ہم دونوں سے ملنا جلنا تھا اصل واردات ان تک پہنچا دی۔ سات برس بعد ہم نے مگسی صاحب کو ایک محفل میں یہ واقعہ سنایا تو کہنے لگے ”میرا پختہ یقین ہے کہ الہ دین ایک بیورکریٹ تھا اور اس کے پاس کوئی چراغ وراغ نہیں تھا بس سارا کام دماغ کے جن سے لیتا تھا۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 22 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *