کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کو دوسرے انسان کی قدر تب آتی ہے جب وہ اسے میسر نہیں رہتا۔ یہ بات چونکہ انتہائی گہری اور عمیق ہے اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو چاچا ابراہیم لودھی کی زندگی کا جائزہ لینا پڑے گا۔

چاچا ہمارے علاقے کے مشہور حجام تھے جن کی حیاتی بھوتوں کے بال کاٹ کر انہیں انسان بنانے میں گزری۔ ان کا کہنا تھا، ”دنیا میں اللّہ انسان پیدا کرتا ہے جب کہ اس کے بعد اس کو بندے کا پتر استاد اور نائی بناتا ہے“۔ اس دور میں ہم ان کی اس بات کو ایک لطیفہ سمجھ کر قہقہے لگایا کرتے تھے جب کہ آج کل لاک ڈاؤن کے دنوں میں چاچا کا یہ قول سچ معلوم ہورہا ہے۔ ہمارے قہقہوں کے جواب میں وہ کہا کرتے تھے، ”بیٹا تم لوگوں کو ہماری قدر تب آنی ہے جب ہمارے تلواروں کو زنگ لگ جانا ہے“۔

وہ ہمیشہ اپنے استرے کو تلوار سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے جب یہ ان کے بزرگ ابراہیم لودھی کے ہاتھ میں تھا تب یہ تلوار تھی اور آج ان کے ہاتھ تک پہنچتے پہنچتے استرا بن گیا ہے۔ ہم سب افسوس کرتے، چاچا آپ کے خاندان نے بر صغیر پاک و ہند میں بہت زوال دیکھا ہے۔ جب کہ میرے دوست فراز کا خیال تھا کہ چاچا ابراہیم اصلی لودھی نہیں ہیں۔ چونکہ ان کو تاریخ اور فلسفہ سے گہرا شغف ہے اس لئے انہوں نے بڑے ہو کر خود ہی اپنے نام کے ساتھ لودھی لگا لیا ہے۔

چاچا کو اس بات پر سخت غصہ آتا اور وہ استرا لہرا کر فراز کو کہتے کہ میں نے تمہارے ختنے نہ کئیے ہوتے تو آج میں تمہاری ٹنڈ کر دیتا۔ ہم سب دوستوں کا بھی یہی خیال تھا کہ جب چاچا کو مغل اور غزنوی تک بننے کی آزادی حاصل تھی تو وہ جھوٹے لودھی کیوں بنتے؟ جب کہ انہیں علم بھی ہے کہ پانی پت کی جنگ میں ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ جوانوں اور تین سو ہاتھیوں ں پر مشتمل فوج کو مغل بادشاہ بابر نے اپنی دس ہزار جنگجوؤں کے ساتھ بری طرح شکست سے دو چار کیا تھا۔

اسی طرح جو لوگ اپنے ہنر میں یکتا ہوتے ہیں، اپنے شعبے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں یا پھر اپنی راہبری سے عالم پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں ان کی کمی بھی ان کے جانے کے بعد شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو یہاں پھر چاچا ابراہیم لودھی کی زندگی کے چند مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالنا نہایت ضروری ہے۔ چاچا کو اپنے کام سے اتنی محبت تھی کہ وہ فخر سے بتایا کرتے تھے کہ جب وہ پیدائش کے بعد ہاتھ ہلانے کے قابل ہوئے تو سب سے پہلے انہوں نے اپنے والد کے بالوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

اس کے بعد جب تک وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہوئے ان کا محبوب مشغلہ والدین کے بالوں کے ساتھ کھیلنا ہوتا تھا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کے والد اور والدہ شاید اسی غم کی وجہ سے ان کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ آج بھی میں جب کسی بچے کو اپنے والدین کے بال نوچتے دیکھتا ہوں تو مجھے اس میں چاچا لودھی کا عکس نظر آتا ہے۔ خیر چاچا نے اس کے بعد اپنی ساری زندگی بالوں کی ساتھ کھیلتے گزاری اور بالآخر ایک دن وہ رشید پہلوان کی حجامت بنا رہے تھے کہ ان کے ہاتھ سن ہوگئے۔ یہ چاچا کی زندگی کی آخری حجامت تھی جو ادھوری رہی۔ یوں پہلوان ہمارے گاؤں کی تاریخ میں قومی مجرم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سارا قصور اس کا تھا کیونکہ چاچا بوڑھے ہو چکے تھے اور پہلوان کے بال انتہائی سخت اور ڈھیٹ قسم کے تھے۔ بے شک، خدائے بے نیاز نے بھی کیسے کیسے بالوں والے جانور بنائے ہیں۔

اپنے شعبے اور نظریے سے محبت کرنے والے کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ بات کہیں دور کی بھی ہو وہ اسے اپنے ہنر سے جوڑ لیتا ہے۔ جیسے ہمارے وزیر اعظم کوئی بھی بات کر رہے ہوں درمیان میں چندے کی اپیل ضرور کرتے ہیں۔ اور اپیل کیوں نہ کریں جب کہ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی ان کی کامیابی کی وہ مثالیں ہیں جن کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ اسی طرح چاچا لودھی کا کہنا تھا کہ بالوں کا ذکر علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے۔ وہ مثال دیتے تھے کہ علامہ نے اپنی کتاب ”بال“ جبر آئیل میں، ”پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے“، میں واضح طور پر فرما دیا ہے کہ شاہین کے بچے کے جب تک بال نہیں آتے اس میں اور الو کے پٹھے میں کوئی فرق نہیں۔

چاچا لودھی کو شاید اسی لئے صرف بالوں والوں سے محبت تھی جب کہ گنجے انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا جس شخص سے قدرت اتنی ناراض ہے کہ اس سے اس کے سر کے بال تک چھین لئے ہیں تو بھلا میں اس سے کیوں محبت کرتا پھروں۔ ان کی اس بات کے جواب میں فراز ہمیشہ اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتا، ”چاچا قدرت آپ کو جنگ کے میدان سے اٹھا کر نائی کی دکان پر لے آئی ہے لیکن ہم تب بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔ اس لئے قدرت کے پھیر سے توبہ کیا کریں اور ایسے مت کہا کریں“۔ لیکن انسان قدرت کے پھیر کو اتنی آسانی سے کیسے سمجھ سکتا ہے۔ آج بھی چاچا لودھی کے چاہنے والے گنجوں سے سخت نفرت کرتے ہیں چاہے وہ کسی غیر ثابت شدہ جرم کی پاداش میں جیل بھی کیوں نہ کاٹ چکے ہوں۔

آج کل کے دورابتلا میں چاچے لودھی جیسے حجاموں، دھوبیوں، مالیوں، ڈرائیوروں، ریستورانوں کے بیروں اور باورچیوں کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے جن کو عام زندگی میں بہت سے لوگ اہم خیال نہیں کرتے۔ زندگی ان ہنر مندوں کے بغیر کتنی سونی، بے رونق اور نامکمل ہے۔ با وجود اس کے کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں ہمارے چند دوستوں کے بال ان کی بیگمات نے انتہائی مہارت سے کاٹے ہیں لیکن یہ نئی بات اس لئے نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی ان کی بیگمات ان کی حجامت کرتی رہتی تھیں اور کبھی کبھار الٹے استرے سے کھڑے کھڑے حجامت بھی کردیتی تھیں، آج تقریباً ہر ذی شعور شخص کو اپنی زندگی میں ان ہنر مندوں کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ انہی انسانوں کی کمی جنہیں جاہل معاشرہ حقیر اور کمی کمین خیال کرتا ہے۔ سچ ہے، انسان بھی کتنا عجیب ہے کہ اسے دوسرے انسان کی قدر تب آتی ہے جب وہ اسے میسر نہیں رہتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply