ہر کلین شیو شخص لبرل نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں ایک بڑی کنفیوژن نظریاتی تشخص اور پہچان کی بھی پائی جاتی ہے. جیسے ہم ہر داڑھی والے کو مولوی، مولانا، قاری، یا حافظ سمجھتے ہیں …. اور وہ جس کی داڑھی نہیں اور جینز میں ملبوس کانوں میں ہیڈ فون لگائے انگریزی موسیقی سن رہا ہے، وہ ہماری نظر میں لبرل ہوتا ہے ……یا کسی علمی گفتگو میں بھی جو شخص مذہبی رائے سے اتفاق نہیں کرتا وہ بھی لبرل کہلایا جاتا ہے ……

یہ بہت حیران کن بات ہے ….اور اس کی بنیادی وجہ نظریات سے لاعلمی کے سوا اور کچھ نہیں… یہ کس نے تعریف لکھی ہے، کہ ہر وہ شخص جو مذہب پسند نہیں وہ لبرل ہے؟ کچھ لوگ تو بے دھڑک سوشلسٹ یا کمیونسٹ حضرات کو بھی لبرل کہہ دیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ یہ دو آئیڈیالوجیز گزشتہ صدی میں باہم مدمقابل رہی ہیں….. کچھ لوگ ملوک، آمر، ڈکٹیٹرز کو بھی لبرل بادشاہ یا لبرل حکمران کہنے سے نہیں چوکتے، ان کے خیال میں سعودی عرب کا ولی عہد لبرل ہے اور سعودی عرب کو بھی لبرل ملک بنا رہا ہے …. بابا یہ کیسے کہہ سکتے ہو آپ؟

لبرل ازم ایک سیاسی نظریہ ہے جو زندگی کے تمام معاملات میں شخصی آزادی کو مرکزی اور اول اہمیت دیتا ہے، اس نظریہ میں شخصی آزادیوں کا مقام ہر سیاسی تصور سے بلند تر ہے….اب ایک بادشاہ جس نے لوگوں سے ان کی سیاسی آزادی چھین لی ہے وہ کیسے لبرل ہو سکتا ہے؟ اسے ہم روایت پسند یا قدامت پرست حکمران تو کہہ سکتے ہیں مگر لبرل نہیں…… چین کے حکمران مذہبی نہیں تو کیا وہ لبرل ہیں؟ چین کی معیشت کیپٹلسٹ ہے اور سیاست پر کمیونسٹ پارٹی کا اقتدار ہے- ….. اسی طرح مغرب میں زیادہ تر سیاسی و سماجی تقسیم مذہبیوں اور غیر مذہبیوں کی نہیں بلکہ لبرلز اور روایت پسندوں کی ہے …..

خدارا نظریات اور تشخص کی کنفیوژن نہ پیدا کیا کریں …… ایک دوست نے ایک تصویر لگائی جس میں کچھ لوگ (بشمول سکارف میں ملبوس خواتین ) بقول ان کے مذہبی کتابیں جلا رہی ہیں …. انہوں نے لکھا لبرل شدت پسندی کا نمونہ …..یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ لبرلز ہیں؟ سکارف سے تو ہم انہیں مؤمن و مسلم بہنیں بھی کہہ سکتے ہیں …… مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے، ایک آزادی پسند سماج کی علامت ہی یہی ہے کہ وہاں مذہبی آزادی ہوتی ہے، کسی ایک مذہب کا تعصب نہیں بلکہ تمام مذاہب کے درمیان رواداری اور برداشت پائی جاتی ہے اور اس رواداری و برداشت کا دائرہ ان لوگوں تک بھی پھیلا ہوتا ہے جو کسی بھی مذہب کے پیروکار نہیں ہوتے… تو کیا مذہبی کتابوں کو جلا کر اپنے ذہن و شعور کی گھٹن کو ظاہر کرنے والے لبرلز ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں …….

ضروری ہے کہ پہلے نظریات اور عملی مباحث کا تعصب و ہیجان سے ماورا ہو کر مطالعہ کیا جائے، پھر آپ جو بھی اور جس پر بھی تنقید کریں گے وہ تعمیری بھی ہو گی اور اخلاقیات پر مبنی بھی، دوسری صورت میں علمی بد دیانتی اور لاعلمی پھیلے گی …. جو ایک معاشرے کے لئے شرپسندی کے سوا کچھ بھی نہیں –

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 163 posts and counting.See all posts by zeeshan

Leave a Reply