مولوی محمد باقر سے میر شکیل الرحمٰن تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پتا نہیں اس بوڑھے اور بیمار آدمی کو کیا پڑی ہے کہ اسے تند ہواؤں کے مقابل چراغ جلانے کا جنون ہے۔ حالاں کہ وہ میر خلیل الرحمٰن کا بیٹا ہے، جس نے اپنی پرخلوص جدوجہد اور شبانہ روز محنت کے مہ و سال گزارنے کے بعد اس ملک کا سب سے بڑی میڈیا ہاوس کھڑا کیا، اور جاتے جاتے اسے اپنے بیٹے کو سونپ دیا۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ ناز و نعم میں پلا بیٹا (میر شکیل الرحمٰن) دار کے بجائے کسی دربار کا رُخ کرتا۔

اپنے اخبارات اور ٹیلی وژن چینل کے لئے تھوک کے بھاو بکتے کذب بیانی کے ماہرین اور بلیک میلنگ کے فاتحین کا انتخاب کرتا اور ان کے ہاتھ میں وہ بیانیہ پکڑا دیتا، جو اپنی بد بوداری اور غلاظت کے باوجود بھی کبھی قابل اعتراض نہیں ٹھہرا۔

وہ کذب بیانی کے اس فوج ظفر موج کی پیٹھ تھپتھپاتا اور وہ لوگ اپنی پٹاریوں سے حرص و ہوس کے کریہہ رنگوں سے مزئین ناگ بر آمد کرتے رہتے جو بے بنیاد الزامات اور دشنام و بہتان کی زہر افشانی میں اپنی مثال آپ ہیں۔

اس ”خدمت“ سے میر شکیل کا ادارہ دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی راہ لیتا۔ اشتہارات کی بارش ہوتی، در پیش مسائل سیکنڈوں میں حل ہوتے، بزنس کو وسعت ملتی اور اپنی شامیں اہل سطوت و دربار کے ساتھ گزارتے لیکن میر شکیل الرحمٰن نے ایک بزنس مین کی بجائے ایک حساس شاعر کے مانند حقیقت پسندی کے بجائے تصور پسندی کے راستے کا انتخاب کیا اور یہاں سے وہ نیم تاریک راہوں اور دار کی خشک ٹہنی کی جانب چل پڑا۔

اب روز روز وہ پولیس کے نرغے میں عدالتی راہ داریوں میں خوار ہوتا اور شام کو ”اپنے گھر“ یعنی سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا ہے۔ جرم یہ ٹھہرا کہ آج سے چونتیس سال پہلے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔
؎ تجھ کو کتنے کا لہو چاہیے اے ارض وطن

کہیں پڑھا تھا، اُردو زبان کے پہلے صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر (دہلی اردو اخبار ) کو 1857ء کی جنگ آزادی کی نا کامی کے بعد دیگر حریت پسندوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور چند دن بعد فوجی عدالت نے انھیں موت کی سزا سنا دی۔ سولہ ستمبر اٹھارہ سو ستاون کو جب انہیں دہلی دروازے کے باہر توپ کے گولے سے اُڑانے کے لئے لایا جا رہا تھا تو ان کا ہونہار اور کم عمر بیٹا (مولانا محمد حسین آزاد ) بھیس بدل کر قریب جا پہنچا۔

زنجیروں میں جکڑے مولوی محمد باقر اور ان کے بیٹے کی آنکھیں چار ہوئیں تو والد نے دور سے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کا اشارہ کیا۔ نہیں معلوم کہ یہ دعا مولوی محمد باقر کے لئے تھی یا اُردو صحافت کے لئے لیکن اس دعا کو بہرحال ایک شاندار قبولیت ملی۔ بر صغیر کی صحافتی تاریخ کے پہلے شہید مولوی محمد باقر آج بھی برصغیر کی آزاد صحافت اور جرات مند اظہار رائے کا ایک دمکتا ہوا استعارہ ہیں اور اگر وہ دعا صحافت کے شان دار مستقبل کے لئے مانگی گئی تھی تو بھی قبولیت سے محروم نہیں ہوئی، کیوں کہ ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس صحافت نے باوجود کچھ کم زوریوں اور نادانیوں کے سچ بولنے اور ڈٹ جانے کی روایت کو ایسی آسانی کے ساتھ ترک نہیں کیا۔

طاقت کے در و بام سے جبر کے ٹپکتے ہوئے جس خونی منظر نامے میں کل مولوی محمد باقر ایک دل رُبا دلیری کے ساتھ ڈٹا نظر آیا تھا، عین اسی سے ملتے جلتے حالات و واقعات میں میر شکیل نے بھی اس دلیر روایت کا علم گرنے نہیں دیا۔ یہی ہماری صحافت ہے اور یہی اس کا مزاج اور تاریخ۔ رہی صحافت کی آڑ میں وارداتی گروہوں کا شرم ناک کردار اور مشکوک چال چلن، تو اسے صحافت تسلیم کب کیا گیا ہے،، جو اس پر بات بھی کی جائے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *