کووڈ 19 کے دنوں کے لیے ریڈ انڈین فلسفے اور نصیحت سے زندگی کے لیے سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے مضمون میں ہم کووڈ۔ 19 کے دنوں کے لیے ریڈ انڈین فلسفے اور نصیحت سے زندگی کے لیے سبق سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ دنیا بہت بڑی ہے اور ہر معاشرے اور تہذیب کا سوچنے کا اپنا انداز ہے۔ کالا سفید، صحیح غلط کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بہتر ہے کہ مختلف افراد اور زندگی کے طور طریقوں کو سمجھے بغیر ان کو ملیا میٹ کرنے کے بجائے ان سے کچھ سیکھا جائے۔ دنیا میں اس وقت کووڈ۔ 19 کی وبا کا خوف پھیلا ہوا ہے جو کہ ریڈ انڈین قبائل کے لیے پی ٹی ایس ڈی کا باعث ہے جن کے آبا و اجداد کو جان بوجھ کر ایسے کمبل دیے گئے تھے جن سے ان میں چیچک اور خسرہ جیسی وبائیں پھیل گئی تھیں جن سے متعدد اموات ہوئیں۔ جدید امریکی معاشرہ انفرادی مفادات کے گرد گھومتا ہے جس کا زور خود غرضی اور کیپٹلزم ہے جبکہ قدیم ریڈ انڈین قبائل کا نظام زندگی تاریخی طور پر مشترکہ رہا ہے۔

دنیا میں کبھی بھی سب کچھ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ہر روز اپنے ساتھ نئے سوال لاتا ہے جن کے لیے نئے راستے تلاش کرنے ہوتے ہیں۔ جنوری سے کورونا وائرس کی خبریں ملنا شروع ہوگئی تھیں۔ جنوری کی ٹوسٹ ماسٹر میٹنگ کے لیے میں نے اس پر ایک چھوٹا سا مضمون بھی لکھا تھا لیکن اس وقت وبا کے ماہرین کے علاوہ کسی کو اس طرح اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ ہم میں سے کسی نے بھی اپنی زندگی میں اس طرح وبا کا پھیلنا نہیں دیکھا تھا۔

گیارہ مارچ پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کووڈ۔ 19 کو عالمی وبا قرار دیا۔ 14 مارچ پر میرے گھر میں قدیرہ محمد اپنی ڈاکیومینٹری دکھانے والی تھی جس کا پروگرام مہینوں پہلے سے طے تھا۔ 13 مارچ کو میں نے کچھ دوستوں کو فون ملایا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ کیا ہمیں یہ پروگرام کینسل کردینا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ اس میں بہت زیادہ لوگ نہیں آرہے اور ابھی اوکلاہوما میں صرف ایک کیس معلوم ہوا ہے جو کہ ٹلسا میں ہے، ہمیں اس پروگرام کو کینسل نہیں کرنا چاہیے۔ قدیرہ ایک سیاہ فام مسلمان نوجوان خاتون ہے جس نے یہ ڈاکیومنٹری اپنی تھیسس کے طور پر بنائی تھی۔ جرمن زبان میں بنی ہوئی اس ڈاکیومنٹری کا نام ”ہماری آوازوں میں“ ہے جس میں اس نے جرمنی میں آئے ہوئے مہاجرین کی زندگیوں اور ان کے مسائل پر روشنی ڈالی۔

15 مارچ سے لے کر آج 15 اپریل تک اوکلاہوما میں کورونا وائرس کے کیس دو ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں۔ اوکلاہوما ایک سرخ ریاست ہے جس کے زیادہ تر افراد نے ٹرمپ کو ووٹ ڈالے۔ اس ریاست کے کٹر عیسائی مہم جو مُصر ہیں کہ ہر طرح کا لاک ڈاؤن ختم کرکے معیشت کو بحال کیا جائے جو کہ اس وبا کے زمانے میں ایک خطرناک راستہ ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی نا اہلیت کی پردہ پوشی کرنے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی فنڈنگ کاٹنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

سارے ملک میں ریڈ انڈین آبادی کی زیادہ شرح جن ریاستوں میں ہے، اوکلاہوما ان میں شامل ہے جہاں یہ شرح 4 فیصد سے بھی کم ہے۔ مارچ میں میں باسٹن جانے والی تھی لیکن کانفرنس کینسل کرکے آن لائن کردی گئی جس کو ہم سب نے اپنے گھروں سے اٹینڈ کیا۔ پچھلے دس سال سے نارمن کے ہسپتال میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ کے طور پر کام کرنے کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ہمارا کلینک اس ہفتے میں تین دن کھلا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے میری تین مہینے کی ویٹنگ لسٹ تھی۔

ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کے مطابق ہر ہفتے میں سے یہ دو دن ہماری چھٹیوں میں سے کاٹے جائیں گے جو کہ یوں بھی سال میں تین ہفتے ہی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اگلے سال کی چھٹیاں استعمال کرنا شروع کریں گے۔ اگر حالات جلد نارمل نہ ہوئے تو یہ دو دن تنخواہ میں سے کٹنا شروع ہو جائیں گے۔ پچھلے ہفتے مجھے کچھ ٹیلی میڈیسن کی جاب آفرز موصول ہوئیں۔ نارمل حالات میں ہسپتال اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ کوئی ڈاکٹر ایک ساتھ کسی اور بھی ہسپتال کے لیے کام کرے لیکن یہ ایک غیر متوقع صورت حال ہے جس میں اصول تبدیل ہوچکے ہیں۔ 22 ملین امریکی اپنی نوکریاں گنوا چکے ہیں اور تقریباً چار ملین کی ہیلتھ انشورنس چھن چکی ہے۔ کووڈ۔ 19 ہم سب کے لیے اس بھاگتی دوڑتی مصروف زندگی میں ٹھہر کر سوچنے کا ایک لمحہ ہے کہ زندگی میں کیا اہم ہے؟

میری فرانسس ریٹائر ہونے سے پہلے بچوں کی اسکول ٹیچر ہوتی تھیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ مجھے ایک کہانی سنائی جس کا نام فریڈرک دا ماؤس ہے اور اس کو لیو لیونی نے لکھا تھا۔ اس کہانی میں چوہوں کا ذکر ہے جو سردیوں کے لیے کھانا جمع کرنے میں مصروف تھے۔ سوائے فریڈرک کے جو دن میں خواب دیکھتا ہے اور شاعری کرتا ہے جس سے اس کے ساتھیوں کے دل اس وقت گرمائے جا سکیں جب ان کو اس کی سب سے شدید ضرورت ہو۔ جب اس سے کوئی پوچھے کہ فریڈرک تم کیا کام کر رہے ہو؟ تو وہ کہتا ہے کہ میں سورج کی کرنیں جمع کررہا ہوں۔ میرا اپنا بھی یہی ارادہ ہے کہ جب دنیا آہستہ ہو گئی تو اپنی زندگی کی سردیوں کے لیے خوراک کے بجائے سورج کی کرنیں جمع کی جائیں۔ کام اور پڑھائی تو ویسے بھی ساری زندگی کیا ہی ہے۔

خوف کبھی کبھار انسانوں کے رویے بدنما بنا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا کی وبا کے دوران کچھ لوگوں نے کھانے پینے اور بنیادی ضروریات کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔ انہوں نے ان لوگوں کا کچھ خیال نہیں کیا جو بوڑھے، اکیلے، کمزور، معذور یا غریب ہیں۔ میں نے خود ایسا کچھ نہیں کیا۔ دیسی ہونے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر گھر میں آٹے، چاول اور دالوں کی بوریاں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ میری بہن نے فون ملا کر کہا کہ باجی پانی جمع کریں۔ بارش کا پانی تو ہم پہلے سے ہی اپنے پودوں کے لیے جمع کرتے ہیں جس میں کلورین شامل نہیں ہوتی اس لیے مجھے اس کی بھی زیادہ فکر نہیں تھی۔

کچھ افراد یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ وائرس سے صرف بوڑھے اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے زیادہ خطرہ ہے اور وہ نوجوان اور صحت مند ہونے کی وجہ سے اگر اس وائرس سے بیمار بھی ہوگئے تو وہ شدید بیماری نہیں ہوگی۔ لیکن دنیا بھر سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں صحت مند اور نوجوان افراد بھی شامل ہیں اس لیے کسی کو بھی اس بیماری کو غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ اگر نوجوان اور صحت مند افراد خود بیمار نہ بھی پڑیں تو وہ اپنے اردگرد دیگر افراد میں یہ چھوت کی بیماری منتقل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ریڈ انڈین معاشرے میں بزرگوں کو نہایت عزت، احترام اور اہمیت حاصل ہے۔ یہ بزرگ ریڈ انڈین مذاہب، تہذیب، ثقافت اور رسومات میں مرکزی کردار رکھتے ہیں۔ چونکہ ریڈ انڈین معاشرے میں لکھنے پڑھنے کے بجائے معلومات سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتی تھیں، ان بزرگوں کو درسگاہ جیسی اہمیت حاصل تھی جو کہ آج بھی برقرار ہے۔ ریڈ انڈین قبائل نے کورونا کی وبا کے دوران اپنے بزرگوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply