اکبر: ابن انشا تاریخ پر ایک نگاہِ کج انداز ڈالتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکبر

آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ھوگا۔ راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ھوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوائے، مونچھیں ترشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں۔ اور کام بھی کرتا تھا۔

اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔ ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا۔ ولی عہد لوگ جونہی باپ کو عمر کی معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تو اسے قتل کرکے،یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کر کے تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔

اکبر کی حکمت عملی

اکبر میں تعصب بالکل نہ تھا۔ خصوصاًشادیوں کے معاملہ میں۔ کچھ ریاستیں فوجوں سے فتح کیں باقی راجاوں کی بیٹیوں کو اپنے حرم میں اور ان کے علاقوں‌کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ آج کل کے سیٹھ اور مل مالک جو ایسا کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔

دین الٰہی

دینیات کی طرف اکبر کا شغف دیکھتے ہوئے وزیر با تدبیر ابوالفضل نے اس کے ذاتی استعمال کے لیئے دین الٰہی ایجا کر دیا تھا، اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے پہلے خلیفہ کی ذمہ داریاں خود سنبھال لی تھیں۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنا اس مذہب کا بنیادی اصول تھا، مرید اکبر کے گرد جمع ہوتے اور کہتے تھے کہ اے ظل الٰہی تو ایسا دانا و فرزانہ ہےکہ تجھ کو تاحیات سربراہ مملکت یعنی بادشاہ وغیرہ رہنا چاھئے۔ اس کے نام کا وظیفہ پڑھتے تھے اور اس کی تعریف میں وقت بے وقت بیانات جاری کرتے رہتے۔ پرستش کی ایسی رسمیں آج کل بھی رائج ہیں لیکن ان کو دین الٰہی نہیں کہتے۔

ادب کی سرپرستی

انار کلی ایک کنیز تھی۔ جس کی وجہ سے شہزادہ سلیم کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ اکبر نے اسے دیوار میں چنوا دیا۔ ایک محلحت اس میں‌یہ بھی تھی کہ سید امتیاز علی تاج اپنا معرکۃ لارا ڈرامہ لکھ سکیں اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہو سکے۔ درباری شاعر نظیری نیشاپوری نے ایک بار کہا کہ میں نے لاکھ روپے کا ڈھیر کبھی نہیں دیکھا۔ بادشاہ نے ایک لاکھ روپے خزانے سے نکلوا کر ڈھیر لگوا دیا۔ جب نظیری اچھی طرح دیکھ چکا تو روپے واپس خزانے میں بھجوا دئے۔ نظیری دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا۔ اصل میں نظیری یہ حرکت خانخاناں کے ساتھ پہلے بھی کر چکا تھا۔ خانخاناں نے شاعر کی نیت بھانپ کر کہ دیا تھا کہ اچھا اب یہ ڈھیر تم اپنے گھر لے جاو۔ لیکن اکبر ایسا کچا آدمی نہیں تھا۔

پانی پت

پانی پت میں اس وقت تک صرف ایک لڑائی ہوئی تھی۔ پانی پت والوں کا اصرار تھا کہ ایک اور ہونی چاہئے۔ چناچہ اکبر نے پہلی فرصت میں بہیرو بنگاہ کے ساتھ ادھر کا رخ‌کیا۔ ادھر سے ہیموں بقال لشکر جرار لے کر آیا۔ اس کے ساتھ توپیں بھی تھیں اور ہاتھی بھی۔ ایک سے ایک سفید گھوڑا، گھمسان کا رن پڑا۔ ہیموں کی جمعیت زیادہ تھی۔ لیکن اکبری لشکر نے تابڑ توڑ حملے کر کے کھلبلی مچا دی۔ بعض ہمدردوں نے اس کے جدی وطن سے پیغام بھجھوایا کہ تم اور ہیموں دونوں‌یہاں تاشقند آو، صلح کرا ئے دیتے ہیں۔ لیکن اکبر نہ مانا۔ ہیموں ایک ہاتھی کے ہودے میں بیٹھا روپے آنے پائی کا حساب لکھ رہا تھا کہ اس لڑائی کا مال غنیمت فروخت کر کے کس کاروبار میں لگایا جائے۔

ناگہاں ایک تیر قضا کا پیغام لے کر اس کی آنکھ میں آن لگا اور وہ بےسدھ ہوکر گر گیا۔ بقال کو ہم تاریخ کا پہلا موشے دایان کہ سکتے ہیں۔

خانخاناں

خانخاناں کا خطاب ذوالفقار الدولہ تھا۔ اکبر کا سب سے کم عمر وزیر تھا۔ ذہین اور خوش تقریر۔ اکبر اسے بہت عزیز رکھنے لگا اور باہرکی ولائیتوں سے ہر طرح کے معاملت اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ ٹوڈرمل کو یہ بات پسند نہ آئی کیونکہ خانخاناں کا میلان مہاراجہ سام گڑھ کی بجائے فغفور چین کی طرف زیادہ تھا۔ آخر نورتنوں کے حلقے سے نکلوا کر دم لیا۔ کہتے ہیں کہ پانی پت کی دوسری لڑائی کے سلسلے میں بھی بادشاہ سے خانخاناں کے اختلافات ہو گئے تھے۔ اکبر ہیموں بقال سے صلح پر آمادہ تھا، خانخاناں اس کا مخالف تھا۔ خانخاناں کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ امراء بڑی بڑی جاگیروں پر قابض ہوں، یا علماء جائیداد بنائیں، اس لئے دربار کے علماء اس سے ناراض ہو گئے تھے اور اس کے عقائد میں نقص نکالنے لگے تھے۔

خانخاناں نے بددل ہو کر پرچم بغاوت بلند کیا تو لاکھوں لوگ اس سے آن ملے۔ زیادہ تر عام طبقے کے آدمی تھے۔ خانخاناں اپنا دربار پیپل کے ایک درخت کے نیچے لگاتا تھا۔ اس لئے اس کے حامی بھی پیپل والے مشہور ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •