عمران خان اور مراد علی شاہ کو درمیانی راستہ نکالنا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کورونا وائرس اگر دست انسانی کا شاخسانہ ہوتا تو بیان بازی سمجھ آ سکتی تھی، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ آسمانی آفت ہے، تو ایک دوسرے پر لعن طعن کا فائدہ؟ غلطیاں وفاق سے بھی کم نہیں ہوئیں اور سندھ سرکار کی پالیسی بھی بہت زیادہ مثالی نہیں۔ مسئلہ مگر نیت سے زیادہ اہلیت و قابلیت جس کا فقدان دونوں جگہ ہے اور یہ مسئلہ طعنہ زنی سے نہیں، باہمی تعاون سے حل ہو گا۔ مراد علی شاہ کا موقف غلط نہیں کہ سب سے زیادہ اہم کام انسانی جان کا تحفظ ہونا چاہیے اور بے پروائی سے بہت بڑے جانی نقصان کا خطرہ ہے۔

دوسری طرف عمران خان صاحب کے تحفظات بھی بجا ہیں، کہ غریب عوام پر مزید سختی ممکن نہیں اور اب غریب طبقے کی مشکلات کم نہ کیں تو حالات بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ مکرر عرض ہے مراد علی شاہ کی فکر غلط نہیں اور وزیر اعظم کی بات بھی محض سیاسی مخالفت کی بنا پہ رد نہیں کی جا سکتی۔ سوال لیکن یہ ہے کہ دونوں لیڈر نیک نیتی سے عوام کا مفاد سوچ رہے ہیں، تو باہم مل بیٹھ کر درمیانی راہ کیوں نہیں نکالتے؟ کیوں نہیں سمجھتے کہ طعنہ زنی اور الزام تراشی اس نازک موقع پر مناسب نہیں اور اس سے کسی فائدے کے بجائے دونوں کا قد چھوٹا ہو گا۔

سیاسی قیادت کی طرح کورونا کے معاملے پر عوام بھی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے کورونا کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے خدشہ ہے کہ معاملہ کہیں یورپ اور امریکا کی طرح سنگین رخ اختیار نہ کر لے، لہذا احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس رائے کے حامل سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایک بڑی آبادی غربت اور بھوک کی وجہ سے پابندیاں ماننے سے انکاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کورونا سے بڑا مسئلہ ان کے لیے بھوک ہے۔

اسی وجہ سے یہ طبقہ جو اکثریت میں ہے بیماری کے خوف سے بے نیاز ہے۔ بھوکے شخص کو پیٹ کی آگ بجھانے کے سوا کچھ اور سوجھ بھی نہیں سکتا۔ حلال حرام اچھے برے اور فائدے نقصان کی تمیز بھوک مٹا دیتی ہے۔ لاکھ سمجھاتے رہیں کہ باہر نکلنے سے کیا خطرات ہیں، جب تک بھوک کا بندوبست نہیں ہو گا تبلیغ، وعظ، نصیحت کچھ اثر نہیں کرے گا۔ گزشتہ دنوں چیف جسٹس جناب گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کورونا کی وبا کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران میں جج صاحبان نے بھی کہا کہ کورونا کے حوالے سے صورت حال روز بروز گمبھیر ہوتی جا رہی ہے، یہی حالات رہے تو ملک میں معیشت کا پہیا چلانا مشکل ہو جائے گا۔ لوگوں کو بھوکا مرنے سے بچانا ہو گا۔ جن کے پاس پیسے نہیں وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کیسے پوری کریں؟ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بارے سوچنا ہو گا۔ لوگ بھوک سے بلبلا رہے ہیں۔ بھوکے لوگوں کے ہجوم اکٹھے ہو رہے ہیں۔ غریبوں کے روزگار کے بارے میں نہ سوچا گیا تو بہت برا ہو گا۔ عدالت عالیہ کا یہ کہنا بالکل بجا اور درست ہے کہ لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان ہیں اور لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ پوری قوم کر رہی ہے۔

اس پر پوری دنیا متفق ہے کہ کورونا کا کوئی علاج نہیں صرف احتیاط سے ہی بچا جا سکتا ہے۔ اگر چہ ہلاکت خیزی کے لحاظ سے یہ زیادہ خطرناک نہیں اور اس کا شکار ہونے والے بیش تر مریض اپنے مدافعتی نظام کے سہارے ازخود صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس مرض کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ نہایت سرعت سے پھیلنے والی متعددی بیماری ہے اور بیماری میں مبتلا مریض ملاپ اور سانس کے ذریعے مزید کئی لوگوں کو بیمار کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد طریقہ لاک ڈاؤن اور سماجی دوری ہے۔

یعنی لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور میل جول سے گریز کریں۔ کورونا کی ابتدا چین کے علاقے ووہان سے ہوئی تھی اور چین لاک ڈاؤن کی حکمت عملی پر عمل کر کے ہی اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوا۔ لیکن چین کو کامیابی اس لیے ملی، کیوں کہ اس دورانیے میں چینی حکومت لاک ڈاؤن کی شکار اپنی آبادی کو ضروریات زندگی گھروں میں مہیا کرتی رہی، تا کہ کسی کو گھر سے نہ نکلنا پڑے۔ وطن عزیز کے صوبہ سندھ کی حکومت نے سب سے پہلے چین کی تقلید میں شہروں کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی تقلید بعد ازاں دیگر صوبائی حکومتوں نے بھی کی۔ ہمارے یہاں مگر یہ حکمت عملی چین کی طرح کارگر اس لیے ثابت نہ ہو سکی۔ کیوں کہ ہمارے یہاں لاک ڈاؤن پر مکمل عمل در آمد نہیں ہو سکا۔ ہماری حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ تمام آبادی کو گھروں میں محصور رکھتے ہوئے ضروریات زندگی فراہم کرتی۔

وفاقی و صوبائی حکومتوں کو یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ وہ عوام کو گھروں پر بٹھا کر کھانا نہیں دے سکتیں۔ لاک ڈاؤن مربوط حکمت عملی ترتیب دیے بغیر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لاک ڈاؤن جیسا قدم اٹھاتے وقت اس حقیقت کو مد نظر رکھنا لازم تھا کہ ہماری بہت بڑی آبادی انتہائی غریب ہے، جن کے لیے عام حالات میں بھی دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا مشکل ہے۔ یہ ذہن میں رکھنا ضروری تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب کا روزگار بالکل بند ہو جائے گا۔

غریب آدمی دیہاڑی میں ایک دن کا ناغہ افورڈ نہیں کر سکتا چودہ دن کا لاک ڈاؤن اس کے لیے وبال جان تھا۔ حکومت پوری آبادی کو ریلیف نہ دیتی، کم از کم لاک ڈاؤن کے دورانیے میں دیہاڑی دار طبقے کی غذائی ضرورتوں کا بندوبست گھروں تک یقینی بنا دیتی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تنِ تنہا لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں۔ یہ مفید اسی صورت ہو سکتا تھا کہ نقل و حمل روک کر کورونا کے مشتبہ مریضوں کی تشخیص کر لی جاتی۔

بد قسمتی سے ٹیسٹنگ پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں تھا۔ بیرون ملک سے آئے افراد خواہ وہ ایئرپورٹس سے آئے یا زمینی راستوں سے تھوڑی دوڑ دھوپ سے ان کی اور ان کے ملنے والوں کی مکمل ٹیسٹنگ کر لی جاتی۔ اکثر لوکل ٹرانسمیشن کیس ایسے افراد ہی سے آگے منتقل ہوئے ہیں تو وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانا بڑی حد تک ممکن ہو سکتا تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھانے کے بجائے استعداد کے مطابق بھی کام نہیں ہوا۔ اسی لیے اب لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید اضافہ کرنا پڑا۔

دیہاڑی دار اور چھوٹے دکان دار کی حالت دیکھ کر لگتا نہیں کہ وہ حکومت سے اس ضمن میں مزید تعاون پر آمادہ ہوں گے۔ بلا مبالغہ بڑی تعداد ایسی ہے، جنہیں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اب ہر صورت باہر نکلنا پڑے گا، ورنہ ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ جائے گی۔ رزق کی تلاش میں جتنی تیزی سے لوگ باہر نکلیں گے، لا محالہ مرض کا پھیلاؤ بھی اسی تیزی سے بڑھے گا۔

قیادت کا کام بحران میں سمت دکھانا ہوتا ہے، لیکن اس دو طرفہ سنگین صورت حال میں بھی مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے بجائے، وفاق اور سندھ کی قیادت کی لڑائی ختم نہیں ہو رہی۔ قیادت سے مایوس ہو کر رب کریم سے دعا کر رہا ہوں۔ آپ بھی کریں۔ وہ ہمیں وبا سے محفوظ رکھنے کے ساتھ اپنے غیب کے خزانوں سے وافر رزق کا بندوبست بھی کر دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply