کیا ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے لیے تیار ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ چوتھے صنعتی انقلاب سے ملکی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر کیا اثرات ہوں گے اس وقت پاکستان میں ہرسوں ایک ”ففتھ جنریشن وار“ نامی گم نام نظریے کے چرچے ہیں۔ اس نظریے کی باتیں شاید دل کو لبھانے کے لیے تو اچھی ہوں مگر تاریخ شاہد ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں نظریاتی جنگوں سے ہمیشہ صنعتی انقلابوں کے اثرات زیادہ ہوئے ہیں۔ معاشی تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ لوگوں کی معاشی حالات میں جیسا انقلاب پہلے صنعتی انقلاب سے برپا ہوا ویسا نہ اس سے پہلے کبھی ہوا تھا اور نہ اب تک ہو سکا۔

پہلے صنعتی انقلاب کا آغاز اٹھارویں صدی کے اختتام میں ہوا۔ اس انقلاب میں بہت سی نئی چیزیں ایجاد ہوئیں مگر بھاپ سے چلنے والی انجن کی ایجاد اس انقلاب کی سب سے اہم چیز شمار کی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ انقلاب توانائی کے لیے پانی کے استعمال کی دیافت تھی۔ اُس وقت تک سب سے زیادہ پیداور لوگ زراعت سے حاصل کرتے تھے یوں بھاپ سے چلنے والی زرعی مشینری بنائی گئی جس سے مجموعی ملکی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا۔ کوئلے کو نکالنے کا بھی آغاز اسی انقلاب کے دور میں ہوا اور یوں بھاپ سے چلنے والی مشینوں کے استعمال میں اور تیزی آ گئی۔ اس صنعتی انقلاب سے پہلے تقریباً دنیا کے تمام ملکوں کا جی ڈی پی پر کیپیٹا گروتھ صفر تھا۔

کوئلے کے استعمال سے لوہے کو ڈھالنے کا کام بھی تیز ہوا اور یہی چیز دوسرے صنعتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ دوسرا صنعتی انقلاب تقریباً ایک صدی بعد انیسویں صدی کے آخر میں آیا۔ اس انقلاب میں اہم کرادر بجلی، گیس اور تیل کی دریافت کا رہا۔ لوہے کو ڈھالنے کا عمل تو پہلے ہی شروع ہو چکا تھا مگر توانائی کے ان دوسرے ذرائع سے سٹیل بنانے کا عمل بھی شروع ہوا۔ سٹیل کی انڈسٹری لگنے سے نئی جدید مشینیں آسانی سے بنائی جانے لگی۔

اسمبلی لائن بھی اسی دور کا تحفہ تھا جس سے انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چیزوں کے بننے کا عمل شروع ہوا۔ کھادوں اور جدید زرعی مشینری کی وجہ سے زرعی پیداوار میں مزید اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت میں مصنوعی دھاگہ کی ایجاد نے پیداوار میں بے انتہا اضافہ کیا۔ اس سب کے علاوہ بجلی کی وجہ سے ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کا ایجاد بھی اسی عرصے میں ہوا جس سے عمومی رابطوں کے علاوہ صنعت کاروں کے درمیان بھی رابطے میں آسانی آئی۔ ان سب چیزوں نے مل کر تاریخ میں پہلی بار جی ڈی پی پر کیپیٹا گروتھ کو تین فی صد تک پہنچایا۔

تیسرا صنعتی انقلاب بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں آیا۔ اس انقلاب میں سب سے زیادہ اہمیت کمپیوٹر کے پروسیسر کی ایجاد کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ جوہری توانائی کی دریافت بھی بہت مفید ثابت ہوئی۔ مواصلات کے نظام میں مزید جدت آ گئی اور اس کی بدولت خلائی تحقیق کا آغاز ہوا۔ کمپیوٹر کے ایجاد کی وجہ سے صنعتوں میں بہت سی مشینیں خود کار ہو گئیں۔ پی ایل سی ( پروگرام ایبل لاجک ڈیزائن) کی ایجاد سے ایک ہی مشین کو کئی مختلف کاموں کے لیے استعمال کرنا ممکن ہوگیا۔ یہ تو ماضی کی باتیں اور ہم بھی کسی نہ کسی حد تک ان انقلابوں سے مستفید ہوئے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم آنے والے معاشی انقلابوں کے لیے تیار ہیں؟

آج کل ہر طرف چوتھے انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس انقلاب کی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں کمپیوٹرز خودکار ہونے کے علاوہ سوچنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے کمپیوٹرز کو روبورٹس کہا جاتا ہے اور اس علم کو آرٹیفیشل انٹیلی جینس (مصنوعی ذہانت) کا نام دیا جاتا ہے۔ پرانے انقلابوں میں جو اہمیت انرجی کو حاصل تھی اس دور میں وہی اہمیت ڈیٹا کو حاصل ہے کیونکہ مشینوں کی مصنوعی ذہانت دستیاب ڈیٹا کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے اس کے لیے ایک مثال آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ فرض کیا آپ کے گھر میں ایک خود کار ڈرون ہو اور آپ اپنے گزشتہ پانچ سال کا سارا ریکارڈ اس ڈرون کو فراہم کرتے ہیں۔ اس ریکاڑد میں یہ چیزیں ہیں کہ آپ نے کس دن کیا کھانا بنایا اور اس دن موسم کیسا تھا اور آپ نے چیزیں کس دکان سے خریدی تھی۔ اس سب ریکارڈ کو سامنے رکھ کر ڈرون آپ کے ہر دن کی ضرورت کی چیزیں آپ سے پوچھے بغیر دکان سے خرید کر لا سکے گا۔ یہ ایک گھر کی مثال ہے ہو سکتا ہے ہم انسان اپنے پرانے ریکارڈ سے ہٹ کر کچھ اور کرنا چاہیں مگر انڈسٹری میں چیزیں بننے کا پراسس کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا اس لیے آپ اندازہ لگائیں کہ ان سوچنے والوں کمپیوٹرز سے انڈسٹری میں کیسا انقلاب برپا ہوگا۔

اس انقلاب کے ترقی پذیر ملکوں پر کیا اثرات ہوں گے اس حوالے سے ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ زیادہ تر کا گمان ہے کہ اس انقلاب سے امیر اور غریب ملکوں کے درمیان فرق مزید بڑھے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غریب ممالک کے پاس معاشی غربت کے علاوہ علمی غربت بھی ہے۔ اس علمی غربت کی وجہ سے وہ جدید چیزیں بنا ہی نہیں سکیں گے۔ بہرحال ماہرین کے ایک چھوٹے طبقے کی رائے یہ بھی ہے کہ اگر غریب ملکوں نے وقتی طور پر مثبت اقدام کیے تو وہ معجزاتی ترقی کر سکیں۔

ان اقدامات میں یقینی طور پر سب سے اہم چیز ڈیجیٹیلائزیشن ہے اور خوش قسمتی سے ہماری حکومت دیر سے سہی مگر اس کی طرف توجہ دینے لگی ہے۔ گورنمنٹ کی ذمے داری صرف ڈیجیٹلائزیشن سے پوری نہیں ہوتی بلکہ تعلیمی نظام میں بھی انقلابی تبدیلیاں کرنی ہوں گی ۔ بد قسمتی سے پرائمری سے لے کر یونیورسٹیوں تک ہم صدیوں پرانا نصاب پڑھا رہے ہیں۔ نصاب میں تبدیلی کے علاوہ گورنمنٹ کی یہ بھی ذمے داری بنتی ہے کہ اس صنعتی انقلاب کے لیے درکار مہارتیں سکھانے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں۔ اس طرح کی اقدامات ترقی یافتہ ممالک میں تو پہلے سے ہی کی جا چکی ہیں۔ گورنمنٹ کے علاوہ ہماری صنعتوں پر بھی اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے لوگوں کو درکار نئے سکلز سکھائیں۔

نئے سکلز نہ سکھانے کے دو خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ پہلا خطرہ تو معاشی عدم مساوات کا ہے۔ کیونکہ اس وقت پاکستان میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو اس صنعتی انقلاب کے لیے درکار سکلز سے لیس ہیں اس لیے وہ منہ مانگے پیسے لینے میں کامیاب ہوں گے ، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگوں کو کوئی کم مزدوری پر بھی رکھنے کو تیار نہیں ہوگا جن کے پاس جدید سکلز نہیں ہوں گے ۔ اگر بغیر سکلز والے مزدوروں کو کسی نہ کسی طرح لازمی صنعتوں میں کام دینا پڑ گیا تو ہماری صنعتیں پیچھے رہ جائیں گی۔

صنعت یا صنعتی مزدوروں میں سے کسی کا بھی پیچھے رہ جانا ملکی مفاد میں نہیں ہو سکتا۔ صنعت کار اور گورنمنٹ کے علاوہ ہر فرد کی بھی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ خود کو اس قابل بنائے کہ وہ اس صنعتی انقلاب سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے۔ انفرادی طور پر کمپیوٹر سے متعلقہ سکلز خصوصاً پروگرامنگ کے سکلز سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوں گے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *