وبا کے دنوں میں نفرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گلگت بلتستان تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر ایک عالمی وبا کا شکار ہو گیا ہے۔ پہلی بار اس لئے کہ اس سے قبل یہ علاقہ دشوار گزار پہاڑی راستوں اور سخت موسمی حالات کی وجہ سے دنیا سے بالکل کٹا ہوا تھا، خصوصاً برٹش انڈیا کے دور حکومت میں اس خطے کو باقاعدہ ایک پالیسی کے تحت ہمسایہ ممالک سے دور رکھا گیا تاکہ بیرونی دنیا خاص طور پر زار روس کے اثرات سے برٹش انڈیا کے نوآبادیاتی نظام حکومت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

اس دوران گریٹ گیم کے تحت گلگت بلتستان کے سرحدی علاقوں پر فوجی چوکیاں قائم کرکے اس خطے پر بیرونی دنیا سے کسی کا سایہ بھی پڑنے نہیں دیا گیا۔

اس طرح برٹش انڈیا نے اپنے دفاعی مقاصد کے حصول کے لئے اس خطے کو ایک انسانی جیل میں تبدیل کر دیا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مقامی لوگوں کے صدیوں پرانے روابط کو یک طرفہ طور پر بند کر دیا۔

گلگت بلتستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی، سماجی اور سفارتی تعلقات کو مکمل طور پر بند ہونے کے نتیجے میں اس خطے کے عوام مینڈک کے کنویں کی طرح دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں سے مکمل طور پر لاعلم اور بے خبر رہے اور نوآبادیاتی نظام حکومت اور پالیسیوں کی وجہ سے مجموعی طور پر اس خطے میں سیاسی، سماجی، علمی اور معاشی ترقی رک گئی، جس کی مثال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے ہمسایہ ممالک چین اور روس عالمی سپر پاور بن گئے دوسری طرف چین اور روس کے لوگوں کی طرح ہی دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ ’دو پیر اور ایک ناک اور سر رکھنے کے باوجود ہم اپنے معاشرے اور علاقے میں ایک اچھا معیاری ہسپتال تک تعمیر نہیں کرسکے، جہاں موذی امراض کا علاج ممکن ہو سکے۔

سچ پوچھو تو ہمارے ہاں ایک میڈیکل کالج تک نہیں ہے میڈیکل کالج تو دور کی بات ہمارے ہاں کرونا وائرس سے عوام کو محفوظ رکھنے والے ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی کٹس بھی نہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے ایک نوجوان ڈاکٹر اسامہ اور ایک نرسنگ سٹاف کو کھو چکے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق ایک ہسپتال میں ایک ڈاکٹر، 3 نرس سمیت عملے کے کل 9 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جو کہ باعث تشویش ہے۔ اگر ڈاکٹرز، نرسیسں، اور ہسپتال کا عملہ ہی محفوظ نہیں ہے تو غریب عوام کی زندگیاں کتنی محفوظ ہو سکتی ہیں۔

اس موذی وائرس سے بچاؤ کے لئے سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی بجائے ہمارے بہت سارے نوجوان اس بیماری کو سنجیدہ نہیں ہے رہے ہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس وبا کو مسلمانوں کے خلاف امریکی اور یہودی سازش سمجھتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ وائرس ان لوگوں کو لگتا ہے جن میں ایمان کی کمی ہے،

میری حیرت کی انتہا اس وقت ہوئی جب ایک وکیل نے کورونا وائرس کو مسلمانوں کے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے یہ دلیل دی کہ کورونا وائرس ایک سازش ہے جس کے تحت مسلمانوں کو عبادت گاہوں سے دور رکھ کر سیکولر ازم کو مسلم ممالک میں پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ ساتھ میں انہوں نے فرمایا کہ امریکہ چین کی تجارت کو دنیا میں روکنا چاہتا ہے اسی دلیل کو بنیاد بنا کر اس نے کورونا وائرس سے امریکہ میں ہزاروں افراد کی ہلاکتیں ہونے کو محض پروپیگنڈا قرار دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کی سازشی تھیوریز کو سچ مان کر ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر تسلسل کے ساتھ اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ آیا کورونا وائرس کی وجہ ایران سے آنے والے زائرین ہیں یا تبلیغی جماعت سے منسلک افراد؟

الغرض ہمارے نوجوان آپس میں الجھے ہوئے ہیں کہ کرونا کا تعلق کس مسلک سے ہے؟ حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ اس وبا کا تعلق کسی مسلک یا مذہب سے نہیں ہے بلکہ اس بات کو ساری دنیا تسلیم کرچکی ہے کہ اس موذی وبا نے ایک ایسے ملک میں جنم لیا ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک کمیونسٹ ملک ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے لوگ اس تلخ تاریخی حقیقت سے آنکھیں بند کر چکے ہیں کہ کس طرح ہمارے اس پر امن اور خوبصورت علاقے میں تاج برطانیہ کے دور سے ہی ایک نوآبادیاتی نظام کے تحت قبضہ مضبوط کرنے کے لئے عوام میں تقسیم کرو اور حکومت کرو پالیسی کے تحت علاقائی، لسانی اور مذہبی اور مسلکی تعصبات اور نفرت کو پروان چڑھایا گیا، اس پالیسی کی واضع عکاسی نوآبادیاتی دور میں یورپ سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں کی گلگت بلتستان کے بارے میں لکھی گئی کتب سے ہوتی ہے، جن میں ”قراقرم کے قبائل، “ جہاں تین سلطنتیں ملتی ہیں ”، “ بلور اینڈ دردستان ”اور میجر الیگزینڈر بروان کی بغاوت گلگت اس کی چند اہم مثالیں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی دور حکومت میں بوئے گئے تعصبات اور نفرت کے اس بیچ سے گلگت بلتستان میں اب تک ایسے پودے اگ رہے ہیں جو نہ صرف بے ثمر ہیں بلکہ ان کا سایہ بھی زہریلا ہے ”۔

یہ ایک مایوس کن امر ہے کہ ایک عالمی موزی وبا کے دنوں میں ہماری تعصب ذدہ سوچ نے ہماری قوم میں پہلے سے موجود بدگمانیوں کو ہوا دی، فرقہ واریت کے نام پر لگے پرانے زخم پھر سے تازہ ہونے لگے ہیں اور ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ ہم نے گزشتہ سات دہائیوں میں فرقہ وارانہ سوچ کے ذیر سایہ ایک دوسرے کے لئے کینہ پالنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ تعصبات اور نفرت کا یہ زہر اکثر ایسے دنوں میں پھوٹ پڑتا ہے جب معاشرہ تبدیلیوں کے عہد سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس وقت ایک طرف ساری دنیا میں حکومتیں اور قومیتں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں اور ایک قومی فریضہ کی طرح کورونا وائرس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان ملکوں کے سائنسدان اس مہلک ترین وبا کی ویکسین بنانے کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں اور اپنے عوام کے لیے ممکن سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عوام اپنی حکومتوں سے تعاون کر رہے ہیں اور ان کی نظریں اپنے سائنسدانوں پر ہے کہ وہ اس موذی وائرس کا علاج تلاش کریں۔

جب کہ دوسری طرف گلگت بلتستان میں ایک بالکل مختلف صورتحال ہے عوام کی اکثریت خصوصاً تعلیم یافتہ افراد کی اکثریت کورونا وایرس کو بھی مسلکی چشمے سے دیکھ رہی ہے اور اس وبا کو ایک دوسرے کے مسلک سے منسلک کرنے میں مگن ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے معاشرے کو کورونا وائرس سے بچانے کی بجائے ایک دوسرے پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کر کے اپنی بساط کے مطابق فرقہ ورایت پھیلانے کا سبب بن رہی ہے، جو کہ انسانیت کے ساتھ ظلم ہے۔

ہمیں یہ سادہ سی بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ کورونا کا تعلق کسی مسلک یا فرقہ سے نہیں ہے بلکہ یہ وبا ایک کمیونسٹ ملک سے شروع ہو گئی ہے جہاں مذہبی جنونیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور عالمی میڈیا کے مطابق اس ملک میں مذہبی جنونیوں اور شدت پسندوں کو ریفارمیٹری سنٹرز نامی قرنطینہ مراکز میں داخل کیا جاتا ہے، اس لئے ہمیں اپنے عوام پر ترس کھانے کی ضرورت ہے اور اپنی قوم اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقاء کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے اور اس عالمی وبا کے دنوں میں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا کب تک ہم اس نفرت میں زندگی بسر کرتے رہیں گے؟ کیا دنیا کی دیگر اقوام کی طرح ہم بھی ایک قوم بن کر اس عالمی وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں؟ آخر کب تک نوآبادیاتی دور کی اس تقسیم کرو اور حکومت کرو پالیسی کے تحت ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہیں گے؟ کب تک اس نفرت کی وبا کے اثرات میں اپنے بھائیوں سے دشمنوں جیسا سلوک کرتے رہیں گے؟

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ آؤ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ وبا اور بیماری کا تعلق کسی مسلک اور فرقے سے نہیں ہے بلکہ ہماری نفسیات میں سرایت کی گئی فرقہ وارانہ سوچ اور نفرت کی وجہ سے ہماری مجموعی سوچ بنجر اور ذہر آلود ہو چکی ہے جس کا خمیازہ آج سماجی، معاشی، سیاسی اور عقلی بحران کی صورت میں ہم سب بھگت رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *