محبت میں نوجوان کی خودکشی کا معاملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کے اک لڑکے نے مبینہ طور پہ پیار میں خود کشی کی۔ اس کی والدہ نے لڑکی کی تصاویر سوشل میڈیا پہ لگائیں اب ہر دوسرا بندہ تصاویر شئیر کیے جا رہا ہے اور لڑکی کو برا بھلا کہے جا رہا ہے

بھائی اک تو زندگی سے گیا دوسرے کی زندگی آپ برباد کر رہے ہو۔ اک تو آپ کو معلوم نہیں کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ ان دونوں کے درمیان کیسا تعلق تھا؟ کیا کمٹمنٹ تھی؟ معاملہ کیا ہوا کہ لڑکے نے اپنی جان لے لی؟

آپ اک ماں کے موقف کو تسلیم کر کے لڑکی پہ تبرا کرنے میں لگے ہیں۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے دہشت گرد کی ماں بھی اپنے بیٹے کو کبھی دہشت گرد نہیں مانتی۔ ساس بہو کی رقابت میں ماں کبھی اپنے بیٹے کو قصوروار نہیں ٹھہرائے گی جو عاقل بالغ اور شادی شدہ ہونے کے بعد بھی دو خواتین کے بیچ میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتا بلکہ وہ ہمیشہ بہو کو ڈائن چڑیل کہے گی جس نے اس کے معصوم سے بیٹے کو جادو کر کے تبدیل کر دیا۔

ٹین ایج بڑی پیچیدہ عمر ہوتی ہے۔ لڑکپن و جوانی وہ دور ہوتا ہے جب دماغ و جسم میں کیمیکلز کا ردوبدل جاری ہوتا ہے ہارمونل چینجز جذبات اور رویے پہ گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ ٹین ایج میں لڑکا اور لڑکی دونوں میچور فیصلے لینے کی اہلیت سے محروم ہوتے ہیں۔ ایسے میں اک ٹین ایجر نے جذبات میں آ کر اپنی جان لے لی تو وہ معصوم و مظلوم بن گیا دوسری طرف کی جذباتیت کو بھی اتنا ہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

برصغیر پاک و ہند کی لڑکیوں کو گولڈ ڈگر اور مادیت پرست قرار دیا جاتا ہے۔ اک لڑکی کی شروع سے ہی ذہن سازی کی جاتی ہے کہ کہ کوئی خوابوں کا شہزادہ گھوڑے پہ سوار ہو کر آئے گا اور اس کو لے جائے وہ شہزادی بن کر راج کرے گی۔ لڑکی اگر پسند کے کھانے کی فرمائش بھی کر دے تو کہا جاتا ہے کہ اپنے شوہر سے اپنے ناز نخرے اٹھوانا اپنے سسرال جا کر اپنی مرضی چلانا۔ یعنی لڑکی کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اس گھر میں مہمان ہے اس کا اصل گھر کوئی اور ہے اور لڑکی اسی گھر میں اپنی پسند کی زندگی گزار سکتی ہے۔

دوسرا ہمارے ہاں لڑکی کو گھرداری سکھائی جاتی ہے کہ آگے جا کر تم نے گھر سنبھالنا ہے اور تمہاری خواہشات پوری کرنے کے لیے شوہر پیسہ کمائے گا۔ اب لڑکیاں اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے جیون ساتھی کے طور پہ فنانشلی مضبوط شخص کو ترجیح دیتی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور؟ محبت بلاشبہ اک شاندار جذبہ ہے مگر وہ کہتے ہیں نہ محبت سے پیٹ نہیں بھرتا محبت سے گھر نہیں چلا کرتے۔

لڑکی کے جذباتی وعدوں پہ اعتبار کرنے کی بجائے اگر یہ سوچیں کہ ہر لڑکی جو بظاہر کتنی ہی آزاد منش کیوں نہ ہوں کئی ان دیکھی بیڑیوں کی قیدی ہوتی ہے تو شاید صورتحال اتنی پیچیدہ ہو ہی نہ۔ ماں باپ کی عزت کا بار بھی لڑکیوں کے ہی کندھے پہ ہوتا ہے لڑکا اگر فلرٹ نکلے تو وہ Stud کہلاتا ہے لڑکی اگر محبت کرے تو وہ بدکردار قرار دی جاتی ہے یہاں لڑکے کو محبت کرنے کی جتنی آزادی ہے لڑکیوں پہ اتنی ہی پابندی۔

ہمارے ہاں رشتے طے کرتے وقت لڑکوں تک سے مشورہ نہیں کیا جاتا، لڑکیاں کس کھیت کی مولی ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں وعدے کی پکی نکلیں، مادیت پسندی سے باہر نکل کر بے لوث رشتے بنائیں تو پہلے ان کا احساس عدم تحفظ دور کریں۔ ان کو گھرداری ضرور سکھائیں مگر صرف گھرداری ہی نہ سکھائیں۔ ان کو کیرئیر چننے کی آزادی دیں وہ پیسے کے لیے جب تک کسی پہ انحصار کرتی رہیں گی تب وہ دل کے فیصلے نہیں مان سکیں گی۔

یہاں لڑکیاں اسی فنانشلی انسکیورٹی کی وجہ سے محبتیں قربان کر دیتی ہیں یا ناپسندیدہ جیون ساتھی کے ساتھ ناگوار رشتے کو عمر بھر نبھاتی رہتی ہیں کیونکہ ان کے پاس دوسری کوئی چوائس ہی نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *