آو جنت کی سیر کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان زندگی میں بہت سارے سفر کرتا ہے۔ خوب صورت مقام, تفریخی گاہیں دیکھتا ہے۔ دل و دماغ کو اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں سکون کی آماج گاہ بنانے کے لیے نت نئے پروگرام، فیملی کے ساتھ، یار دوستوں کے ساتھ بناتا ہے۔ انسانی مزاج میں یک سانیت کا عنصر، بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔ بچے ہوں، بوڑھے ہوں یا نوجوان، سب کو زندگی میں کبھی ایک جگہ ٹھہرے پانی کی طرح رہنا پسند نہیں ہوتا۔ کون ہے جو خود کو کائی زدہ کر لے۔ ہر کوئی ہوا کی رتھ پر سوار ہو کر پہاڑوں کے اوپر اڑنا چاہتا ہے۔ سر سبز وادیوں میں اترنا چاہتا ہے اور نیلگوں آسماں کی وسعتوں میں کھو جانا چاہتا ہے۔ جو نہیں جا سکتے، وہ نیٹ پر اپنی پسند کی جگہ سرچ کرتے ہیں۔ سفر نامے پڑھ کر خود کو اس مقام پر کھڑا محسوس کرتے ہیں۔
انسان کے پاس شمالی علاقہ جات، سوئٹزر لینڈ، وینس، اسپین اور دنیا کے بہت سے حسین مقام جانے کا انتخاب ہوتا ہے۔ میں آج آپ کو ایک ایسے مقام کی سیر کرواوں گی، جس کی خواہش ہر مسلمان کرتا ہے۔ اس کے بارے میں خود اللہ رب العزت نے کہا ہے کہ وہاں ایسی چیزیں ہیں، جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں۔ ایسے ذائقے ہیں جو کسی زبان نے نہیں چکھے اور ایسے دل کش مناظر ہیں، جو کسی کے تصور میں نہیں آ سکتے۔ ہماری سوچ سے بھی زیادہ پر کشش ہے، وہ جنت، جس تک پہنچنے کے لیے نفس جیسی بلا کا تا حیات مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
اس مقام۔کے آٹھ دروازے ہیں پہلا دروازہ جنت الفردوس ہے، جو اللہ کے عرش کے بالکل نیچے ہے اور جنت کا سب سے اعلی مقام ہے۔ سورہ بروج کی آیت نمبر 11 میں ہے، جنت وہ حسین باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جنت کے جو محل ہوں گے، ان میں تمام برتن سونے و چاندی کے ہوں گے۔ جنت کے محلوں میں ہر وقت عود جلتی رہے گی۔ جن سے جنتیوں کے محل ہر وقت معطر رہیں گے۔ اتنی مسحور کن خوش بو ہو گی کہ دنیا کا کوئی پرفیوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
جنت کے سنگ ریزے موتی اور یاقوت کے ہوں گے اور مٹی زعفران۔کی۔ وہاں کوئی بڑھاپا نہیں ہمیشہ جوان رہیں گے۔ جو اس جگہ جائے گا، ہمیشہ عیش کرے گا۔ کوئی دکھ تکلیف وہاں نہیں ہو گی۔ جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے آرام دہ خیمے لگے ہوئے ہیں۔ دل پسند میووں سے لدے باغات۔ سایہ دار گھنے درخت۔ یہ درخت سیاہی مائل سر سبز ہوں گے۔ تمام درختوں۔کے تنے سونے کے ہوں گے۔ بعض کھجوروں کا تنا سبز زمرد کا ہو گا۔ کھجور مٹکے کے برابر ہو گی۔ یہ شہد سے زیادہ میٹھی اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گی۔ کھجور کے علاوہ زیتون، انار، انجیر، ہر طرح کا پھل ہو گا۔
جنتی کا جو بھی پھل کھانے کو دل کرے گا، وہ آرام سے ہاتھ بڑھا کر توڑے گا اور کھا لے گا۔ وہاں فوری نیا پھل اور اگ آئے گا۔ شہد، دودھ، شراب، پانی کی میٹھی نہریں ہوں گی۔ لذیذ مچھلی، پرندوں کا گوشت ہو گا۔ ہر طرح کے مزے دار کھانے ہوں گے۔ جنت کے چھوٹے چھوٹے ملازم غلمان ہاتھوں میں مزے دار مشروبات سے لدی خوب صورت طشتریاں اٹھائے،  جنتیوں کے آگے پیچھے پھر رہے ہوں گے۔ نرم ملائم ریشم کے گاو تکیوں کے ساتھ ٹیک لگائے جنتی ہلکی معطر صاف شفاف ہوا کے جھونکوں کو اپنے چودھویں کے چاند کی طرح چمکتے چہروں پر محسوس کریں گے۔
وہاں کسی قسم کی غلاظت نہیں ہو گی۔ کوئی طنز تنقید نہیں۔ طعنہ زنی نہیں۔ فرقہ واریت نہیں۔ سیاست نہیں۔ حسد و ہوس نہیں۔ چور بازاری نہیں۔ کوئی بیماری نہیں۔ وہاں سب کے دل پرندوں کی طرح نرم ہوں گے۔
وہاں کے پرندے چہچہائیں گے تو موسیقی کی اعلی دھنیں سننے کو ملیں گی۔ وقت خواہش کے مطابق رہے گا۔ مطلب آپ زیادہ دیر صبح کے وقت میں رہنا چاہتے ہیں تو صبح کا وقت زیادہ دیر کے لیے ٹھہر جائے گا۔ جنتی آپس میں ملیں گے تو دلوں کے خلوص ان کے خوب چہروں کو مزید روشن کر دیں گے۔ وہاں مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ حال کا کوئی غم نہیں اور ماضی کا کوئی پچھتاوا نہیں ہو گا۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں جانے کی تیاری بہت آسان ہے اور امتحان بہت مشکل، مگر افسوس ہمیں جانے کی تیاری مشکل لگتی اور امتحان آسان۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply