شے دے دانے



آج کل کے بچے اور نوجوان شاید ”شے دے دانے“ کے مطلب سے ناواقف ہوں لیکن جن بچوں کا بچپن دیہات میں گزرا ہے اور وہ اکیسویں صدی کے شروع ہونے سے پہلے پیدا ہوئے ہیں انہیں ان الفاظ سے گہری محبت اور لگاؤ ہے۔ دیہات کے لوگ عام طور پر زراعت کے پیشے سے منسلک ہوتے ہیں اور اپنی فصلوں اور کھیتوں سے ایک خاص قسم کی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں لیکن گندم کی فصل کے ساتھ رومانوی وابستگی کی بات ہی کچھ اور ہے۔

گندم کی کاشت سے لے کر کٹائی تک کا عرصہ دیہاتوں میں ایک فیسٹیول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما فرما ہیں۔ سب سے اہم تو یہ ہے کہ گندم کی فصل لوگوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرتی ہے جو کہ زندگی کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ دوسرا اس کی بیجائی کا موسم تب شروع ہوتا ہے جب خزاں رخصت ہو رہی ہوتی ہے اور موسم سرما کی آمد ہوتی ہے، کٹائی سے پہلے پہلے بہار بھی اپنے رنگ و خوشبو لے کر فضا کو معطر کرنے پہنچ جاتی ہے۔ لوگ دن میں دھیمی دھیمی دھوپ کے مزے لیتے ہوئے گندم کے لہلہاتے سر سبز و شاداب کھیتوں سے ایسے گزر رہے ہوتے ہیں جیسے وہ جنت کی کسی وادی میں گھوم رہے ہوں۔

مارچ کے شروع ہوتے ہی گندم کی فصل اپنے جوبن پر آنا شروع ہو جاتی ہے اور گندم کی بالیاں نمودار ہو کر اپنی بہار دکھا رہی ہوتی ہیں۔ نسیم سحر کے شروع ہوتے ہی گندم کے پودے ایسے جھومتے ہیں جیسے کوئی رقاصہ اپنے فن کی بلندی کو چھوتے ہوئے دیکھنے والے پر مدہوشی طاری کر رہی ہو۔ ہلکی ہلکی ہوا سے پودوں میں پیدا ہونے والی ارتعاشی آواز اتنی مدھر ہوتی ہے کہ دل کرتا ہے بس اسے سنتے ہی رہیں۔

جوں جوں مارچ کا مہینہ گزرتا جاتا ہے کسان کی امیدیں اور امنگیں بھی جوان ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ بس اب کچھ دنوں کے بعد گندم کی بالیاں سونے کے رنگ میں رنگی جائیں گی اور وہ گھڑی آن پہنچے گی جس کا انتظار کسان کے ساتھ ساتھ دیہات کے بچوں کو بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک اور مرحلہ کہ جس کی دلکشی کوئی ثانی نہیں۔ جی ہاں یہ وقت مارچ کے تیسرے ہفتے شروع ہوتا ہے جب گندم کے دانے نیم پکے سے ہوتے ہیں۔ اس موسم میں دیہات کے چھوٹے بڑے سب گندم کی بالیاں آگ پر بھون بھون کر اس میں سے دانے نکال کر کھاتے ہیں۔ بالیاں ہتھیلیوں میں لے کر مسل لی جاتی ہیں جس سے گندم کے دانے اپنے سبز خول سے باہر نکل آتے ہیں۔ جن لوگوں نے بھونے ہوئے گندم کے دانے کھائے ہوئے ہیں وہی لوگ ہی اس کی چاشنی اور ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں۔ اچھے سے اچھے ریستوران کا کھانا بھی بھونے ہوئے دانے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

اپریل کا مہینہ جہاں موسم گرما کی آمد کا اعلان کرتا ہے وہیں گندم کی فصل کی کٹائی کا سندیسہ لے کر آتا ہے۔ گندم کی کٹائی کسان کے علاوہ مزدور کے لیے بھی خوشی کا سامان لاتی ہے۔ غریب مزدور سال کا اناج گندم کی کٹائی کر کے اکٹھا کر لیتا ہے۔ اب گندم کی فصل تکمیل کے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ بستی کے تمام عزیز واقارب کٹی ہوئی گندم کے گنڈھے بنا کر گہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس باہمی مدد کو دیہات میں ”ونگار“ کا نام دیا جاتا ہے۔ تھریشر (گاہنے والی مشین) چند گھنٹوں میں کئی ایکڑ فصل گہاہ لیتی ہے۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے اس لمحے کا جس کا انتظار سب بچے بے صبری سے کر رہے ہیں۔ فصل کو حصہ داروں کے درمیان بانٹنے سے پہلے بستی کے تمام بچوں کو ”شے دے دانے“ یعنی بچوں کو چیز لینے کے لیے کچھ گندم دی جاتی ہے۔ بچے اپنی قمیض کے دامن میں گندم لئے قریبی دکان کی طرف دوڑ لگا دیتے ہیں، ان کی خوشی دیدنی ہے۔ یوں لگ بھگ چھ ماہ سے جاری رومانوی سفر اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments