لاک ڈاون اور افراد با ہم معذوری



کرونا کے آنے اور ہزار مسائل ساتھ لانے کی وجہ سے دنیا اس وقت پریشانی، بے چینی اور سب سے بڑھ کر بے بسی کی انتہا پر ہے، انسان اور انسانیت کی حفاظت کے لیے انتظامات، احتیاطی تدابیراور نت نئے تجربات کیے جا رہے ہیں، لیکن ان سب اقدامات میں انسانوں کی جنس، عمر اور ضروریات کے اعتبار سے درجہ بندی کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ البتہ مہذب دنیا کے اس چلن کے برعکس ہمارے یہاں افراتفری کی کیفیت ہے اور وسائل محض وہاں تک پہنچ رہے ہیں، جہاں تک بزور بازو میں ا سے وصول کرنے کی سکت موجود ہے۔

اس افراتفری میں سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والے پاکستانی شہریوں میں افراد باہم معذوری سر فہرست ہیں، جبکہ مذہبی اقلیتیں، معمر افراد، خواجہ سراء اور سفید پوش طبقہ اس فہرست میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ افراد باہم معذوری کے لیے لاک ڈاون کی اصطلاح تو معمول کے دنوں جیسی صورتحال ہے، جب ان کے لیے گھر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، لیکن موجودہ لاک ڈاون کی کیفیت تو ان کے لیے کرفیو کی طرح ہے، جہاں ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے سبب نہ وہ گھر سے نکل کہیں جا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومتی، سماجی یا خیراتی تنظیم سے راشن، ادویات، کھانا، اور دیگر وسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ مسائل افراد باہم معذوری کو درپیش ہیں، تو ان کے لیے پھر ریاست ماں جیسی ہو تو بھلے ہوتی رہے، لیکن ان کے لیے ریاست کے چہرے سے فی الحال توممتا جھلکتی دکھائی نہیں دیتی، حکومت جو ریاست کا چہرہ ہے، مامتا کے جذبات سے عاری، کھردرا اور ہر لمحہ رنگ بدلتا نظر آتا ہے۔

گو کہ ایک ماں کے لئے سب بچے ایک جیسے ہو تے ہیں، اور وہ ان میں کسی طرح کی تقسیم نہیں کرتی، کوئی بھاؤ بھید نہیں برتتی، سب کو ایک سا پیار اور توجہ دیتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ماں جیسی ریاست کے بچے رنگ، نسل، مذہب اور پیشے کے اعتبار سے تعصب کا شکار ہوتے ہیں، بالخصوص افراد باہم معذوری کے حصے میں صرف بے توجہی، سماجی نا انصافی و محرومی، امتیازی سلوک اور بے بسی ہی آئی ہے۔ ویسے ہھی افراد با ہم معذوری کی پیدائش کے ساتھ ہی اک نہ ختم ہو نے والا امتیازات کا سلسلہ شر وع ہو جاتا جو لحد تک اس کے ساتھ جاتا ہے۔ کچھ لوگ ان افراد کو والدین کی ناکردہ گناہوں کی سزا، خدا کی طرف سے لعنت، اور اپنے خاندان پر بو جھ تصور کرتے ہیں۔ ان کے نام بگاڑے جاتے ہیں، معاشرتی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت پر پا بندی لگا کر گھروں میں قید کر دیا جاتا ہے۔ ہماری مشترکہ سماجی و معاشرتی کوششوں کے نتیجے میں افراد باہم معذوری ایک با اختیار اور معاشرے کا فعال رکن بننے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

اور بنیا دی ضروریا ت کے لئے ہمیشہ دوسروں پر انحصار کرتے ہیں، اس پرکرونا جیسی مہلک وباء نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ان کوجذباتی ومعاشی طور پر ادھیڑ ڈالا ہے۔ جہاں کرونا وائرس کی وجہ سے لوگوں میں ڈر و خوف ہے اور جان کے لالے پڑے ہیں کہ ہم بھوکو ں نہ مر جائے۔ وہاں افراد باہم معذوری کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا۔ افراد باہم معذوری کے زیرِ استعمال ایسی بہت سی اشیائے ضروری اور ادویات ہیں جن سے وہ روزمرہ کی زندگی گزار رہے تھے مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے مارکیٹ اور متعلقہ دکانیں جہاں سے وہ اپنا ضروری سامان خریدتے تھے بند ہونے کی وجہ سے ایک تکلیف دہ دور سے گزر رہے ہیں۔

گزشتہ روز گورنر پنجاب چوہدری سرور جو کہ عمر کا بڑا حصہ یورپ میں گزار کر آئے ہیں، انہوں نے افراد باہم معذوری کے حوالہ سے پہلی بار لب کشائی کی، اور انہیں معقول رقم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کن لوگوں کو یہ اعزازیہ یا امدادی وظیفہ دیا جائے گا، کیونکہ افراد باہم معذوری کی رجسٹریشن کے نام پر تو حکومت کے پاس چند لاکھ لوگوں کے کوائف موجود ہیں، لیکن ان کوائف کے مندرجات اور اصل صورتحال اور اعدادو شمار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

جن لوگوں کا ڈیٹا حکومت کے پاس موجود ہے، ان میں سے بیشتربے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی رجسٹرڈ ہیں، باقی حال ہی میں لانچ کی گئی امدادی سکیم سے پیسے وصول چکے، مگر امتحان ان لوگوں تک رسائی ہے جو معذوری کا شکار تو ہیں، لیکن رجسٹریشن میں ان کا نام درج نہیں، اور حکومتی اداروں کے پاس ان کی تفصیل بھی موجود نہیں ہے۔

حالیہ مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کی وجہ سے اگر اعداد و شمار جاری نہیں بھی کیے گئے تو گزشتہ مردم شماری 1998 کا جائزہ لیتے ہیں، جس کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کم و بیش 14 کروڑ، جبکہ افراد باہم معذوری کی کل تعداد 32 لاکھ 86 ہزار کے قریب تھی۔ جو کل آبادی کا دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے، اور اب پاکستان کی کل آبادی 2017 کی افراد شما ری کے مطابقً 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اس اعتبار سے افراد باہم معذوی کی محتاط تعداد کا انداز لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس اس ضمن میں فی الحال مصدقہ کوائف ہیں، نہ ہی تفصیلات۔

بد قسمتی سے ماضی کے طرح اب بھی اس طبقے کو حکومتی سطح پر بالکل نظر انداز کر دیا گیا۔ اور افراد باہم معذوری کی حکومتی اداروں سے منسلک عدم تحفظ، بے یقینی، اور امتیازی سلوک کی روایت کو برقرار رکھا۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ مسائل افراد باہم معذوری کو درپیش ہیں، تو ان کے لیے پھر ریاست ماں جیسی ہو تو بھلے ہوتی رہے، لیکن ان کے لیے ریاست کے چہرے سے فی الحال تو ممتا جھلکتی دکھائی نہیں دیتی

Facebook Comments HS