مجھے بلاجواز قید کیا گیا ہے: شاہ السعود کی پوتی شہزادی بسمہ کا شاہ سلیمان کے نام الحیر جیل سے خط


سعودی عرب کی ایک جیل میں قید سعودی شہزادی کا ایک خط منظرعام پر آ گیا۔ میل آن لائن کے مطابق اس شہزادی کا نام بسمہ بنت السعود ہے جسے مارچ 2019ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے جیل میں قید ہے۔ اب جیل میں اس کی صحت بہت خراب ہے اور اس کی موت واقع ہونے کا خطرہ ہے۔ اس نے سعودی عرب کی یمن میں جنگ پر کڑی تنقید کی تھی اور سعودی بادشاہت میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا جس پر اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔

شہزادی بسمہ بنت سعود سعودی بادشاہت کے بانی کی پوتی اور دوسرے بادشاہ کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جانے والے اس خط میں 56 سالہ شہزادی بسمہ بنت سعود نے لکھا ہے کہ انہیں زبردستی قید رکھا جا رہا ہے اور انہیں علاج کی سہولت بھی مہیا نہیں کی جا رہی۔ شہزادی بسمہ کے فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ ”جب شہزادی گرفتار کیا گیا، اس وقت وہ علاج کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے والی تھیں۔ اس خط میں شہزادی بسمہ نے سعودی فرماں روا اور ولی عہد سے اپنی رہائی کی اپیل بھی کی ہے۔

انہوں نے فرماں روا اور ولی عہد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ مجھے اس وقت الحیر جیل میں بغیر کسی جرم کے قید رکھا جا رہا ہے۔ اب تک مجھ پر کوئی الزام تک عائد نہیں کیا گیا۔ میری طبیعت بہت خراب ہے اور دن بدن مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ اگر مجھے رہا نہ کیا گیا اور علاج نہ ہوا تو میری موت ہو سکتی ہے۔“ واضح رہے کہ یہ خط شہزادی بسمہ کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے پوسٹ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS