برا وقت ٹلے بھی تو کیسے

اس میں کوئی شک نہیں پُرہجوم مقامات میں ایسے خود کش بمبار چھپے ہوئے ہیں جو پھٹتے تو پوری شدت کے ساتھ ہیں لیکن دھماکے کی آواز انسانی کان سننے سے قاصر رہتے ہیں۔ کیونکہ یہ کان کے قریب پھٹ جانے والے بمبار بغیر کسی آواز کے ہم میں سے کسی کے بھی جسم کو چھید جاتے ہیں اس لئے ہمیں نہ تو ان کی خوفناکیت کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم کسی بھی خود کش بمبار سے دور رہ کر اپنے آپ، اپنے آس پاس کے لوگوں اور اپنے گھر والوں کو ہلاک ہونے سے بچائیں۔
یہ عجیب بمبار ہوتے ہیں کہ ان کے پھٹ جانے سے ہم مرتے بھی نہیں اور زخمی بھی نہیں ہوتے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم خود ایک خود کش بمبار میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور پھر ہر وہ فرد جو ہمارے قریب سے گزرتا ہے، ہم جس جس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، جس جس سے ہاتھ ملاتے ہیں، جس بازار میں داخل ہوتے ہیں، جس محلے پڑوس میں قیام پذیر ہوتے ہیں ان سب کو خود کش بمبار بناتے چلے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کرخوفناک بات یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے لئے ایک خاموش اور نہ نظر آنے والی موت بن کر سب کو ایک عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
ہمیں اپنے خود کش بمبار بن جانے کا فوری علم بھی نہیں ہوتا بلکہ جب گھر کے باہر پولیس یا طبی امداد والے عملے کی ٹی پوں ٹی پوں کرتی گاڑیوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں اور پورا محلہ سیل کیا جا رہا ہوتا تب جاکر پتا چلتا ہے کہ ہم اپنی ذرا سی غفلت کی وجہ سے نہ صرف ایک بلا کو اپنے جسم کے ساتھ چمٹائے چمٹائے پھر رہے ہیں بلکہ صرف ایک ہماری وجہ سے کتنی جانیں عذاب بن چکی ہیں۔
ماہریں کے تجزیے کے مطابق ایک ایسا فرد جو کورونا کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ کم از کم تین افراد کو کورونا زدہ کر دیتا ہے۔ پھر وہ تین افراد مزید تین تین افراد کو یعنی 9 افراد کو کورونا زدہ کر دیتے ہیں۔ اس طرح حساب لگاتے جائیں تو پھر اس بات کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہوجائے گا کہ چند ہی گھنٹوں میں ایک فرد سے یہ وبا نکل کر کتنے افراد کو گرفتارِ بلا کر کے رکھ سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو عام افراد کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی آسانی کے لئے اگر کچھ ضروری کاروبار کھولنے کی اجازت دے بھی دی گئی ہے تو عام افراد ساری ضروری احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ سماجی فاصلوں کو بر قرار رکھنے کا خیال نہیں رکھتے اور اشیائے ضروریہ کی خریداری کے موقع پر ایک ہجوم کی صورت اختیار کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے کسی وقت بھی یہ بد احتیاطی اور نہ سمجھی کسی بڑی مصیبت کا سبب بن سکتی ہے۔
علمائے کرام یا وہ افراد جو نمازوں اور دیگر عبادات کا اہتمام بہت پابندی سے کیا کرتے تھے، ان کو مساجد کے بند کیے جانے کا جتنا بھی درد اور احساس ہو وہ کم ہے۔ جس خالق نے ہمیں پیدا کیا ہے کیا ہم اس خالق کا شکر بھی نہ بجا لائیں اور اپنی مساجد کو تالا لگا کر بیٹھ جائیں، یہ ایک نہایت تکلیف دہ احساس ہے جس کی وجہ سے وہ خریداری یا امدادی مراکز پر ہجوم دیکھنے کے بعد حکومتِ پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کیا صرف مساجد میں جمع ہونے سے ہی کورونا پھیلے گا۔ اگر اس بات پر غور کیا جائے تو ان کی یہ لاجک کوئی ایسی بھی نہیں جو خلافِ عقل ہو لیکن سچی بات یہ ہے کہ بے شک بازاروں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی طور درست نہیں لیکن کسی غلط بات کو جواز بنا کر وہی کام خود اختیار کرلینے سے وہ کام درست نہیں ہو جایا کرتا۔
علمائے کرام کی حقیقی بے کیفی کے اظہار کے ساتھ ہی سوشل میڈیا ہو یا حکومتی ترجمان، جس کرخت، تلخ، بلکہ توہین آمیز انداز میں علمائے کرام کا جواب دیتے ہیں اور جس انداز میں مساجد کو آباد دیکھنے کے خلاف زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ بھی کسی لحاظ سے پسندیدہ نہیں۔ اس میں زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ پبلک مقامات اور خریداری کے مراکز میں جو جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ان کے خلاف ان کا رویہ کبھی توہین آمیز نہیں ہوا جس سے پاکستان میں پہلی مرتبہ عام اور حکومتی سطح پر مولویوں کی آڑ میں اسلام دشمنی کا جو تاثر ابھر رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کا یہ عذاب شاید ہی ٹل سکے۔
جو آنکھیں، حج، عمرہ اور نمازوں کی ادائیگی کی رکاوٹیں دیکھ کر بھی نم آلود نہیں ہو رہیں، ان آنکھوں اور پتھر کی آنکھوں میں فرق ہی کیا ہے۔ مجھے عبادتوں کی قضا کا دکھ نہیں اس لئے کہ ایسا کرنے کی اجازت میرا دین دیتا ہے لیکن لوگوں کے دلوں کا پتھر بن جانا خون کے آنسو رلا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام پتھر دلوں کو موم کردے تاکہ وہ علما کی آڑ میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرنے سے باز رہیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے ہمیں اور پوری دنیا کے انسانوں کو محفوظ رکھے (آمین) ۔

