عبادت گاہوں کو قتل گاہیں مت بنائیں
صدر پاکستان نے علمائے کرام سے مشاورت کے بعد رمضان المبارک میں نمازوں، نماز جمعہ اور نماز تراویح کے اہتمام کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ بیس نکاتی اعلامیے میں بیشتر ایسے نکات شامل ہیں جن کا کما حقہٗ پورا ہونا، نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی، کے مصداق ہے۔ ریاست اور حکومت اگر بار دیگر مذہبی رومانویت کے سامنے لم لیٹ ہو گئی ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ آج کے اس فیصلے پر اس لیے کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ یہ فیصلہ بھی کورونا جیسے سنجیدہ اور خطرنا ک مسئلے پر موجودہ حکومت کے ان تمام فیصلوں کا آئینہ دار ہے جن میں قطعیت کی جگہ تذبذب اور دو ٹوک انداز کے بجائے مضحکہ خیزی اور غیر یقینی صورت حال پائی جاتی ہے۔
اس فیصلے کا طفلانہ اور لا ابالی پن اسی بات سے ہویدا ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم پندرہ مئی کے بعد کورونا وائرس کے حملے میں شدت کا اعلان فرما رہے ہیں اور دوسری طرف جناب صدر رمضان المبارک میں مساجد اور امام بارگاہوں کو کھولنے کی اجازت مرحمت فرما رہے ہیں۔ ہم ایسے وقت میں جوش ایمانی کا مظاہرہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں جب پوری دنیا سخت ترین لاک ڈاٶن کی زد میں ہے اور مسجد الحرام و مسجد نبوی سمیت دنیا کی تمام مساجد بند کی جا چکی ہیں اور اس سال حج بھی موقوف کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بر صغیر ہندو پاک میں رہنے والے علمائے کرام کا فہم دین ہمیشہ ہی سے ایسا ہی رہا ہے۔ کبھی ہمارے اکابر علمائے کرام ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر دشمن کی تعداد، طاقت، سامان حرب اور جدید انسانی علوم میں ترقی کا اندازہ لگائے بغیر تحریک جہاد شروع کر دیتے ہیں جو بری طرح ناکامی پر منتج ہوتی ہے اور کبھی معاصر سیاسی حالات و تقاضوں کا ادراک کیے بغیر ولولہ انگیز تقریروں سے سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر کے انہیں غلامی سے نجات دلانے کے لیے افغانستان کے سنگلاخ کہساروں اور طوفانی برف زاروں کی طرف ہانک دیتے ہیں جہاں ہزاروں کلمہ گو غلامی سے تو خیر کیا آزاد ہوتے البتہ قید حیات و بند غم سے ضرور آزاد ہو جاتے ہیں۔
کبھی کوئی سیّد محمد جونپوری مہد ئی وقت کا نعرہ بلند کرتا ہے اور سیکڑوں جذباتی مسلمانوں کو اپنے عقیدے کا ایندھن بنا کر بھسم کر دیتا ہے۔ کبھی کوئی سیّد احمد شہید حالات کی درست نباضی نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جماعت کے اندرونی اختلافات اور بیرونی مزاحمتوں کی وجہ سے ہزاروں سر فروشوں سمیت بالا کوٹ کے پہاڑوں میں بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے۔
دور کیوں جائیں، تحریک طالبان اور داعش نے جہاد کے نام پر جس طرح پوری دنیا میں مسلح کارروائیاں کر کے بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے یہ سب ان کے اسی شدت پسندانہ فہم دین کا شاخسانہ ہے جس نے تمام مسلمانوں کو بدنام کر دیا۔ صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت اور مولانا عبدالعزیز اور غازی عبدالرشید کی لال مسجد کی تحریک تو ابھی کل کی بات ہے جس میں ریاست کو مداخلت کر نا پڑی تھی۔ ہندوستان کی تاریخ ایسے خونیں واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں ہمارے علمائے کرام کے فہم دین کے نتیجے میں مسلمانوں کو ابتلا و آزمائشوں کے کوہ گراں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس زمانے میں تو چلیں ہندوستان کے بیشتر حصوں پر انگریزوں اور دوسری غاصب طاقتوں کا قبضہ تھا اس لیے اس طرح کی معرکہ آرائیوں اور کارروائیوں کی پھر بھی کوئی گنجائش نکالی جا سکتی تھی مگر آج تو الحمدللہ! پاکستان میں ایک مربوط اور مضبوط نظم اجتماعی قائم ہے۔ ریاست کی رٹ بحال ہے۔ پارلیمنٹ، مققنہ، عدلیہ، فوج اور میڈیا کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل نامی ایک ادارہ بھی قائم ہے جس کا کام ہی یہی ہے کہ وہ ایسے متنازعہ فیہ معاملات کا خوش اسلوبی سے حل نکالے۔ اس کے باوجود ریاست و حکومت کا ایک ایسی عبادت (تراویح) کے لیے علمائے کرام کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنا جو فرض یا واجب تو کجا سنت عبادت بھی نہیں، سمجھ سے بالاتر ہے۔
آج پاکستان کو بد ترین اور ان دیکھے دشمن کا سامنا ہے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اس نازک وقت میں آگے بڑھ کر حکومت کا ساتھ دیں اور کورونا کے شدید خطرے کے پیش نظر لوگوں کو گھروں میں نمازیں پڑھنے اور اعتکاف بیٹھنے کی ترغیب دیں مگر وہ الٹا حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر عبادت گاہوں کو قتل گاہوں میں بدلنے پر بضد ہیں۔ پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد مساجد ہیں اگر ہر مسجد میں اوسطاً پچاس نمازی بھی نماز کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں تو یہ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ ان نمازیوں میں اگر چند سو بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تو ملک بھر میں کتنی بڑی تباہی آئے گی یہ سوچ کر ہی خوف آنے لگتا ہے۔
میں پاکستان کا ایک شہری ہونے کے ناتے جناب وزیر اعظم، صدر صاحب، آرمی چیف اور چیف جسسٹس سے صرف یہ پوچھنا چاہوں گا کہ حالیہ فیصلے سے اگر کورونا وائرس بے قابو ہو کر سر عام موت کا رقص شروع کر دیتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ ہم کس کے نصیبوں کو روئیں گے؟


