کورونا وائرس، لاک ڈاؤن اور وکلا برداری

لاک ڈاؤن کی زد میں ملک بھر کی عدالتیں بھی آئی۔ اِس سلسلہ میں صرف ”ضروری نوعیت“ کے معاملات کو دائر کرنے اور سننے کی اجازت دی گئی ہے۔ بڑے بڑے شہروں جہاں سینکڑوں جج صاحبان دیوانی و فوجداری مقدمات کی سماعت کرتے اور ہزاروں وکلاءاِن مقدمات کی پیروی کرتے تھے اب وہاں ایک درجن سے بھی کم جج صاحبان بطورِ ڈیوٹی جج اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اِس عرصہ کے دوران جج صاحبان جوکہ سرکاری ملازم ہیں بغیر کام کرکے بھی تنخواہ لے رہے ہیں، مگر وکلاءکی بہت بڑی تعداد بیروزگاری کے عالم میں اِس لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کررہی ہے۔ چند بار ایسوسی ایشنز اوربار کونسلوں نے بھی اپنی برادری کے لئے ”ریلیف فنڈز“ کا قیام عمل میں لاتے ہوئے وکلاءکی مالی معاؤنت کی ہے۔ اِسی طرح لاہور بار ایسوسی ایشن نے اپنی مدد آپ کے تحت چند مخیر ممبران اور دوسرے ذرائع کے تعاون سے ایک ”ریلیف فنڈز“ کے ذریعے اپنے سینکڑوں ممبران کی اِس مشکل وقت میں مدد کی مگر اِس موقع پر پنجاب بار کونسل نے اپنی ہی وکلاءبرداری سے ”سوتیلی ماں“ جیسا سلوک کیا ہے۔
اِسی تناظر میں کابینہ لاہور بار ایسوسی ایشن نے وائس چیئرمین پنجاب بارکونسل کو ایک خط تحریر کیا ہے۔ جس میں کابینہ نے اپنی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بارکونسل کے اربابِ اختیار کوایک بہترین تجویزدی ہے کہ Benevolent فنڈکی خطیر رقم جوکہ بارکونسل کے پاس امانتاً موجود ہے۔ اِس رقم میں سے ہر وکیل کوفی کس ایک لاکھ روپے بطور قرضِ حسنہ اقساط میں واپسی کی شرط کے ساتھ دیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بارکونسل اِس تجویز پر کتنا عمل کرتی ہے۔
ویسے یہ پنجاب بارکونسل کے الیکشن 2020۔ 25 کابھی سال ہے جس میں ممبران کا انتخاب ”ہر وکیل“ اپنے ووٹ کی طاقت سے کرتا ہے اور یہ الیکشن ہر پانچ سال بعد ہوتے ہیں۔ موجود ہ ممبران کی ایک بڑی تعداد اپنی ”سابقہ کارکردگی“ کی بنیاد پر دوبارہ الیکشن میں حصہّ لینے کی خواہش مند نظر آرہی ہے۔ اگراِن ممبران سے اُن کی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ بذریعہ ”نوٹس“ کوئی ایسا حکم صادر فرمادیتے ہیں کہ کوئی بھی اِن سے کسی قسم کا سوال یا آڈٹ کروانے کا مطالبہ کرنے کی جرات ہی نہیں کرتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے 17 اپریل کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت 20 اپریل سے ماتحت عدالتوں میں ”ضروری نوعیت“ کے معاملات کے ساتھ اب ہر قسم کے مقدمات کی ”صرف دائرگی“ ہوسکے گی، آئندہ کے ڈیوٹی روسٹر میں خواتین ججوں کا نام بھی شامل ہوگا، کام کی نوعیت میں اضافہ ہونے کے سبب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ ڈیوٹی ججوں کی تعدادبھی بڑھا دیں اور دورانِ سماعت کسی بھی کمرہ ِ عدالت میں چھ سے زائد وکلاءصاحبان کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
میری ذاتی رائے میں لاک ڈاؤن کے دوران ”الیکڑانک میڈیا“ کے منفی کردار نے کورونا وائرس کے معاملہ میں کافی خوف و ہراس پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص ”مالی مسائل“ کا شکارہوگیا ہے۔ اِسی طرح وکلاءبرادری بھی اِن حالات میں کافی متاثر ہوئی ہے۔ جن کی دادرسی حکومتِ وقت بھی کرنے سے قاصر ہے جبکہ اِس کے برعکس موجودہ حکومت ”صحافی تنظیموں“ کی مکمل مالی معاونت کرنے میں مصروف عمل ہے۔
آخر میں، میں اپنے منتخب نمائندو ں سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اِس مشکل گھڑی میں اپنے برداری کی آواز بنیں گے اور اپنے ”سفید پوش“ ساتھیوں کی مالی معاؤنت کا فریضہ بھی سرانجام دیں گے اوراِس کے ساتھ ساتھ بہت ہی جلد ملک بھر میں عدالتی نظام دوبارہ بحال کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ جس سے اللہ پرتوکل رکھنے والوں کا پیشہ یعنی ”وکالت“ دوبارہ فعال ہوجائے گا۔ انشاءاللہ

