بگ برادر دیکھ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فائیو جی، یعنی ففتھ جنریشن موبائل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، مستقبل کے جنگی منظر نامے کو تبدیل کرنے جا رہی ہے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی کے آ جانے سے مستقبل کی جنگیں اور سائبر سیکیورٹی کا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا اور یہی اصل لڑائی ہے۔ یہ کورونا کی نہیں، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور چین کے درمیان، نا صرف ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی جنگ ہے بلکہ یہ معاشی اور سیاسی غلبے کی بھی جنگ ہے۔

وہ ممالک جو پہلے فائیو جی لانچ کر لیں گے، انہیں اربوں آلات کو باہم مربوط کرنے اور جدید موبائل انفراسٹرکچر پر نئی خدمات کی تعمیر سے جو معاشی فوائد حاصل ہوں گے، اس سے وہ معاشی دوڑ میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ اس حوالے سے یہ معیشت کی جنگ ہے۔ فائیو جی نیٹ ورک انفراسٹرکچر میں متعدد اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں، جن میں سیل فون سروس پروائیڈر، موبائل نیٹ ورک سپلائیرز، سیکیورٹی کنٹریکٹرز، ٹرانسمیشن کا سامان بنانے والے مینو فیکچرر اور اسی طرح مواد فراہم کرنے والے ہیں اور آخر میں سیل فون صارفین جن کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ ان صارفین تک پہنچنے کی جنگ ہے۔

سیل فون ٹیکنالوجی کے ماضی کے اعداد و شمار دیکھیں تو ان کی فاتح کمپنیاں امریکن تھیں۔ جیسے موبائل کیریئر اور ہینڈسیٹ پروڈیوسر، نوکیا اور ایرکسن (ٹو جی)، اسمارٹ فون بنانے والے، خاص طور پر، ایپل اور آن لائن کمپنیاں جو اِن آلات پر صارفین تک پہنچتی ہیں۔ جیسے ایمازون یا گوگل۔ تھری جی، فور جی سے مختلف نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ فائیو جی کے آنے سے، آپس کی کنکٹیویٹی میں اضافے سے متوقع طور پر جو 2 ٹریلین ڈالر، جس کا مطلب ہے دو ہزار ارب ڈالر کا کاروبار، یہ اُس حصے کے جنگ ہے کہ اِس کیک میں سب سے بڑا حصہ کون لے گا۔ یہ حصہ صرف صحت کی دیکھ بھال، مینو فیکچرنگ، ٹرانسپورٹ اور رٹیلیر کی حد تک ہے، جب کہ دیگر فوائد الگ ہیں۔

31 مارچ کو الیکٹرانکس کی سب سے بڑی چینی کمپنی ہوواے نے گزشتہ سال کی سالانہ آمدنی میں 19 فی صد اضافے کی اطلاع دی ہے، جو 121 بلین ڈالر ہے۔ اس نے 2019 ء میں امریکی سپلائیرز کے ساتھ امریکی ساز و سامان خریدنے میں 19 بلین ڈالر خرچ کیے، جو پہلے کے مقابلے میں صرف 8 بلین ڈالر زائد ہیں۔

فائیو جی کو اپنانے والے ممالک سے توقع کی جارہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے والوں کے مقابلے میں وہ غیر متناسب معاشی فوائد حاصل کریں گے۔ یہ فوائد، وائرلیس ٹیکنالوجی کی سابق نسلوں کے ابتدائی طور پر اختیار کرنے والے ممالک نے جو معاشی فوائد حاصل کیے، ان سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کے حوالے سے ایک بہت بڑی ترغیب بننے والی ہے۔ معاشی فوائد حاصل کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لئے شہروں کے درمیان یہ ایک اہم تفریق بن جائے گی، جہاں یہ سہولیات موجود نہیں ہوں گی۔

امریکی اتحادیوں نے امریکا کی، انٹلیجنس کے بہاؤ کو ختم کرنے کی، دھمکیوں کے باوجود چینی کمپنیوں خاص طور پر ہووائے کو اپنے نیٹ ورک سے خارج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جب کہ ان میں سے صرف تین ممالک آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے امریکا کے اس حکم کی تعمیل کی ہے۔ یہاں تک کہ برطانیہ جو سیکیورٹی معاملات میں امریکا کا سب سے قریبی شراکت دار ہے، نے بھی جنوری میں اپنے کیریئرز کو ملک کے کچھ حصوں میں ہواوے کٹس استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی کیریئرز نے اپنے آلات کو چھوڑ کر دس ہزار چینی فائیو جی بیس اسٹیشن لگائے ہیں۔ کچھ لاک ڈاون نے اور کچھ کانسپریسی تھیوریوں کی وجہ سے مغربی ممالک میں تنصیب کے عمل کو سست کیا ہے۔ جب کہ چینی کیریئرز نے اپنے نیٹ ورکس کو، دیڑھ لاکھ بیس اسٹیشنوں تک بڑھایا ہے اور 2020 ء کے آخر تک 330 شہروں میں 10 لاکھ سے زائد بیس اسٹیشن لگانا چاہتے ہیں۔ مچھلی کے سر کا آخری سرا یہ موبائل نیٹ ورکس ہی ہیں۔

فائیو جی کے حوالے سے مارکیٹ میں بہت ساری کانسپریسی تھیوریاں موجود ہیں، ان میں کچھ درست بھی ہوں گی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کانسپریسی تھیوریاں کیوں موجود ہیں؟ فائیو جی کے خلاف پراپیگنڈے کی وجہ یہ بھی ہے کہ چین اس ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل گیا ہے اور اس نے تجرباتی طور پر درجنوں شہروں میں اس کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ جب کہ امریکا اس معاملے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

فائیو جی کو اپنانے والے ممالک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی غیر متناسب شرح سے معاشی فوائد حاصل کریں گے۔ جیسا کہ وائرلیس ٹیکنالوجی کی سابق نسلوں کو ابتدائی طور پر اختیار کرنے والوں نے معاشی فوائد حاصل کیے تھے۔ فائیو جی کے ممکنہ معاشی فوائد بہت جلد شہریوں کے کاروبار اور قیام گاہوں کو راغب کرنے اور ان کو برقرار رکھنے کے لئے ایک اہم تفریق بن جائیں گے۔

اس دوڑ میں چین سب سے آگے ہے، لیکن ایک چیز واضح ہے، ریاست ہائے متحدہ امریکا نہیں چاہتا کہ اس ریس کا فاتح چین بن جائے۔ اس طرح فائیو جی کی جنگ تجارتی سے زیادہ، جغرافیائی سیاست کی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ نے امریکا اور چین کے درمیان ایک شدید قسم کا تناؤ پیدا کیا ہے، کیوں کہ اس معاملے میں فائیو جی ٹیکنالوجی نے امریکا کی معاشی اور جنگی، دونوں محاذوں پر برتری ڈانواں ڈول کر دی ہے۔

ایک ایسے وقت میں کہ جس میں تجارت، ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں اثر و رسوخ، باہم مربوط لیکن مختلف محاذوں پر سلامتی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور پچھلے پورے سال ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی امریکا چین ٹریڈ وار، چین کاہائی ٹیک پاور کے طور پر ابھرنا اور اس پس منظر میں پچھلے سال چینی کمپنیوں خاص کر ہوواوئے، جو دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کا سامان فراہم کرنے والی کمپنی ہے، کے خلاف بد ترین الزامات کی بہتات اور شدید ترین تنازِع، عین اس وقت، جب کورونا کی وبا اچانک ووہان میں پھوٹتی ہے اس کا دنیا بھر میں پھیلائے جانے کا ذمہ دار چین کو ٹھہرایا جانا اور چین کے خلاف شدید قسم کا پراپیگنڈا کرنا؛ یہ پس منظر یہ جواز فراہم کرتا ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اصل لڑائی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی جنگ ہے، جس میں چین، امریکا کو مات دے چکا ہے۔

زیادہ تر لوگوں کے نزدیک، فائیو جی نیکسٹ جنریشن نیٹ ورکس، آج کے جدید ترین نیٹ ورکس سے کم از کم 20 گنا زیادہ تیز رفتار ہو گا۔ عام پبلک کے نزدیک اس کا مطلب فلموں کی تیز ترین ڈاؤن لوڈنگ یا ہم وار اسٹریمنگ ہو سکتی ہے۔ جب کہ ریاستی سطح پر ان ممالک کے پاس اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے اور ڈیٹا کو آگے پہنچانے کی اس سے کہیں زیادہ صلاحیت کا موجود ہونا ہے۔ جہاں موجودہ ٹیلی کم نیٹ ورکس لوگوں کو لوگوں سے مربوط کرتے ہیں، وہیں نیٹ ورکس کی یہ اگلی نسل، جدید مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرہ پہچاننے والے سافٹ ویئر، سینسر، روبوٹ اور ڈیوائس کے وسیع نیٹ ورک کو مربوط کرنے کا کام انجام بھی دے رہی ہو گی۔ اگلی نسل کے جدید نیٹ ورکس سے چیزوں کو چیزوں سے بذریعہ انٹرنیٹ جوڑنا؛ رئیل ٹائم میں، انسانی مداخلت کے بغیر، ڈیٹا کا نا صرف وسیع مقدار میں تبادلہ کر سکنا، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ”کمیونیکیٹ“ کرنا بھی بہت زیادہ آسان ہو جائے گا۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کی مدد سے اگر طرف فیکٹریاں خود کار طریقے سے چل رہی ہوں گی تودوسری طرف لوگ گھر بیٹھے آن لائن کام کر رہے ہوں گے۔ تمام تر کارروبار آن لائن ہو رہے ہوں گے اور متعلقہ ڈیٹا فوری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر ہو رہا ہو گا۔ لوگوں کی اکثریت آن لائن چیزیں خرید بھی رہی ہو گی اور بیچ بھی رہی ہو گی۔ نئی چیز جو ہونے جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ چیزوں کو خریدینے سے پہلے خریدار ہالو گرافک سسٹم کے ذریعے چیزوں کا باریک بینی سے معائنہ بھی کر رہے ہوں گے۔

اس طرح ان لائن چیزیں خریدنے میں جو دشواری ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ ہارڈ کیش کی بجائے تمام کاروباری ٹرانزکیشن سافٹ کیش میں ہو رہی ہوں گی۔ اگر ہیلتھ کیئر کا معاملہ دیکھیں تو دور بیٹھ کر، دوسرے ممالک سے، نہ صرف مریضوں کا معائنہ کیا جا سکے گا بلکہ فاصلاتی سرجری بھی کی جا سکے گی۔ اس دوران میں روبوٹ آپ کے لئے کھانا بھی تیار کر رہے ہوں گے اور ڈرائیوروں کے بغیر گاڑیاں چل رہی ہوں گی۔ مقامی طور پر اَرلی وارننگ سسٹم آپ کو آندھی، بارش، طوفان، لینڈ سلائڈنگ، ٹریفک جیم وغیرہ، حتی کہ کسی وبا کے قبل از وقت پھیلنے کے متعلق آپ کو مطلع بھی کر رہے ہوں گے۔ ایسی چیزیں جو پہلے صرف سائنس فکشن میں موجود تھیں، فائیو جی ٹیکنالوجی کی بدولت اَب ممکن ہونے جا رہی ہیں اور ایک ہی نیٹ ورک کے ذریعے یہ سب کچھ ساری دنیا میں بیک وقت سر انجام دیا جا رہا ہو گا۔

دریں اثنا، فوجی ماہرین اسے مستقبل کی فوجی ٹیکنالوجی کا اہم سنگ میل گردان رہے ہیں۔ اب جنگوں کا منظر نامہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔ مثال کے طور کسی جنگل میں شر پسندوں کے ساتھ کسی ایک ٹیم کا تصادم ہو جاتا ہے جو جنگل میں کوئی تحقیقی کام سر انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک شخص کے پاس موجود ڈیوائس انہیں نہ صرف ساتھیوں کی پوزیشن کو ظاہر کر رہی ہو گی بلکہ ان کے درمیان مواصلات کے سسٹم کو بھی قائم کیے ہوئے ہو گی۔ ان کی پوزیشنگ مصنوعی سیارے یا گوگل میپ کی کی رہین منت نہیں ہو گی، یہ مشین سے مشین کی مواصلت کی ایک مثال ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

One thought on “بگ برادر دیکھ رہا ہے

  • 20/04/2020 at 9:17 am
    Permalink

    یونس خان صاحب کی ایک اور شاندار تحریر خان صاحب ہمیشہ منتخب اشوز پر لکھتے رہتے ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خان صاحب کافی اپ ٹو ڈیٹ رہتے ہیں۔خان صاحب کہ وہ کچھ لکھتے ہیں جو باقی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں اس کی تازہ مثال خان صاحب کا یہ آرٹیکل بھی ہے

Leave a Reply